گزشتہ دنوں دنیا کی بعض مشہور جامعات میں کچھ شعبے مکمل طور پر بند کر دئیے گئے۔ ان میں برطانیہ اور چائنا کی یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔ بوسٹن یونیورسٹی نے ایک درجن سے زائد پی۔ایچ۔ڈی پروگرام بند کیے ہیں۔برطانیہ کی کارڈف یونیورسٹی نے 2025 میں اپنے مالی بحران، بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث جامع اصلاحاتی منصوبہ Academic Futures متعارف کرایا۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 400 تدریسی و تحقیقی ملازمتوں میں کمی کی تجویز دی گئی اور کئی شعبوں اور ڈگری پروگراموں کو بند یا ضم کرنے پر مشاورت بھی شروع کی گئی۔ کنگسٹن یونیورسٹی نے ہیومنیٹیز کے کئی پروگرام بند کر دئیے ہیں۔چائنا نے جو پروگرامز بند کیے ہیں ان کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ چین نے 2021 کے بعد سے 12200 پروگرامز بند کر دئیے لیکن اس کے ساتھ ہی 10200 نئے پروگرامز بھی شروع کر دئیے۔ اس حوالے سے بہت سے طلبہ، اساتذہ اور محققین الجھن کا شکار نظر آ رہے ہیں۔ میرے خیال سے ترقی یافتہ ممالک بہت تیزی سے ایک نئی اور جدید ترین دنیا کی تعمیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں وہ تمام رکاوٹوں یا غیر ضروری امور سے جان چھڑانا چاہتے ہیں جو ان کی خالص ترقی کی راہ میں آتے ہیں۔ بہت سے پروگرامز اور بہت سے پراجیکٹس ایسے ہیں جن پر قوموں کی ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ دوسری جانب دیکھا جائے تو ان پروگرامز اور پراجیکٹس کی پیداوار خاطر خواہ نظر نہیں آتی نہ ہی ان کا آج کی دنیا سے کوئی براہ راست اور گہرا تعلق قائم ہو پاتا ہے۔ سو ان کی بجائے ماہرین نے نئے اور امکانات سے بھرپور شعبوں کی طرف اپنے وسائل کو موڑ دیا ہے۔ بہت سے ادارے روایتی فنون اور بعض سماجی علوم کے پروگرام محدود کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، سائبر سکیورٹی، روبوٹکس، بایو ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھا رہے ہیں۔ میری مراد یہ نہیں ہے کہ پاکستان میں جاری لڑکھڑاتے ہوئے پروگرام بھی بند کر دئیے جائیں یا ترقی اور جدت کے نام پر تعلیمی اداروں میں تالے لگا دئیے۔ لیکن میں اس جانب ضرور توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ ہم آنے والے دور کے لیے کس حد تک خود کو تیار کر چکے ہیں؟ ہم اب تک اپنے روایتی پروگراموں کے نصاب سے ہی مطمئن نہیں ہو پائے اور نہ ہی اس کے قابل قبول ہونے پر کوئی اتفاق ہو پایا۔ ایسے میں جب ہم اپنی مجموعی حالت پر غور کرتے ہیں تو صورتحال ترقی یافتہ ممالک سے دکھائی دیتی ہے۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً ڈھائی کروڑ سے زائد بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں، جبکہ مجموعی شرح خواندگی تقریباً ساٹھ فیصد کے آس پاس ہے۔ تعلیم پر قومی سرمایہ کاری بھی کئی برس سے مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً دو فیصد یا اس سے کم رہی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتیں اس شعبے میں کہیں زیادہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ڈگری تو حاصل کر لیتی ہے لیکن عالمی منڈی میں مطلوب مہارتوں سے محروم رہتی ہے۔ اگر ہم اقوام عالم کے ساتھ چلنا یا ان سے آگے نکلنا چاہتے ہیں تو اب پاکستان میں نالج کاریڈور کا قائم ہونا اور پھر اس کا تسلسل سے کام کرتے رہنا بہت ضروری ہے۔ اگر ملک میں تعلیم پر بھرپور سرمایہ کاری نہ کی گئی تو ہم کسی اور قوت یا اثاثے کے بل بوتے پر دنیا کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔
2040 تک پاکستان کو ایسا ہونا چاہیے کہ ہر بچہ معیاری تعلیم حاصل کر سکے ہر نوجوان کم از کم ایک عالمی معیار کی فنی یا ڈیجیٹل مہارت رکھتا ہو، ہر یونیورسٹی تحقیق اور تخلیق کا مرکز ہو، اور ہر استاد قومی تعمیر کا فعال کردار ادا کر رہا ہو۔ یہی وہ تعلیمی ماڈل ہے جو پاکستان کو امداد لینے والی معیشت سے علم برآمد کرنے والی معیشت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ اب نہ تو ریسرچ روایتی انداز میں پیش کی جا سکتی ہے اور نہ ہی کوئی تخلیقی سرگرمی ماضی کے وضع کردہ طریقوں سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ مشینی ٹولز نے ہر عمل کی رفتار کو تیز ترین کر دیا ہے اور عہد حاضر میں وہی قوم آگے بڑھ سکتی ہے جو تیزی سے تبدیلی کو قبول کرنے، تبدیل ہونے اور تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
تعلیم صرف نصاب کا نام نہیں بلکہ قوموں کے مستقبل کا منصوبہ ہوتی ہے۔ دنیا کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے اور وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ اگر پاکستان نے آنے والی نسلوں کو مصنوعی ذہانت، تحقیق، اختراع اور عالمی مسابقت کے لیے تیار نہ کیا تو ہم صرف ماضی کی کامیابیوں پر فخر کرتے رہ جائیں گے۔ لیکن اگر ہم آج تعلیم کو قومی ترجیح بنا دیں تو آنے والا پاکستان آبادی کے بوجھ کے بجائے انسانی صلاحیتوں کی طاقت سے دنیا میں اپنی ایک نئی شناخت قائم کر سکتا ہے۔
آخری بات یہ کرتا چلوں کہ پاکستان کو تیز رفتار لیکن محتاط انداز میں ترقی کی راہوں کو اپنانا ہو گا۔ سیاق و سباق اور معروضی حالات سے صحیح طور پر واقفیت کی بنیاد پر تدریجی انداز میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے تا کہ ہمارا ملک جدید علم کی تخلیق کی بدولت دنیا میں آگے بڑھ سکے۔