Wed, September 16, 2026

افغان حکومت کا پاکستان اور چین سے تعمیری اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا مطالبہ

افغان حکومت کا پاکستان اور چین سے تعمیری اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا مطالبہ

اسلام آباد :افغانستان کی عبوری حکومت نے پاکستان اور چین کے ساتھ مثبت، باہمی احترام پر مبنی اور مضبوط روابط کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سے دونوں ممالک کے نمائندوں کی ملاقات کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہی گئی۔

بیان میں کہا گیا کہ کابل میں ہونے والی ملاقات کے دوران سراج الدین حقانی نے خطے میں تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی و سیاسی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔ ملاقات میں پاکستان کے محمد صادق اور چین کے یو شیاویونگ نے شرکت کی، جو سہ فریقی مذاکراتی عمل کا حصہ ہے جو 2017 سے جاری ہے۔

اعلامیہ کے مطابق، چینی اور پاکستانی نمائندوں نے افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات اور تعاون جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا اور فیصلہ کیا گیا کہ وزرائے خارجہ کی اگلی سہ فریقی میٹنگ کابل میں ہوگی۔

پاکستانی سفیر نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات کا مقصد پچھلے مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لینا، آئندہ اجلاس کی تیاری اور سہ فریقی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

افغان وزیر خارجہ سے تبادلہ خیال
کابل میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بھی چینی اور پاکستانی ایلچیوں سے ملاقات کی۔ اس گفتگو میں گذشتہ سال اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں سہ فریقی اجلاس پر عملدرآمد اور چھٹے اجلاس کی تیاریوں پر بات چیت ہوئی۔

پچھلے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگرد گروہوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ ٹی ٹی پی اور ای ٹی آئی ایم وغیرہ۔

تجارتی روابط کی بہتری پر زور
ملاقات کے دوران پاکستانی اور چینی نمائندوں نے افغان وزیر تجارت نورالدین عزیزی سے بھی گفتگو کی، جس کا مقصد سہ فریقی تجارتی تعلقات کو بڑھانا، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کو راغب کرنا تھا۔

وزارت کے بیان کے مطابق، صنعتی پارکس، اسپیشل اکنامک زونز، برآمدی مراکز، تجارتی میلوں اور بینکنگ روابط جیسے اہم شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نورالدین عزیزی نے دونوں ملکوں کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی امارت کی معیشت پر مبنی پالیسی کے تحت ہم مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستانی اور چینی وزرائے تجارت کو دورۂ افغانستان کی دعوت بھی دی تاکہ باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

ٹیگز: