لاہور/دبئی: پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سب سے بڑے معرکے پر منڈلاتے غیر یقینی کے بادلوں نے عالمی کرکٹ میں مالیاتی ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ پاکستان کی جانب سے روایتی حریف کے خلاف میدان میں نہ اترنے کے ممکنہ فیصلے سے 140 ارب پاکستانی روپے (50 کروڑ ڈالر) کا تجارتی حجم مٹی میں ملنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس نے آئی سی سی اور عالمی براڈکاسٹرز کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاک بھارت میچ محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک عظیم الشان معاشی انجن ہے۔ اس میچ کی کمرشل اہمیت کا اندازہ ان اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس میچ کے دوران صرف 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 25 سے 40 لاکھ بھارتی روپے تک وصول کی جاتی ہے، جو دنیا کے کسی بھی بڑے اسپورٹس ایونٹ کے موازنے میں سب سے زیادہ ہے۔ صرف اشتہارات کی مد میں ہونے والی آمدنی کا تخمینہ 9.2 ارب پاکستانی روپے ہے، جو میچ نہ ہونے کی صورت میں براہِ راست ڈوب جائے گی۔
آئی سی سی کا پورا ریونیو ماڈل اس ایک میچ سے حاصل ہونے والی بھاری بھرکم آمدنی پر ٹکا ہوا ہے۔ اگر یہ مقابلہ نہیں ہوتا تو اس کے اثرات کسی زنجیر کی طرح پوری کرکٹ دنیا کو متاثر کریں گے۔ میچ کی منسوخی کی صورت میں براڈکاسٹرز آئی سی سی سے اپنے بھاری معاوضے کی واپسی یا کٹوتی کا مطالبہ کریں گے۔
آئی سی سی اپنے ایسوسی ایٹ ممبرز کو جو ترقیاتی فنڈز فراہم کرتا ہے، اس ریونیو میں کمی کی وجہ سے ان کی ادائیگیاں شدید متاثر ہو سکتی ہیں۔ ٹکٹنگ، اسپانسرشپ ایکٹیویشن، ہوٹلنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کا 50 کروڑ ڈالر کا نقصان ٹورنامنٹ کے 'فنانشل سانچے' کو مکمل طور پر بدل دے گا۔
موجودہ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے آئی سی سی کے اعلیٰ حکام اس وقت سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس 'سونے کی چڑیا' (پاک بھارت میچ) کے بغیر ورلڈ کپ نہ صرف اپنی مالیاتی کشش کھو دے گا بلکہ عالمی کرکٹ کی معیشت کو بھی جھٹکا پہنچے گا۔