Wed, September 16, 2026

بلوچستان میں ڈیتھ سکواڈ کے نام پربیگناہ افرادکا قتل

بلوچستان میں ڈیتھ سکواڈ کے نام پربیگناہ افرادکا قتل

بھارت معرکہ حق ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ میں پاکستانی مسلح افواج کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کھانے کے بعد تاحال تڑپ رہا ہے، اپنی خفیہ ایجنسی راء کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے اپنی پروردہ کالعدم تنظیموں جن میں خصوصاً بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ و دیگر شامل ہیں، کو پہلے سے زیادہ ہتھیار اور مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا اس دہشت گردی کو ’’آزادی کی جنگ‘‘ بتا کر اور ان دہشت گردوں کو جنگجو بنا کر پیش کر رہا ہے۔ بھارت پراکسی جنگ کو پاکستان کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے جس کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ خضدار میں سکول بس سانحہ سے لیکر جعفر ایکسپریس پر دہشت گر د حملوں میں بھارت براہ راست ملوث ہے، جس کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ معصوم نہتے شہریوں، خواتین اور بالخصوص معصوم بچوں کو نشانہ بنانا انتہائی گھنائونا فعل ہے اور ان واقعات کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ فتنہ الہندوستان کے زیر سرپرستی چلنے والی کالعدم تنظیموں نے بلوچستان میں گذشتہ سترہ ماہ میں 75 نہتے معصوم اور بے گناہ افراد کو جن میں مقامی بلوچ اور غیر مقامی پنجابی مزدور بھی شامل تھے کو بربریت کا نشانہ بنایا اور ان کو ’’ڈیتھ سکواڈ‘‘ کارندہ ظاہر کرتے ہوئے باقاعدہ ان کے قتل کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ جو کہ انسانی خونریزی کی ایک سنگین اور بدترین مثال ہے۔ مگر ان دلخراش سانحات پر نہ تو بلوچ یکجہتی کمیٹی، نہ ہی انسانی حقوق کی دعویدار پانک، نہ ہی ریاستی اداروں کے خلاف ہمہ وقت پراپیگنڈا کرنے والی بلوچ نیشنل موومنٹ اورنہ ہی وائس فار بلوچ مسنگ پرسن جیسی کسی تنظیم نے احتجاج کیا، اور نہ ہی ماہ رنگ لانگو، سمی دین بلوچ، صبیحہ بلوچ، ماما قدیر، ڈاکٹر نسیم بلوچ، جمال بلوچ اور مولانا ہدایت الرحمن جیسے ملک دشمن ایجنٹوں کے منہ سے ان کالعدم تنظیموں کی سفاکیت، درندگی اور حیوانیت پر ایک لفظ نکل سکا۔ جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کون بلوچیت کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے، کون ڈالروں کے لیے معصوم بلوچوں کے قاتلوں کی سہولت کاری کر رہا ہے؟ حالانکہ جن افراد کو ’’ریاستی مخبری‘‘ کے الزام میں قتل کیا گیا ان میں کسی کا ریاستی ادارے سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ان میں اکثر دوسرے صوبوں سے روزی روٹی کمانے آئے ہوئے مزدور شامل تھے، جن کو نسلی اور لسانی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا۔ گذشتہ سال 13-03-2024 سے اب تک دلشاد، سکن ماچی مالار اور راشد حکیم، خالد لاشاری، زاہد، شاہد، نعیم کوہی، فضل، سخی داد اور سخی احمد، امان، عدنان، فہد، جلال، عبدالرسول، میر عبدالحفیظ مینگل، معروف عالم دین مفتی شاہ میر، میر ایوب ملازئی، رسول بخش، محمد شریف، حلیم، عبدالغفار، مرتضیٰ علی، نصیر، عباس، بشیر بلوچ اور مراد بی ایل ایف کی دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ خادم حسین، پرویز احمد، نصیب اللہ کے علاوہ نوشکی میں چار افراد کو بی ایل اے آزاد نے جبکہ عبدالطیف، ملا عامر، زبیر عابد، ناصر کریم، امان، نقیب اللہ مینگل، سلیم بلوچ، خان محمد، اشرف سلام، نادر یلازئی، نصیر الدین، تکری ڈوڈا، حاتم رحمان، قاسم رئیسانی، انیس بنگلزئی، شاکر، طارق، ریاض، غلام جان، محمد عارف، سراج جتوئی، جمیل، کامران، دشتی خان، اسرار، مقصود، امان اللہ، مجاہد، صوفی محمد، عبید کرد، لال جان مزاری، مرید کے علاوہ پنجگور ڈیم میں سات افراد، تربت دھماکہ میں پانچ مقامی بلوچ کو بی ایل اے نے نشانہ بنایا۔ واضح رہے کہ یہ محض 75 افراد نہیں بلکہ 75 خاندان تھے۔ جنہیں بغیر کسی جرم کے مار دیا گیا، مگر اس ظلم و بربریت پر فتنہ الہندوستان کے ایجنٹوں نے نہ تو راستے بند کر کے کوئی احتجاج کیا اور نہ ہی دھرنا دیا بلکہ ام الفساد ’’ماہ رنگ لانگو‘‘ اور اس کے حواریوں کی زبانوں پر آبلے پڑ گئے۔ واضح رہے کہ بلوچ عوام ان غداروں کے اصل چہروں کو پہچان چکے ہیں۔ اور ان کا ریاست مخالف بیانیہ زمین بوس ہو چکا ہے۔

ٹیگز: