Wed, September 16, 2026

اسلام کا معاشی تصور

اسلام کا معاشی تصور

دور حاضر کے سود پر مبنی معاشی نظام نے انسانیت کے اندر تفریق پیدا کی ہے، غریب غریب تر ہوا اور امیر مزید امیر ہوتا چلا گیا خصوصاً سرمایہ دارانہ معاشی نظام دنیا بھر میں رائج  ہے، اس کے کئی منفی اثرات ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "اسلام کا معاشی تصور" میں دور حاضر کے سود اور سرمایہ دارانہ نظام کا حل پیش کیا ہے پہلے میں آج کے معاشی مسائل کی مختصر بات کروں گا پھر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتب ’’اسلام کا معاشی تصور‘‘ سے دور حاضر کے معاشی مسائل کا حل پیش کروں گا۔
آکسفیم کی 2023 رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 1فیصد امیر ترین افراد دنیا کی نصف سے زیادہ دولت کے مالک ہیں، عالمی بینک کے مطابق، دنیا کے 10 فیصد امیر ترین افراد، دنیا کی 76فیصد دولت پر قابض ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام میں روزگار کے مواقع دولت مندوں کے ہاتھ میں ہوتے ہیں، جو مزدوروں کو کم اجرت پر ملازمت دیتے ہیں تاکہ منافع زیادہ ہو, سرمایہ دارانہ نظام میں سودی قرضے معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں، جو معاشرے کے غریب طبقات کو قرض کے جال میں پھنسا دیتے ہیں، معاشرتی بے چینی اور اخلاقی زوال سرمایہ دارانہ نظام میں انسان کو صرف "صارف" سمجھا جاتا ہے، جس سے مادہ پرستی، نفس پرستی اور اخلاقی انحطاط بڑھتا ہے۔ اس طرح اگر پاکستان کی بات کی جائے قومی بجٹ کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں صرف ہوتا ہے، مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں سود کی ادائیگیوں کے لیے 9,800 ارب روپے مختص کیے گئے، جو کل بجٹ کا تقریباً 52فیصد بنتا ہے۔ حکومتی آمدنی کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ ہوتا،  عالمی بینک کے مطابق، مالی سال 2025 میں پاکستان میں غربت کی شرح 42.3 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
اسلام محض ایک عبادات پر مبنی مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ روحانیت ہو یا معیشت۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے اسلام کے معاشی نظام کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اجاگر کیا اور سرمایہ داری و اشتراکیت کے مقابلے میں ایک متوازن، منصفانہ اور اخلاقی معاشی نظام پیش کیا۔ ان کے نزدیک اسلامی معیشت انسانیت کو استحصال سے نجات دلاتی ہے اور فلاح و انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرتی ہے۔ سید مودودیؒ کے مطابق اسلامی معیشت کی بنیاد تین بنیادی اصولوں پر ہے، جس میں توحید (اللہ کی حاکمیت)، عدل (انصاف)، اخوت (بھائی چارہ)، ان اصولوں کی روشنی میں معیشت کو محض مادی مفادات کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اخلاقی ذمہ داریوں کا مظہر بھی گردانا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک دولت کا مقصد صرف ذاتی آسائش نہیں بلکہ معاشرے کی مجموعی بھلائی ہے۔ اسلام نہ تو سرمایہ دارانہ نظام کی طرح مکمل انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اشتراکیت کی طرح ہر چیز کو ریاست کی ملکیت قرار دیتا ہے۔ سید مودودیؒ کے مطابق اسلام میں ذاتی ملکیت افراد کو جائز طریقوں سے دولت کمانے اور اسے اپنے تصرف میں لانے کی آزادی ہے، بشرطیکہ وہ دوسروں کے حقوق کو پامال نہ کریں۔ ریاستی ملکیت میں بعض وسائل، جیسے معدنیات، پانی، جنگلات وغیرہ کو ریاست کے اختیار میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ پوری قوم کی فلاح کے لیے استعمال ہوں۔ اجتماعی ملکیت وہ اشیاء جو پوری قوم کے لیے مشترکہ طور پر استعمال ہوتی ہیں، جیسے سڑکیں، پل وغیرہ۔
