Wed, September 16, 2026

مجاہدوں کو پہنچتی ہے غیب سے امداد

مجاہدوں کو پہنچتی ہے غیب سے امداد

پاکستانیوں کےلئے 6ستمبر 1965ءتاریخ میں کبھی نہ بھولنے والا دن ہے جب بھارت نے رات کے اندھیرے میں حملہ کردیا، پاک فوج نے اس جانثاری سے مقابلہ کیا کہ دشمن کے سارے عزائم مٹی میں مل گئے، دنیا میں اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑااس کے باوجود باز نہ آیا کیونکہ کتے کی پونچھ کبھی سیدھی نہیں ہو تی سال 2000 میں چٹی سنگھ پورہ قتل عام کے بعد ابتدا میں لشکرِ طیبہ پر الزام لگایا گیا، بعد میں بھارتی آرمی کے جنرل کے ایس گل نے اپنی ہی فوج کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا، افضل گورو کی پھانسی کے بعد بھارتی عدالت نے اعتراف کیا کہ ثبوت ناکافی تھے،2001 میں پارلیمنٹ پر حملہ کر کے بھارت نے پاکستان پر الزام لگاکر 800 فوجیوں کومروا دیا، پارلیمنٹ پر حملے کی بھی آج تک کوئی رپورٹ سامنے نہیں آسکی ہے،2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں بھارت نے بغیر کسی ثبوت پاکستان پر الزام لگایا، سمجھوتہ ایکسپریس حملے کا اصل مجرم آر ایس ایس اور ابھینو بھارت کا نکلا، جبکہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں بھارتی فوجی افسران اور انتہاپسند تنظیمیں ملوث تھیں، اسی طرح 2017 میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع کا جھوٹ بے نقاب ہوگیا، سابق این آئی اے افسر ستیش ورما نے انکشاف کیا کہ پٹھان کوٹ حملے کے ذریعے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی،2019ءکے پلوامہ حملے میں بھی اس نے پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا اور خود نریندر مودی نے پاکستان کے اندر گھس کر مارنے کی دھمکی دی جسے،فروری 2019ءکو عملی جامہ پہنانے کی ناکام کوشش کی گئی اور ابھی نندن کو مار پڑوادی عقل پھر بھی نہ آئی پہلگام فالس فلیگ آپریشن بھارت کے ایک ہی طرح کے ڈراموں کا تسلسل ہے ، حملے میں 27 سیاحوں کو موت دے دی گئی واقعے کا الزام بغیر شواہد کے پاکستان پر لگا دیا جس میں مودی کو منہ کی کھانا پڑی کیونکہ انگلیاں اٹھانا شروع ہو گئیں کہ اتنی سیکورٹی میں حملہ کیسے ہو گیا؟ پہلگام واقعے پر بھارت کی حقائق چھپانے کی کوشش ناکام ہوگئی، بھارتی وزیر برائے پارلیمانی امور کرن رجیجو نے پہلگام واقعے میں غلطی کا اعتراف کر لیا،وزارت داخلہ اور انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے بتایا گیا واقعہ کیسے ہوا اور غلطی کہاں ہوئی، بھارتی وزیر کرن رجیجو نے اپنے ویڈیو بیان سے غلطی والا حصہ ہی غائب کردیا اور بیان کو ایڈٹ کرکے جاری کیا، پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بھارت الزام ثابت نہیں کر سکا جبکہ بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں، بھارتی سابق رکن پارلیمنٹ سمرن جیت سنگھ مان نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کے پاس پہلگام حملے پر پاکستان کیخلاف الزامات ثابت کرنے کیلئے کوئی شواہد نہیں ہیں جس سے ماضی کی طرح بھارت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ماضی کی نسبت اس بار بین الاقوامی میڈیا نے پہلگام واقعے کو کوئی کوریج ہی نہ دی جس کی وجہ سے بھارت بوکھلاہٹ کا شکار ہے کیونکہ اس طرح کے ڈرامے ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں جن کا کوئی سر تھا نہ پیر؟ مودی سرکار کی سازشی سیاست اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مودی سرکار کی اب دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے، دنیا جان چکی ہے بھارتی ایجنسیاں خود دہشت گردی کر کے الزام پاکستان پر دھر تی ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزارت خارجہ کا بیان اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں بھارت کی ہٹ دھرمی اور مسلم دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کشمیر پر اپنا تسلط جمائے رکھنے کی بدنیتی کے تحت ہی بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور اسے سانحہ سقوط ڈھاکہ سے دوچار کیا جبکہ باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی بھی اسے ایک آنکھ نہیں بھاتی جس کی وجہ سے وہ اکثر غیرملکیوں کے دورے پر کوئی نہ کوئی ڈرامہ ضرور کرتا ہے جبکہ کنٹرول لائن پر چھیڑ چھاڑ اس کا وطیرہ ہے۔ ممبئی حملوں کا ملبہ بھی پاکستان پر ڈالا، امرتسر پولیس تھانے پر اپنی ساختہ دہشت گردی بھی اس نے پاکستان کے کھاتے میں ڈالی ان تمام تر حقائق و شواہد کی روشنی میں یہ طے شدہ امر ہے کہ بھارت کو پاکستان کا آزاد و خودمختار وجود اور اس کا ایٹمی قوت بننا کسی صورت گوارا نہیں اور وہ اسکی سلامتی کیخلاف کسی بھی جارحیت کے ارتکاب کیلئے تیار بیٹھا ہے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے 23 اپریل کے فیصلوں اور اقدامات کا اسی کی زبان میں جواب دیا گیا، یہ صورتحال علاقائی اور عالمی امن کے داعی عالمی اداروں اور نمائندگان کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ بھارتی شرانگیزیوں کے نتیجہ میں ایٹمی قوت کے حامل ان دونوں ممالک کے مابین جنگ کا آغاز ہو گیا تو دنیا کی تباہی میں بھلا کتنی دیر لگے گی دوسری طرف پاکستانی قوم جنگ کے لیے بے تاب ہے جس پر ذرائع ابلاغ بھی حیران ہے کہتے ہیں جنگ کسی مسلے کا حل نہیں لیکن اگر بھارت جیسا مکار ہمسائیہ ہو تو پھراس کا علا ج کرنا فرض ہو جاتا ہے دوسری طرف ہم پاکستانی بھارتی طیاروں کو ایک بار پاکستانی شاہینوں کے ہاتھوں پٹتا ہوا دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں، بھارت ابھی تک یہ نہیں جان سکا کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا، دہشت گردی کی پرائی جنگ میں کود کر ہم نے 90 ہزارسے زائد جانیں وطن پرقربان اور معیشت کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، ہماری مسلح افواج آج ان دہشت گردوں، فتنہ الخوارج سے نبرد آزما ہیں، پہلگام واقعہ مغربی سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف ہماری کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، بھارت پاکستان پر 
دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف اس کے شروع دن کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ، بھارت نے درحقیقت پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہر محاذ کھولا ہے ، اسی تناظر میں بھارت نے عالمی بنک کی ثالثی میں پاکستان کے ساتھ طے پانے والے سندھ طاس معاہدہ کو بھی خوش دلی سے قبول نہیں کیا اور اس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے حصے میں آنے والے دریاﺅں پر بھی اپنی جانب ڈیمز تعمیر کر لئے، اس کی ہمیشہ یہی بدنیتی رہی ہے کہ پاکستان کو پانی کی قلت کا شکار کر کے بھوکا پیاسا مارا جائے ،اسی طرح بھارت نے حیلے بہانے سے پاکستان پر باقاعدہ جنگ مسلط کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا۔ دفاع وطن کے لئے افواج پاکستان کا یہی بے پایاں جذبہ ہے جو قوم کو دفاع وطن کے لئے اپنے ساتھ جوڑے رکھتا ہے، آج پوری قوم یک زبان ہے اوردفاع وطن کے لئے قربان ہونے کو تیار ہے ۔

ٹیگز: