Wed, September 16, 2026

یہ نہیں کہ محکمہ پولیس میں

یہ نہیں کہ محکمہ پولیس میں

اچھے ،ایماندار اوربا اخلاق آفیسر موجود ہی نہیں ، ہیں بالکل ہیں ،اور وہ نام چند ہی ہیں، ان کے نام یہاں اس لئے ظاہراور لکھ نہیں سکتا کیونکہ خوبیوں سے مالا مال آفیسر،تھانیدار اور سپاہی بْرائی سے محفوظ اورخدمت خلق میں مصروف رہ سکیں۔
پولیس کا بنیادی کام امن و امان قائم کرنا، لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کرنااور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔اس میں جرائم کی روک تھام، مجرموں کو پکڑنااور ٹریفک کے نظام کو منظم کرنا بھی شامل ہے تاکہ معاشرتی نظم و نسق برقرار رہے۔میرے نزدیک امن و امان قائم کرنامطلب یہ ہوگا ،معاشرے میں امن اور سکون برقرار رکھنا پولیس کی اولین ذمہ داری ہو گی۔جان و مال کے تحفظ کا مطلب یہ ہو گا ،شہریوں کی جان، مال، اور املاک کی حفاظت یقینی بنانا۔قانون کا نفاذسے مراد یہ ہوتا ہوگاقوانین کا نفاذ کروانا اور ان کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنا۔ جرائم پر قابو پانا میرے مطابق جرائم پیشہ سرگرمیوں کی روک تھام کرنا اور مجرموں کو گرفتار کرنا۔اور ہاں ٹریفک کا انتظام یہ ہوتا ہو گا سڑ کوں پر ٹریفک کو منظم کرنا، ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کروانا، اور حادثات کی صورت میں امداد فراہم کرنا،اور عوامی تحفظ کا مطلب میری نظر میں یہ ہو گاعوامی مقامات اور سرگرمیوں کی حفاظت کرنا۔ 
یہ تمام فرائض انجام پولیس عوامی حفاظت کے لیے اپنی خدمات انجام دیتی ہے اور سماجی استحکام کو برقرار رکھتی ہے لیکن یہاں کمپرومائزنگ کیوں اس کا جواب آج تک نہیں مل سکا۔ہمیشہ آئیں بائیں شائیں کر کے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔
انصاف وہ ہے جو نظر آئے،پنجاب بھر میں اسی لئے کھلی کچہریوں میں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، کسی پر پاپندی ہے اور کسی کو کھلی کچہری لگانے کی کھلی اجازت ہے۔انصاف کے تقاضے یہ ہیں کہ کوئی بھی شخص کھلی کچہری میں منہ اٹھا کر نہیں جا سکتا ،پہلے درخواست کو پڑھا جاتا ہے ،پرکھا جاتا ہے ،جانچا جاتا ہے اور پھر شاہی افسر کے سامنے درخواست رکھی جاتی ہے ، کہ ہن دسو کی حکم اے !
 شاہی افسر کی مرضی اور منشا کے مطابق شہری کی درخواست کوکھلی کچہری کا حصہ بنا یا جاتا ہے اورزیادہ تر ایسے شہری ہیں جن کویہ کہہ دیا جاتا ہے کل آنا ،تینوں دوبارہ ایتھے ویکھاں وی ناں ،یا پھر بتائیں گے وہ کیسے پتا چلے گا بھول جائیں ،اس طرح کے جملوں کا استعمال کرتے ہوئے حکم صادر فرما کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ 
اگر کسی پولیس ملازم کے خلاف درخواست ہے تو افسر کا عملہ اپنے طور پر بھی متاثرہ شہری کو بھگانے کی جرأت بھی کر لیتا ہے اور افسر کے سامنے وہ بھگایا بندہ دوبارہ پیش ہونے کی بیوقوفی بھی نہیں کرتا۔یہاں مجھے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی بات یاد آ گئی ،جو دل کو چھو لینے والی ہے کہتے ہیں کہ اگر ایک شخص تھانے جاتا ہے ،تھانیدار کو اپنا جائز مسئلہ بتاتا ہے ،تھانیدار نہیں سنتا اور وہ آدمی تھانیدار کو کہے کہ مجھے میری درخواست واپس دو میں تیرے صاحب دے کول جارہا ،اگر تھانیدار واپس بلا لے تو وہ افسر محکمہ میں رہنے کے قابل ہے اور جو تھانیدار یہ کہے کہ تو ں جا تو پھر اس کی محکمہ میں کوئی جگہ نہیں بنتی۔
ہمارے ملک میں انصاف تو نیست و نامود ہے لیکن اس کا تسلسل نا انصافی اور لاقانونیت کی صورت میں بڑے آب و تاب کے ساتھ موجود ہے جس کے نتیجے میں عدم تحفظ اور محرومی تھانوں میں جنم لیتی اور یہیں محروم طبقے کے خلاف ظلم و بربریت کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ مدعی کو ملزم اور ملزم کو مجرم سمجھنے والے پولیس کے اس طبقہ نے تھانوں کو وحشت اور دہشت کدہ بنا دیا۔شریف شہری کے لئے تھانے جانے کا تصور آج کے دور میں بننے والے اچھے تھانہ جات بھی فرق ختم نہ کر سکے۔مدعی سے ملزم ثابت کرنے کے لئے کسی خود ساختہ جرم میں پابند سلاسل کیا جاسکتا ہے۔ لوگوں کے پولیس کے بارے اس قسم کے خدشات من گھڑت کہانیاں یا مفروضے نہیں بلکہ پولیس کی سنگین اور پرْ تشدد کارکردگی سب کے نوٹس میں ہے جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔
پچھلے کئی مہینوں سے یہ بھی دیکھنے کو ملا کہ اصلی پولیس نے سی سی ڈی کے نام پر شہریوںکو اغوا کر کے شہریوں سے تاوان وصول کیا گیا بلکہ پھر سی سی ڈی نے نام استعمال کر کے تاوان وصول کرنے والوں کو پکڑ بھی لیا لیکن ابھی بہت سے سوالات باقی بھی ہیں۔جو جو پولیس ملازم پکڑے گئے ،تھانیدار بے نقاب ہوئے ،سی سی ڈی نے رپورٹ بھی تیاری کی لیکن سوالات ابھی بہت با قی ہیں۔ 
ایک پولیس انسپکٹر اور سب انسپکٹر کے ساتھ ساتھ تفتیشی افیسراندھے اختیارات کے حامل ہوتے ہیںجب چاہیں مقدمے کا رخ مجرم کی طرف مدعی کے خلاف موڈ دیتے ہیں۔یہ تاثر بھی درست ہو سکتا ہے کہ تھانوں میں ہر جرم کی قیمت مقرر ہے جس کا تعین جرم کی سنگینی کے مطابق ہوتا ہے جو زیادہ بولی لگائے گا،انصاف اسی کو تول کر دیا جائے گا۔
ایماندار پولیس افسر ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھاتا ہے وہ کسی بھی صورت میں رشوت یا غیر قانونی فائدہ لینے سے گریز کرتا ہے اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کی اخلاقی اقدار، بہادری، اور جذبہ خدمت دوسروں کے لئے مثال ہوتے ہیں اور اس کا کردار عوام میں اعتماد اور احترام پیدا کرتا ہے۔ ایماندار پولیس افسر اپنی فرض شناسی سے معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کی محبت اور احترام کا برتاؤ لوگوں کو اس پر بھروسہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ٹیگز: