افغانستان اور روس کے درمیان عسکری اور تزویراتی شراکت داری جنوبی اور وسطی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں طالبان کی 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد رونما ہونے والی اہم ترین پیشرفت ہے۔ کابل اور ماسکو کے درمیان طے پانے والا فوجی و تکنیکی تعاون کا معاہدہ اور افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف کی ملاقات واضح اشارہ ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن اور سیاسی صف بندی کا نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ جو تعلقات کبھی سفارتی روابط تک محدود تھے اب وسیع تر دفاعی اور سکیورٹی شراکت داری میں تبدیل ہو رہے ہیں جس کے اثرات پاکستان، وسطی ایشیا اور خطے پر مرتب ہوں گے۔ روس کا طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینا کوئی اچانک فیصلہ نہیں۔ ماسکو نے سیاسی رکاوٹیں دور کرتے ہوئے طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کیا اور طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والی پہلی بڑی طاقت بن گیا۔ اس اعتراف نے تجارت، انسدادِ دہشت گردی، سلامتی، سفارت کاری اور اب عسکری تعاون کیلئے دروازے کھول دئیے ہیں۔ اس اسلحہ اور عسکری تعاون کے معاہدے کے پیچھے کئی اہم تزویراتی مقاصد کارفرما ہیں۔ سب سے پہلا مقصد داعش خراسان جیسے شدت پسند گروہوں کے اثر و رسوخ کو وسطی ایشیا اور روسی حدود تک پھیلنے سے روکنا ہے۔ روسی قیادت متعدد مواقع پر داعش کے خلاف طالبان کی کارروائیوں کو سراہ چکی ہے اور کابل کے ساتھ سکیورٹی تعاون بڑھانے پر زور دیتی رہی ہے۔ دوسرا مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والے جغرافیائی و سیاسی خلا کو پُر کرنا ہے۔ روس سمجھتا ہے کہ کابل میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا کر وہ ایک ایسے خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے جسے وہ قومی سلامتی کیلئے اہم تصور کرتا ہے۔ تیسرا اہم عنصر افغانستان کے وسیع معدنی ذخائر ہیں جن میں لیتھیم، تانبا اور نایاب معدنیات شامل ہیں۔ ایک مستحکم افغان حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات روس کیلئے مستقبل میں معاشی فوائد اور تزویراتی رسائی کا ذریعہ بنیں گے۔ طالبان افغانستان پر کنٹرول کے باوجود اب بھی سفارتی تنہائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ روس کے ساتھ عسکری تعاون کابل کو جدید ہتھیاروں، فوجی تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر سیاسی حمایت تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ معاہدہ دنیا کیلئے پیغام ہے کہ افغانستان اپنی خارجہ پالیسی میں تنوع پیدا کر رہا ہے۔ طالبان حکومت مختلف طاقتوں کیساتھ تعلقات استوار کر کے اپنی سفارتی حیثیت مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
پاکستان کیلئے اہم ہے کہ آیا روس کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ہتھیار مستقبل میں پاکستان کیخلاف استعمال ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ یہ خدشہ مکمل طور پر بے بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات گزشتہ چند برس کے دوران نمایاں طور پر کشیدہ ہوئے ہیں۔ سرحدی تنازعات، تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں، سرحد پار سے حملے اعتماد کے فقدان کو بڑھا چکے ہیں۔ پاکستان بارہا افغان سرزمین سے سرگرم عسکریت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر تشویش کا اظہار کر چکا ہے، ایسے میں افغانستان کی عسکری صلاحیتوں میں کسی بھی قسم کا اضافہ فطری طور پر اسلام آباد کیلئے تشویش کا باعث ہے۔ روس کا بنیادی مقصد بظاہر افغانستان اور پاکستان کے درمیان محاذ آرائی کو فروغ دینا نہیں بلکہ انسدادِ دہشت گردی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔ روس پاکستان کیساتھ قابلِ عمل تعلقات رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ پاک افغان عدم استحکام پورے خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دفاعی مقاصد کیلئے فراہم کیا جانے والا عسکری سازو سامان مستقبل میں طاقت کے توازن اور تزویراتی حساب کتاب کو متاثر کر سکتا ہے۔ کابل اور اسلام آباد کے تعلقات مزید خراب ہوتے ہیں تو دہشت گردی کے خلاف استعمال کیلئے فراہم کیے گئے ہتھیار بھی بالواسطہ طور پر پاکستان کے سکیورٹی ماحول پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس معاہدے کے اثرات صرف افغانستان اور پاکستان تک محدود نہیں ہیں بلکہ خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایک نئے علاقائی نظام کے ابھرنے کی عکاسی کرتی ہے جہاں بڑی طاقتیں مغربی دنیا کی ہچکچاہٹ کے باوجود طالبان حکومت کے ساتھ روابط بڑھا رہی ہیں۔ روس کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنا اور پھر دفاعی تعاون کو وسعت دینا دیگر ممالک کو بھی کابل کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ اس طرح افغانستان بتدریج علاقائی سفارتی اور معاشی ڈھانچوں میں دوبارہ شامل ہو سکتا ہے۔ افغانستان عالمی سطح پر زیادہ مربوط اور مضبوط ہو جاتا ہے تو پاکستان کی وہ حیثیت کمزور پڑ سکتی ہے جو افغانستان کیلئے بیرونی دنیا تک رسائی کے اہم دروازے کے طور پر سمجھی جاتی تھی۔ اس سے افغان معاملات میں اسلام آباد کا اثر و رسوخ محدود ہو سکتا ہے۔ روسی شمولیت افغانستان میں استحکام پیدا کرنے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کیخلاف کارروائیوں کو مو¿ثر بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان بھی بہتر علاقائی سلامتی کی صورت میں اسکے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ افغانستان پاکستان کیساتھ تعاون کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی کا۔
روس، چین اور افغانستان کے درمیان ابھرتے ہوئے سہ فریقی تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماسکو اور بیجنگ وسطی ایشیا میں شدت پسندی، عدم استحکام اور مغربی اثر و رسوخ کے حوالے سے مشترکہ خدشات رکھتے ہیں۔ افغانستان وسیع تر یوریشیائی رابطہ کاری کے منصوبوں، تجارتی راہداریوں اور توانائی کے نیٹ ورکس کا حصہ بنتا ہے تو خطے کا تزویراتی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ پاکستان ان بدلتی ہوئی صف بندیوں کا باریک بینی سے جائزہ لے اور اپنی معاشی، سفارتی اور سلامتی کی ترجیحات کو نئے حالات کے مطابق ترتیب دے۔ افغانستان اور روس کے درمیان اسلحہ اور فوجی تعاون کا معاہدہ محض ہتھیاروں کی خرید و فروخت کا معاملہ نہیں بلکہ جغرافیائی و سیاسی تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ معاہدہ افغانستان کی سفارتی تنہائی سے نکلنے کی نشاندہی کرتا ہے اور روس کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ افغانستان میں اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر یہ خدشہ قبل از وقت معلوم ہوتا ہے کہ روسی ہتھیار پاکستان کیخلاف استعمال ہوں گے، لیکن اسلام آباد اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتا کہ عسکری طور پر مضبوط افغانستان ایسے وقت میں ابھر رہا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ پاکستان افغانستان کیساتھ فعال سفارت کاری، مو¿ثر سرحدی نظم و نسق، علاقائی تعاون اور اعتماد سازی پر توجہ مرکوز رکھے۔ جنوبی ایشیا کا مستقبل صرف ہتھیاروں کے تبادلے سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہو گا کہ خطے کی ریاستیں مسابقت کو تعاون میں اور تنازع کو شراکت داری میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں۔ علاقائی طاقتیں مشترکہ سلامتی اور اقتصادی ترقی کو ترجیح دیں تو یہی معاہدہ مستقبل میں استحکام کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے، لیکن اگر افغانستان کی طرف سے بداعتمادی اور محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا تو یہ پیش رفت نئے تزویراتی چیلنجز کو جنم دے گی۔