سید مودودیؒ آزادیٔ معیشت کے قائل ہیں لیکن اس پر اسلامی اخلاقیات اور شریعت کی حدود عائد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ہر قسم کی کمائی جائز نہیں ہو سکتی۔ مثلاً سود (ربا) اسلامی معیشت میں سود قطعی طور پر ممنوع ہے کیونکہ یہ استحصال اور ظلم کی بنیاد ہے۔ اسی طرح جوا یہ دولت کی غیر یقینی تقسیم کا ذریعہ ہے جو سماجی عدم توازن پیدا کرتا ہے۔ حرام کاروبار میں شراب، قمار، فحش مواد وغیرہ کی تجارت کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی معیشت میں دولت کا بہاؤ شفاف، منصفانہ اور پاکیزہ ذرائع سے ہونا چاہیے۔ سید مودودیؒ نے اسلامی فلاحی ریاست کے قیام پر زور دیا۔ ان کے نزدیک زکوٰۃ صرف انفرادی عبادت نہیں بلکہ معاشی نظام کا اہم ستون ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے دولت کی گردش یقینی بنتی ہے اور غریبوں، مسکینوں، مقروضوں اور محتاجوں کی مدد کی جاتی ہے۔ معاشرتی برابری کو فروغ ملتا ہے۔ اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ زکوٰۃ کو مؤثر نظام کے تحت جمع کرے اور مستحقین تک پہنچائے۔ سید مودودیؒ کے مطابق محنت انسانی معاشرت کا ستون ہے، اور اسلام محنت کرنے والے کو عزت اور برابری کا مقام دیتا ہے۔ وہ مزدوروں کے حقوق کے بھرپور حامی تھے، ان کے مطابق اجرت کا تعین انصاف، مساوات اور باہمی رضا مندی کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف مارکیٹ فورسز کے تابع ہو۔
سید مودودیؒ نے اسلامی بینکاری کے تصور کی بنیاد رکھی۔ ان کا ماننا تھا کہ موجودہ سودی بینکاری نظام اسلامی اصولوں سے متصادم ہے۔ اس کے متبادل کے طور پر وہ شراکت، مضاربہ، اجارہ، سلم وغیرہ جیسے اسلامی مالیاتی اصولوں کو فروغ دیتے تھے۔ ان کے افکار نے بعد میں اسلامی بینکاری کی تحریک کو جنم دیا۔ سید مودودیؒ نے سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظاموں دونوں کو غیر اسلامی قرار دیا ہے، سرمایہ دارانہ نظام چند ہاتھوں میں دولت کی مرکزیت، طبقاتی فرق اور استحصال کو جنم دیتی ہے۔ اشتراکیت پر مبنی نظم انفرادی آزادی سلب کرتی ہے اور مذہب کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اسلام ان دونوں انتہاؤں سے ہٹ کر ایک معتدل، اخلاقی اور مساوات پر مبنی معاشی نظام پیش کرتا ہے۔ سید مودودیؒ کے مطابق اسلامی معیشت کا مقصد صرف دولت کا اضافہ یا جی ڈی پی میں ترقی نہیں، بلکہ معاشرتی انصاف کا قیام, غربت کا خاتمہ, انسانی وقار کا تحفظ, اخلاقی تطہیر جیسی خصوصیات رکھتا ہے
اسلامی نظام معیشت انسان کو "عبد" کے درجے پر فائز کرتا ہے، جہاں وہ دولت کا غلام نہیں بلکہ اس کا نگران (امین) ہوتا ہے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا معاشی تصور نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مکمل اور جامع ہے بلکہ انسانی فطرت، عدل، اخلاقیات اور روحانیت پر بھی مبنی ہے۔ ان کا معاشی نظام سرمایہ پرستی اور مادہ پرستی کے فتنوں سے بچاتا ہے اور معاشرے میں فلاح، بھائی چارے اور توازن کو فروغ دیتا ہے۔ آج کے معاشی بحرانوں سے نکلنے کے لیے ہمیں ان کے پیش کردہ اصولوں کو نہ صرف سمجھنا بلکہ عملاً نافذ کرنا ہوگا۔

ٹیگز: