پاکستان کی سیاست میں نوجوان ہمیشہ ایک دلکش نعرہ رہے ہیں، مگر شاذ ہی وہ کسی مربوط، مستقل اور نتیجہ خیز قومی پالیسی کا حصہ بن سکے۔ ہر حکومت نوجوان کو مستقبل کا معمار قرار دیتی ہے، مگر یہ معمار آج بھی اوزار، نقشہ اور راستہ مانگ رہا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا حالیہ بیان، جس میں انہوں نے نوجوانوں کی ہنر مندی، تعلیمی قابلیت اور استعدادِ کار میں اضافے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا، نیک نیتی کا مظہر ضرور ہے۔ چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان سے ملاقات، یوتھ پروگرام اور لیپ ٹاپ سکیم پر بریفنگ، اور ان اقدامات پر اظہارِ اطمینان،یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت مسئلے سے باخبر ہے۔ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت جانتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ جاننے کے بعد بھی عمل میں تاخیر کیوں ہے؟۔
پاکستان اس وقت ایک مکمل معنوں میں ”نوجوان ملک“ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق آبادی کا تقریباً 64 فیصد حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جبکہ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ وہ انسانی سرمایہ ہے جس پر چین، ویت نام، بنگلہ دیش اور ملائیشیا جیسے ممالک نے اپنی معاشی ترقی کی بنیاد رکھی۔ مگر پاکستان میں یہی نوجوان آبادی یا تو بے روزگاری کی دلدل میں پھنسی ہے یا مایوسی کے عالم میں ملک چھوڑنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ ”ڈیموگرافک بونس“ ہمارے لیے بوجھ کیوں بنتا جا رہا ہے؟
تعلیم کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو تصویر مزید تلخ ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں تقریباً دو کروڑ سے زائد بچے اور نوجوان سکول سے باہر ہیں۔ اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح خطے کے دیگر ممالک سے نمایاں طور پر کم ہے۔ سرکاری جامعات بجٹ کی قلت کا شکار ہیں، تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ نجی تعلیمی ادارے متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ ڈگری یافتہ نوجوان بھی روزگار کے قابل نہیں رہتا اور صنعت کو شکایت ہے کہ انہیں مطلوبہ ہنر رکھنے والی افرادی قوت دستیاب نہیں۔یہی خلا ہنر مندی کے شعبے میں بھی نظر آتا ہے۔ پاکستان ہر سال تقریباً 20 لاکھ نوجوان لیبر مارکیٹ میں شامل کرتا ہے، مگر دستیاب روزگار کے مواقع اس کے نصف بھی نہیں۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ٹریننگ کے ادارے ضرور موجود ہیں، مگر ان کا صنعت سے ربط کمزور، نصاب فرسودہ اور نتائج محدود ہیں۔ اسی خلا کا نتیجہ ہے کہ نوجوان ملک میں مواقع نہ پا کر جان خطرے میں ڈال کر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ایف آئی اے اور بین الاقوامی اداروں کے مطابق گزشتہ چند برس میں ہزاروں پاکستانی نوجوان انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کا شکار ہو چکے ہیں۔ یہ محض ہجرت نہیں، یہ نظام سے مایوسی کا اعلان ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی سطح پر نیت کی کمی کا تاثر بھی مکمل طور پر درست نہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ نوجوانوں کو قومی ترقی کے عمل میں مرکزی کردار دیا جائے۔ ان کے بیانات میں یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ ملکی سلامتی صرف سرحدوں سے نہیں، معیشت، تعلیم اور نوجوان کی شمولیت سے جڑی ہے۔ اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نوجوانوں کی اس قوت سے پوری طرح واقف دکھائی دیتی ہیں۔ پنجاب میں سکالرشپس، انٹرن شپ پروگرامز، سکل ڈویلپمنٹ اور نوجوانوں کے لیے مختلف منصوبے اسی سوچ کا اظہار ہیں۔
تو پھر سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ رکاوٹ کہاں ہے؟ اگر وزیراعظم، عسکری قیادت اور صوبائی سطح پر سیاسی قیادت نوجوانوں کی اہمیت پر متفق ہیں تو عملی پیش رفت کیوں سست ہے؟ اس سوال کا ایک تلخ مگر ناگزیر جواب بیوروکریسی کے کردار میں پوشیدہ ہے۔ پالیسی فائلوں میں دفن ہو جاتی ہے یا برسوں گردش کرتی رہتی ہیں اور زمینی حقائق یا تو مسخ ہو کر پیش کیے جاتے ہیں یا مکمل طور پر نظر انداز کر دیئے جاتے ہیں۔ فیصلہ سازی میں تاخیر، بین الوزارتی کشمکش اور احتساب کے فقدان نے نوجوانوں کے بیشتر منصوبوں کو محض اعلانات تک محدود کر رکھا ہے۔نوجوانوں کو کاروبار کی طرف راغب کرنے اور ان کی سرپرستی کے لئے پاکستان اکنامک موونٹ جیسی تنظیموں سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔
ایک اور بڑی رکاوٹ مربوط حکمتِ عملی کا فقدان ہے۔ یوتھ پروگرام الگ، تعلیم کی پالیسی الگ، صنعت کی ضروریات الگ اور روزگار کی منصوبہ بندی الگ،جب تک ان سب کو ایک قومی فریم ورک میں نہیں جوڑا جائے گا، نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ لیپ ٹاپ دینا بذاتِ خود بری بات نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ لیپ ٹاپ کے بعد نوجوان کیا کرے گا؟ کیا اس کے پاس مہارت ہے؟ کیا مارکیٹ میں اس کے لیے جگہ ہے؟ کیا اسے رہنمائی اور مواقع میسر ہیں؟کھیل اور ثقافت جیسے شعبے تو گویا پالیسی سازوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔ پاکستان میں فی کس کھیل کے میدانوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ لائبریریاں بند ہو رہی ہیں، تھیٹر اور ثقافتی مراکز ناپید ہیں۔ نتیجتاً نوجوان کی توانائی یا تو سوشل میڈیا کی انتہاو¿ں میں ضائع ہو جاتی ہے یا منفی سرگرمیوں کی طرف مڑ جاتی ہے۔ یہ صرف سماجی مسئلہ نہیں، قومی سلامتی کا سوال بھی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوانوں کے معاملے میں جذباتی تقاریر سے آگے بڑھا جائے۔ وزیراعظم کو چاہیے کہ نوجوانوں کے لیے ایک واضح، قابلِ پیمائش اور وقت سے جڑی قومی پالیسی کی ہدایت دیں۔ ایسی پالیسی جس میں اہداف طے ہوں، ذمہ داریاں واضح ہوں اور ہر چھ ماہ بعد کارکردگی کا جائزہ لیا جائے۔ بیوروکریسی کو سہولت کار بنایا جائے، رکاوٹ نہیں۔ نجی شعبے، جامعات اور نوجوانوں کو خود اس عمل میں شامل کیا جائے۔پاکستان کا نوجوان ملک کے لیے کام کرنا چاہتا ہے، وہ خیرات نہیں، کاروبار کاموقع مانگتا ہے۔ اگر ریاست نے اس موقع کو بروقت فراہم نہ کیا تو یہ نوجوان یا تو ملک چھوڑ دے گا، یا نظام سے ٹکرا جائے گا۔ انتخاب اب بھی ہمارے ہاتھ میں ہے کہ نوجوان کو نعرہ بنائے رکھیں یا واقعی اسے مستقبل کا معمار بنا دیں۔