لندن/نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف 'فیصلہ کن جنگ' کے اعلان اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے عالمی منڈی میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ صدر کے خطاب کے چند ہی گھنٹوں بعد خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تجارت کے دوران خام تیل کی قیمتوں نے حالیہ مہینوں کی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے۔عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت 4 فیصد اضافے کے ساتھ 105 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 3 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ "امریکہ اب آبنائے ہرمز کی پہرے داری نہیں کرے گا" اور ایران کی تیل کی تنصیبات پر ممکنہ حملوں کی خبروں نے سپلائی چین کے حوالے سے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ اگرچہ صدر نے وینزویلا کے تیل کو متبادل کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن مارکیٹ ماہرین کا خیال ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم سے تیل کی ترسیل مکمل طور پر معطل ہو سکتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اس اچانک اضافے سے عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے طور پر سمندری راستے بند کیے گئے، تو تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، جس سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتیں شدید دباؤ کا شکار ہوں گی۔