پنجاب کی سیاسی اور انتظامی تاریخ میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں، لیکن کسی بھی دور کی کامیابی کا حقیقی پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس نے عام آدمی کی زندگی کو کس حد تک آسان اور بااختیار بنایا ہے۔ فروری 2024 میں جب مریم نواز شریف نے پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا، تو ان کے سامنے چیلنجز کا ایک پہاڑ تھا۔ معاشی عدم استحکام، مہنگائی، زراعت کی بدحالی اور صحت و تعلیم کے گرتے ہوئے معیار جیسے مسائل صوبے کو گھیرے ہوئے تھے۔ لیکن محض دو سال سے کچھ زائد کے عرصے میں، انہوں نے اپنے غیر روایتی وژن، سخت گورننس اور انتھک محنت سے پنجاب کو ترقی اور خوشحالی کے ایک ایسے نئے راستے پر گامزن کر دیا ہے جہاں نعرے کم اور عملی اقدامات زیادہ نظر آتے ہیں۔
پنجاب بنیادی طور پر ایک زرعی صوبہ ہے اور یہاں کی معیشت کا دارومدار کسان پر ہے۔ مریم نواز شریف نے اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے صوبے کی تاریخ کے سب سے بڑے زرعی پیکج کا آغاز کیا۔ ان کا حالیہ اعلان، جس کے تحت پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار کسانوں کو 3 سالوں میں 50 ہزار ٹریکٹرز فراہم کیے جا رہے ہیں، ایک ایسا تاریخی اقدام ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اس تعمیری وژن کا دوسرا بڑا شاہکار "کسان کارڈ" سکیم ہے۔ کسان کارڈ کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کو سالانہ 150 ارب روپے کے بلا سود قرضے فراہم کیے گئے ہیں، جس سے اب تک مجموعی طور پر 360 ارب روپے کے قرضے جاری ہو چکے ہیں۔ اس اسکیم کی شفافیت اور کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان قرضوں کی واپسی (Recovery) کی شرح 99 فیصد رہی ہے۔ کسانوں نے اس رقم کا 80 فیصد حصہ کھاد اور معیاری بیجوں کی خریداری کے لیے استعمال کیا، جس کی بدولت فصلوں کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا صحت کا وژن صرف بڑے شہروں میں ہسپتال بنانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کا نعرہ ہے کہ "ہسپتال خود مریض کے پاس جائے گا"۔ اس سوچ کے تحت شروع کیا گیا "کلینک آن ویلز" اور "فیلڈ ہسپتال" کا
نیٹ ورک دیہی اور پسماندہ علاقوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ سینکڑوں موبائل ہیلتھ یونٹس روزانہ کی بنیاد پر غریب بستیوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں مریضوں کو مفت طبی معائنہ، ادویات اور تشخیصی ٹیسٹ کی سہولیات ان کے گھر کے دروازے پر ملتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، مریم نواز شریف نے پنجاب ہیلتھ کارڈ کو نئے سرے سے منظم اور فعال کیا ہے تاکہ غریب خاندانوں کو دل کے آپریشن، ڈائلیسس اور کینسر جیسے مہنگے علاج کے لیے اپنی جائیدادیں نہ بیچنی پڑیں۔ ائیر ایمبولینس سروس کا آغاز بھی ان کا ایک مونو مینٹل اقدام ہے، جس کے ذریعے دور دراز علاقوں سے حادثات کے شکار مریضوں کو فوری طور پر بڑے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
مریم نواز شریف نے اس ضرورت کو سمجھتے ہوئے "اپنی چھت، اپنا گھر" ہاو¿سنگ اسکیم کا آغاز کیا۔ اس اسکیم کے تحت حکومت پنجاب شہری علاقوں میں 1 سے 5 مرلہ اور دیہی علاقوں میں 1 سے 10 مرلہ زمین رکھنے والے افراد کو مکان کی تعمیر کے لیے 15 لاکھ روپے تک کے بلا سود قرضے فراہم کر رہی ہے۔
انفراسٹرکچر کسی بھی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے "سڑکیں بحال، پنجاب خوشحال" اور "مریم نواز کا سونا پنجاب" جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے صوبے کے طول و عرض میں سڑکوں اور سیوریج کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا شروع کیا ہے۔ ان کے ترقیاتی پلان کے تحت پنجاب کے 51 سے زائد شہروں میں اربوں روپے کی لاگت سے سیوریج لائنوں کی مرمت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سڑکوں کی کارپٹنگ کا کام ریکارڈ مدت میں مکمل کیا جا رہا ہے۔دیہاتوں کو شہروں سے جوڑنے کے لیے 20,000 کلومیٹر سے زائد نئی سڑکوں کی تعمیر اور 440 ماڈل ویلیجز کا قیام دیہی عوام کے معیارِ زندگی کو شہروں کے برابر لانے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔
انہوں نے پنجاب میں آئی ٹی سٹی (IT Cities) کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے تاکہ صوبے کا ٹیلنٹ بین الاقوامی سطح پر اپنی خدمات پیش کر سکے اور ملک کے لیے زرِ مبادلہ کما سکے۔ ہونہار اور مستحق طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم کی بحالی، تعلیمی وظائف کا دائرہ کار بڑھانا اور سرکاری اسکولوں کی اپ گریڈیشن ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی نے ان میں روزگار مانگنے کے بجائے روزگار دینے کا جذبہ پیدا کیا ہے۔
مریم نواز شریف نے پاکستان کی پہلی جامع ماحولیاتی پالیسی متعارف کرائی ہے۔ اسموگ کے خاتمے کے لیے اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کرنا، فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے کسانوں کو سپر سیڈرز کی فراہمی اور صوبے کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم ان کے ماحول دوست اقدامات کا حصہ ہیں۔ بڑے شہروں میں ماحول دوست ای-بسیں (E-Buses) چلانے کا فیصلہ بھی فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
مریم نواز شریف کی مینجمنٹ کا سب سے مضبوط پہلو ان کا سخت مانیٹرنگ سسٹم ہے۔ وہ صرف دفاتر میں بیٹھ کر احکامات جاری نہیں کرتیں، بلکہ ضلعی انتظامیہ اور کمشنرز کو فیلڈ میں نکل کر کام کرنے کا پابند بناتی ہیں۔ میرٹ کی بالادستی، اقربا پروری کا خاتمہ اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں سخت مالیاتی ڈسپلن ان کی حکومت کی پہچان بن چکا ہے۔
آخر میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف صاحبہ، جہاں آپ کی کسان دوست، غریب پرور اور انقلابی پالیسیاں پورے پنجاب میں ستائش کی نگاہ سے دیکھی جا رہی ہیں، وہیں لاہور کے ہزاروں محنت کش صحافی آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ لاہور کے صحافیوں کے لیے دیرینہ منصوبہ "جرنلسٹ ہاو¿سنگ کالونی فیز ٹو" طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ہے، جس کی وجہ سے رات دن عوام کی آواز اٹھانے والے قلم کار آج بھی اپنے بچوں کے ہمراہ کرائے کے مکانات میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ صحافی برادری آپ سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ جس طرح آپ نے "اپنی چھت، اپنا گھر" اسکیم کے تحت لاکھوں غریبوں کو سہارا دیا ہے، اسی طرح صحافیوں کے اس فیز ٹو پروجیکٹ کو بھی اپنی اولین ترجیحات میں شامل فرما کر اس کی فوری منظوری اور زمین کی الاٹمنٹ کے احکامات جاری کریں۔