Wed, September 16, 2026

"ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" کی اسرائیل سے غزہ میں انسانی امداد کا کام جاری رکھنے کی اجازت دینے کی اپیل

غزہ : دنیا بھر میں انسانی خدمات فراہم کرنے والی معروف تنظیم "ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" (ایم ایس ایف) نے اسرائیل سے درخواست کی ہے کہ وہ تنظیم کو غزہ میں اپنے امدادی کام کی اجازت دے۔ تنظیم نے 2025 کے آخر میں اسرائیل سے دوبارہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 2026 میں غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بے گھر فلسطینیوں کی مدد کے لیے اسے کام کرنے کی اجازت دی جائے۔

ایم ایس ایف نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر رجسٹرڈ ہونے والی ان امدادی تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت دے، جو فلسطینیوں کے لیے طبی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے، اسرائیلی حکومت نے یکم جنوری 2026 سے غزہ میں ایم ایس ایف اور دیگر 37 امدادی تنظیموں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل نے ان تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کا ڈیٹا فراہم کریں، جسے اسرائیل اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے، جس میں فلسطینیوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

"ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز" نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اگر فلسطینیوں کا ڈیٹا اسرائیل کو دیا جاتا ہے، تو یہ ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ایسا اقدام انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے اداروں کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔ اسرائیل نے ایم ایس ایف اور دیگر تنظیموں کی غزہ اور مغربی کنارے میں رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے اسرائیلی حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ اس امدادی کام میں رکاوٹ نہ ڈالیں، اور انہیں فلسطینی عوام کو صحت کی خدمات فراہم کرنے کی اجازت دیں۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ تنظیمیں فلسطینیوں کا ڈیٹا فراہم کرکے بالواسطہ اسرائیل کے لیے مخبری کر سکتی ہیں، اور اگر ایسا نہ کیا تو یہ تنظیمیں مارچ 2026 سے فلسطینیوں کو علاج کی سہولت نہیں دے پائیں گی۔

ٹیگز: