Wed, September 16, 2026

دہشت گردوں کو دہشت گرد کہیں، بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں: رانا ثنا اللہ کا سینیٹ میں دبنگ خطاب

دہشت گردوں کو دہشت گرد کہیں، بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں: رانا ثنا اللہ کا سینیٹ میں دبنگ خطاب

اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے بلوچستان کے حالات پر پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے لیے 'ناراض' یا 'محروم' جیسے الفاظ کا استعمال بند ہونا چاہیے۔ سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک موقف اپنایا کہ بلوچستان میں حقوق کی کوئی تحریک نہیں بلکہ دشمن کے ایما پر ریاست کے خلاف جنگ چھیڑی گئی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے بلوچستان میں جاری تشدد کی لہر پر بات کرتے ہوئے چند اہم نکات اٹھائے۔انہوں نے کہاکہ  نشانہ بننے والے مسافر: انہوں نے کہا کہ جو لوگ بسوں سے اتار کر بے گناہ مسافروں کو ان کے بچوں کے سامنے قتل کرتے ہیں، وہ کسی طرح بھی 'ناراض' نہیں کہلا سکتے۔
 رانا ثنا اللہ نے سوال کیا کہ جعفر ایکسپریس حملے میں ملوث دہشت گردوں کی میتوں کو کوئٹہ ہسپتال سے کس نے قبضے میں لینے کی کوشش کی؟۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مٹھی بھر مجرمانہ گروہ ہیں جو محفوظ علاقوں میں بھی معصوم شہریوں کو یرغمال بنا لیتے ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے واضح کیا کہ بلوچستان میں ہونے والی تخریب کاری خالصتاً غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہے۔یہ لوگ دشمن کی ایما پر پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف کسی بھی 'اگر مگر' کے بغیر فیصلہ کن ایکشن ہونا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے یقین دلایا کہ حکومت ان عناصر کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کو ویسے ہی ذلت آمیز انجام سے دوچار کیا جائے گا جیسا کہ ماضی میں دشمنوں کو 'معرکہ حق' میں ملا تھا۔ اب ریاست کی پالیسی واضح ہے: دہشت گردوں کے ساتھ کوئی ابہام نہیں برتا جائے گا۔

ٹیگز: