ماحول بدل چکا ہے انداز بدل چکا ہے اور یوں لگتا ہے کہ فیصلے بھی عدالتوں کے باہر سنائے جا رہے ہیں۔ ہتھکڑیاں لگنے سے پہلے ملزم قید ہو جاتا ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ٹرینڈ بن جاتا ہے اور ثبوت اکٹھے ہونے سے پہلے عوامی رائے سزائے موت سنا دیتی ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں انصاف کی میز پر سب سے پہلے سوشل میڈیا بیٹھتا ہے اور قانون بعد میں آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ رفتار انصاف کو تیز کر رہی ہے یا اسے مسخ کر رہی ہے؟سوشل میڈیا نے آواز دی، یہ اس کا سب سے بڑا کمال تھا۔ مگر آواز جب ہجوم میں بدل جائے تو وہ دلیل نہیں رہتی، دباؤ بن جاتی ہے۔ آج کسی پر الزام لگنا کافی ہے۔ ایک ویڈیو کلپ، چند سکرین شاٹس، یا کسی متاثرہ کی پوسٹ اور پھر شیئر، ری شیئر، کمنٹس، تھریڈز، وی لاگز، ری ایکشنز۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک انسان کی پوری زندگی چند گھنٹوں میں کھول کر رکھ دی جاتی ہے۔ اس کے گھر کا پتہ، اس کی بیوی بچوں کی تصاویر، اس کے ماضی کی غلطیاں، اس کی نجی باتیں سب کچھ عوامی تماشہ بن جاتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے یا اجتماعی انتقام؟۔
ہم نے عدالتوں پر عدم اعتماد کے باعث سوشل میڈیا کو جج بنا دیا ہے۔ تاخیر سے تنگ آ کر رفتار کو معیار بنا لیا ہے۔ مگر رفتار اور درستی ہمیشہ ایک ساتھ نہیں چلتے۔ جب ہجوم فیصلہ کرتا ہے تو وہ قانون کی باریکیوں کو نہیں دیکھتا، وہ جذبات دیکھتا ہے اور جذبات اکثر یک طرفہ ہوتے ہیں۔ ایک فریق کی کہانی وائرل ہوتی ہے، دوسرا فریق صفائی دینے سے پہلے ہی مجرم قرار پا چکا ہوتا ہے۔ کیا ہمیں یاد ہے کہ الزام اور جرم میں فرق ہوتا ہے؟یہ سچ ہے کہ کئی مواقع پر سوشل میڈیا نے مظلوموں کو آواز دی۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے جنہیں روایتی نظام نے نظرانداز کیا تھا۔ مگر مسئلہ تب شروع ہوتا ہے جب ہر الزام کو حتمی سچ سمجھ لیا جائے۔ جب "الزام" کو "ثبوت" اور "کہانی" کو "فیصلہ"بنا دیا جائے۔ انصاف کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر شخص کو صفائی کا حق ہے اور جرم ثابت ہونے تک وہ بے گناہ ہے۔ مگر آن لائن دنیا میں یہ اصول الٹ چکا ہے۔ یہاں پہلے مجرم بنایا جاتا ہے، بعد میں اگر کبھی موقع ملے تو صفائی سنی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ نقصان کردار کا ہوتا ہے۔ کردار کشی وہ زخم ہے جو بریت کے بعد بھی نہیں بھرتا۔ فرض کریں عدالت نے کسی کو بے گناہ قرار دے دیا۔ کیا سوشل میڈیا اسے واپس وہ عزت دے پاتا ہے جو ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز نے چھین لی تھی؟ کیا وہ اس کے بچوں کے سکول میں پھیلتی سرگوشیوں کو روک سکتا ہے؟ کیا وہ اس کے والدین کی جھکی ہوئی نظریں سیدھی کر سکتا ہے؟ سچ یہ ہے کہ آن لائن سزائیں اکثر مستقل ہوتی ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا یاد رکھتی ہے، سکرین شاٹس مرنے نہیں دیتیں۔ خاص طور پر خواتین کے معاملات میں صورت حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک طرف واقعی متاثرہ خواتین کو آواز ملتی ہے، دوسری طرف کسی بھی عورت کی نجی زندگی کو چٹکیوں میں اچھال دیا جاتا ہے۔ اس کی تصاویر، اس کے لباس، اس کی پرانی پوسٹس، اس کی دوستیوں کی فہرست سب کچھ اس کے خلاف بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ گویا ہم انصاف نہیں، کردار کی نیلامی کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم کسی کیس کو سن رہے ہوتے ہیں یا صرف اپنی رائے ثابت کر رہے ہوتے ہیں؟۔
سوشل میڈیا ٹرائل کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ کانٹینٹ کی بھوک۔ ہر واقعہ ویوز میں ناپا جاتا ہے۔ ہر الزام کلکس میں تولا جاتا ہے۔ یوٹیوب تھمب نیلز چیختے ہیں، ٹک ٹاک کلپس جذبات بھڑکاتے ہیں، فیس بک لائیوز میں تجزیہ کار جج بن جاتے ہیں۔ "بریکنگ" کی دوڑ میں تصدیق پیچھے رہ جاتی ہے۔ ہم نے سنسنی کو سچ پر ترجیح دے دی ہے اور یہ رجحان صرف افراد کو نہیں، پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ سوشل میڈیا خاموش ہو جائے؟ نہیں۔ مسئلہ خاموشی یا اظہار کا نہیں، ذمہ داری کا ہے۔ اظہار آزادی ہے مگر الزام لگانا ذمہ داری ہے۔ کسی کی زندگی کے بارے میں پوسٹ کرنا ایک کلک ہے مگر اس کلک کے اثرات برسوں پر محیط ہو سکتے ہیں۔ ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم خبر شیئر کر رہے ہیں یا کسی کی زندگی داؤ پر لگا رہے ہیں؟۔
قانونی نظام کی کمزوریاں اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ تاخیر، سیاسی دباؤ، وسائل کی کمی سب مسائل موجود ہیں۔ مگر ان کمزوریوں کا حل متوازی ہجوم کھڑا کرنا نہیں ہو سکتا۔ اصلاح کی ضرورت عدالتوں کو ہے، سزائیں سنانے کی جلدی ہمیں نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ہم ہر کیس کو ٹرینڈ بنا کر فیصلہ کر دیں گے تو کل کو یہی ہجوم ہمارے دروازے پر بھی ہو سکتا ہے اور ہجوم کی کوئی مستقل وفاداری نہیں ہوتی۔ہمیں ڈیجیٹل اخلاقیات کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے سڑک پر ڈرائیونگ کے اصول ہوتے ہیں ویسے ہی آن لائن رویوں کے بھی اصول ہونے چاہئیں۔ تصدیق کے بغیر شیئر نہ کرنا، ذاتی معلومات پھیلانے سے گریز، دونوں فریقین کو سننے کا حوصلہ اور سب سے بڑھ کر یہ سمجھ کہ ہم جج نہیں ہیں۔ رائے دینا حق ہے، سزا دینا نہیں۔معاشرہ صرف قوانین سے نہیں، رویوں سے بنتا ہے۔ اگر ہم نے ہر الزام کو تماشہ بنا دیا تو کل کوئی سچ بولنے کی ہمت بھی نہیں کرے گا اور اگر ہم نے ہر الزام کو بغیر جانچے قبول کر لیا تو بے گناہوں کے لیے زمین تنگ ہو جائے گی توازن ہی واحد راستہ ہے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں،انصاف کے ساتھ یا سنسنی کے ساتھ؟ دلیل کے ساتھ یا ہجوم کے ساتھ؟ کیا ہم اتنے بالغ ہو چکے ہیں کہ سچ اور ٹرینڈ میں فرق کر سکیں؟ یا ہم نے اپنی انگلیوں کی رفتار کو اپنی عقل سے آگے نکلنے دیا ہے؟۔
عدالتوں میں تاخیر ہو سکتی ہے، مگر انصاف کا تصور صبر مانگتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اسکرین تیز ہے مگر زندگی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ایک ہیش ٹیگ کسی کو اوپر اٹھا سکتا ہے اور وہی ہیش ٹیگ کسی کو ہمیشہ کے لیے گرا بھی سکتا ہے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم انصاف کی تلاش میں ہیں یا محض تماشے کے شوقین ہیں۔شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کو یاد دلائیں کہ ہر الزام ایک کہانی نہیں ہوتا، ہر وائرل ویڈیو مکمل سچ نہیں ہوتی اور ہر ٹرینڈ انصاف نہیں ہوتا۔ انصاف عدالت میں ہوتا ہے، ہجوم میں نہیں اور اگر ہم نے اس فرق کو نہ سمجھا تو کل تاریخ ہمیں ایک ایسے معاشرے کے طور پر یاد کرے گی جس نے سچ کی جگہ شور کو چن لیا تھا۔