آج یکم اکتوبر 2025ء بروز بدھ ہے، آئیے آپ کو آج سے ٹھیک 45برس قبل پیچھے لیے چلتا ہوں ۔ یہ یکم اکتوبر 1980ء بروز بدھ اور 8بجے شب کا وقت ہے۔ ٹی وی سکرینوں کے سامنے لاتعداد پاکستانی بیٹھے ہیں، یہ لوگ صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جنرل ضیاء الحق کی اقوام متحدہ میں کی جانیوالی تقریر سننے کے منتظر ہیں۔ 8بجتے ہی وہ ایک خوشگوار حیرت سے دوچار ہوگئے کیونکہ عین اس وقت قرآن پاک کی تلاوت شروع ہو گئی اور وہ بھی اس اطلاع اور تاثر کے ساتھ کہ یہ آیاتِ ربانی اس وقت تاریخ کے ایک منفرد اور یادگار واقعہ کے طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گونج رہی ہیں۔ جیسے ہی تلاوت ختم ہوئی، جنرل ضیاالحق نے اپنے مخصوص لہجے میں ’نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم‘ کہہ کر اپنا پُرجوش خطاب شروع کر دیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جنرل ضیاالحق کے خطاب کا پس منظر اور تقریر سے قبل تلاوت کیسے اور کیونکر ممکن ہوئی؟ اس سلسلے میں کچھ عرصہ قبل بی بی سی نے ایک سٹوری شائع کی تھی جو کافی دلچسپ اور اُس وقت کے حالات کی عکاس ہے۔ اس سٹوری کے کچھ مندرجات یہاں لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ اُ س وقت اور موجودہ حالات کا تقابلی جائزہ لیکر اسے آج کے تناظر میں خود پرکھیں۔ سٹوری میں لکھا گیا 1980ء میں جنرل ضیاالحق کو اوآئی سی کے رکن ممالک کے ترجمان کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں خطاب کرنے کی تجویز ترکیہ، سعودی عرب اور پاپوا نیوگنی نے دی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ موجودہ دور میں صرف ضیاالحق ہی پوری جرأت کے ساتھ عالم اسلام کی نمائندگی کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ ان ملکوں کی طرف سے تجویز سامنے آئی تو دیگر ملک بھی اس سے متفق ہوتے چلے گئے۔ جنرل ضیاالحق نیویارک پہنچنے سے قبل ایران، عراق اور پیرس بھی گئے تھے۔ پاکستانی اخبارات نے اس غیر ملکی دورے کی کوریج بہت پُرجوش طریقے سے کی۔ اُن کے نیو یارک پہنچنے سے قبل ایک بڑے قومی اخبار میں شہ سرخی کے اوپر سات کالمی باکس میں ایک خبر شائع ہوئی ’’صدر ضیا الحق عالم اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔‘‘ خبر کی ذیلی سرخیوں اور متن کی تفصیلات میں بتایا گیا تھا کہ پورا عالم اسلام اس تقریر کا بے چینی سے منتظر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جنرل ضیا اپنے خطاب میں اپنے امن مشن، خاص طور پر ایران عراق جنگ کے خاتمے کے سلسلے میں اپنی سرگرمیوں کی رپورٹ پیش کریں گے جس کی اقوام عالم بے چینی سے منتظر ہیں۔ ایک دن بعد رونما ہونیوالے واقعہ سے قارئین کو باخبر رکھنے کے اس غیر معمولی اہتمام نے جنرل صاحب کے مشن کو مزید نمایاں کر دیا کیونکہ اوپر تلے سات اور آٹھ کالم کی دو خبریں ویسے بھی اُس وقت اخبار کے قاری میں یہ احساس پیدا کردیتی تھیں کہ معاملہ معمول سے کہیں بڑھ کر ہے۔ خبر کی تحریر بتارہی تھی کہ لکھنے والے نے اسے اس احتیاط کے ساتھ قلم بند کیا کہ کوئی معمولی سے معمولی بات بھی درج ہونے سے رہ نہ جائے۔ مثال کے طور پر اخبار نے لکھا کہ طویل مذاکرات کے بعد عراق کے صدر صدام حسین نے اپنی موٹر گاڑی میں صدر جنرل محمد ضیاالحق کو بغداد کی سیر کرائی… ان مذاکرات کے بعد گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران جنگ کی شدت میں کمی دیکھی گئی… وغیرہ ۔ان خبروں سے یہ تاثر پختہ ہو گیا کہ عالمی مسائل کے سلسلے میں پوری دنیا جنرل صاحب کو سننے کی منتظر ہے۔ پاکستانی عوام کی نگاہ میں بھی اس خطاب کی اہمیت اجاگر کی گئی جس کا اندازہ ان کے خطاب سے اگلے روزایک اخبار کی خبر سے ہوتا ہے۔
قومی اخبارات نے اس خطاب کے سلسلے میں جو ماحول تیار کیا اس کا نتیجہ ایک اخبار کے الفاظ میں ’’صدر پاکستان جنرل ضیاالحق کی تقریر کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد میں بیشتر لوگ سرشام ہی دوکانیں بند کر کے اپنے یا اپنے عزیز، دوستوں کے گھروں میں ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے سامنے بیٹھ گئے۔ بازاروں میں رونق ایک دم ختم ہو گئی۔ صدر پاکستان کی تقریر کے دوران ہوٹلوں اور دوسری ٹی وی والی دوکانوں کے سامنے لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ جمع تھے اور وہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک مسلسل صدر مملکت کی تقریر سنتے اور دیکھتے رہے۔‘‘
2 اکتوبر کو جنرل ضیاالحق کے خطاب کی خبریں شائع ہوئیں، ایک بڑے اخبار نے اس تقریر اور اس کے ماحول کی طویل جھلکیاں شائع کیں اس کے مطابق اس تقریر نے پورے منظر نامے کو تبدیل کر دیا بلکہ تاریخ بنا ڈالی’’صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق (پاکستانی وقت کے مطابق) رات آٹھ بج کر چار منٹ پر روسٹرم کے پاس آئے تو اچانک جنرل اسمبلی کا ہال تلاوت کلام پاک سے گونجنے لگا، صدر مملکت تعظیمی ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ یہ تلاوت قاری شاکر قاسمی نے کی تھی مگر وہ جنرل اسمبلی کے ہال میں نظر نہیں آئے۔ صدر ضیاالحق جو قومی لباس سیاہ شیروانی، شلوار کرتا پہنے ہوئے تھے، نے تلاوت کے بعد عینک اتار کر اپنی فائل پر رکھی، اپنی تقریر کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کیا اور عینک پہن لی۔ صدر ضیا الحق شروع سے آخر تک پورے ایمانی جذبے کے ساتھ گرج دار آواز میں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے رہے۔‘‘ ان جھلکیوں میں تلاوت والا نکتہ سب پر اس طرح بازی لے گیا کہ آج 45 برس گزرنے کے بعد اس واقعہ کا یہ پہلو پاکستانی عوام کے حافظے میں محفوظ ہے۔ اخبار کی ایک جھلکی کے مطابق ’جنرل ضیا کی تلاوت سے قبل جنرل اسمبلی کا ہال تلاوت سے گونج اٹھا تھا۔‘ جنرل ضیا کی تقریر سے قبل اظہر لودھی سے اعلان کرایا گیا کہ اب سے کچھ دیر بعد صدر پاکستان خطاب کرنے والے ہیں، اس سے قبل تلاوت قرآن حکیم سنیے۔ جیسے ہی انہوں نے اعلان ختم کیا، تلاوت شروع ہو گئی۔ تلاوت کے دوران اسمبلی ہال اور اس کے شرکا دکھائے گئے جس سے محسوس ہوا کہ وہ بھی تلاوت سن رہے ہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ اسمبلی ہال میں اس وقت جنرل ضیا سے پہلے مقرر کا خطاب جاری تھا لیکن پی ٹی وی کے ناظرین تلاوت کو ایک ایسے تاریخی واقعے کے طور پر دیکھ، سن اور سمجھ رہے تھے کہ جیسے یہ واقعہ ایوان کے اندر رونما ہو رہا ہے اور تاریخ بن رہی ہے۔ہوا کچھ یوں تھا کہ جیسے ہی جنرل ضیاالحق روسٹرم پر پہنچے، ایک چھوٹا سا ٹیپ ریکارڈر انہوں نے اپنی جیب سے نکالا اور آن کر کے اسے روسٹرم پر رکھ دیا۔ اس کے بعد احتراماً ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ جیسے ہی تلاوت ختم ہوئی، انہوں نے تقریر شروع کر دی۔