Wed, September 16, 2026

پاکستان کی غزہ میں فوری امداد، ایندھن اور ضروری سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کی اپیل

پاکستان کی غزہ میں فوری امداد، ایندھن اور ضروری سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کی اپیل

نیویارک : پاکستان نے غزہ میں فوری امداد، ایندھن اور ضروری سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل کی اپیل کی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، عاصم افتخار نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ہونے والے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا غزہ کی موجودہ حالت کو مزید برداشت نہیں کر سکتی۔ فلسطینیوں کی اموات بھوک اور قحط کی وجہ سے ہو رہی ہیں اور یہ انسانیت کے لیے ایک سنگین بحران ہے۔"

عاصم افتخار نے اسرائیل کے قبضے کے خاتمے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ امن کے قیام کے لیے فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ امدادی نظام غزہ میں لوگوں تک مدد پہنچانے میں ناکام ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں امدادی کارکنوں سمیت 798 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے غزہ میں امدادی سامان کی کمی اور اس کی ناکامی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس وقت جو امداد غزہ پہنچ رہی ہے وہ نہایت کم اور ناقص ہے، اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق نہیں ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں دودھ کی فراہمی میں رکاوٹ اور بنیادی ضروریات کی کمی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس سے نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔

عاصم افتخار نے مزید کہا کہ غزہ میں ایندھن اور ادویات کی کمی بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے اسپتالوں، پانی و صفائی کے نظام، بیکریوں اور امدادی سرگرمیوں کا عمل شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 21 لاکھ کی آبادی کے لیے فوری طور پر امدادی سامان کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو یقینی بنائے اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق غزہ میں مدد فراہم کرے۔ عاصم افتخار نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ اگر امدادی نظام میں یہ تبدیلیاں نہ کی گئیں تو اس کے اثرات نہ صرف غزہ بلکہ مستقبل کے تنازعات میں بھی شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

ٹیگز: