لگتا ہے کہ پاکستان کے استحکام، خوشحالی اور ترقی کے جو دعوے کیے جاتے تھے ان کے سچ ہونے کا وقت آ گیا ہے۔پچھلے چند ہی ہفتوں میں ہم نے دیکھا کہ پاک فوج کے ملک کے دفاع سے متعلق کتنا زبردست ایکشن لیا، سیاسی قیادت کے دانشمندانہ رویے اختیار کر رہی ہے اور اب ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی آئین کی بالا دستی، ملکی اداروں اور شہری حقوق کی حفاظت کا عزم ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو مسلسل نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی خطرات سے بھی دوچار رہا ہے۔ دہشت گردی، بغاوت، ریاستی اداروں پر حملے، اور حساس عسکری تنصیبات کو نقصان پہنچانے جیسے واقعات نے نہ صرف قومی سلامتی کو چیلنج کیا بلکہ ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایسے میں اگر قانون کی تشریح اور نفاذ میں کوئی کسرباقی رہ جائے تو نہ صرف انصاف متاثر ہوتا ہے بلکہ ملک کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے گزشتہ ماہ جاری کیا گیا فیصلہ، جس میں بعض مخصوص حالات میں شہریوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دی گئی ہے، ملکی قانون، قومی سلامتی، اور داخلی استحکام کے تناظر میں ایک بالغ نظری اور ذمہ دارانہ اقدام ہے۔ یہ فیصلہ محض ایک قانونی اقدام نہیں، بلکہ ایک ایسی قومی ضرورت کو پورا کرتا ہے جس کا تقاضا آج کے پاکستان کے چیلنجز کرتے ہیں۔ اگرچہ عدالت کے دو جج صاحبان، جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے اس فیصلے سے اختلاف کیا، مگر اکثریتی فیصلے نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے لیے قانون کی تشریح وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے جس قسم کے غیر روایتی خطرات اور اندرونی شورش کا سامنا رہا ہے، وہ کسی بھی مہذب ریاست کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ خاص طور پر 9 مئی 2023 کے واقعات میں جس طرح فوجی تنصیبات پر منظم حملے کیے گئے، ان سے یہ واضح ہو گیا کہ محض سول نظامِ انصاف کے تحت ان معاملات سے مؤثر طور پر نمٹنا ممکن نہیں۔ ان حملوں میں نہ صرف فوجی تنصیبات، حساس عمارتیں اور قومی سلامتی کے ادارے نشانہ بنے بلکہ قومی بیانیے اور ریاستی وقار کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس تناظر میں، جب ریاست کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف اقدامات شہریوں کی طرف سے کیے جائیں، اور ان کے پیچھے منظم منصوبہ بندی، مالی وسائل اور غیر ملکی معاونت کا بھی امکان ہو، تو یقینا ان کے خلاف روایتی عدالتی نظام ناکافی ثابت ہوتا ہے۔
عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے مطابق آئین پاکستان کا آرٹیکل 245 اور فوجی قوانین، خصوصاً پاکستان آرمی ایکٹ 1952، ریاست کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ ایسے افراد، جو مسلح افواج پر براہِ راست حملہ آور ہوں، یا ان کے خلاف بغاوت کے زمرے میں آنے والے اقدامات کریں، کو فوجی عدالتوں کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لا سکے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ صرف اُن افراد کے خلاف کارروائی کی جا ئے گی جو ریاستی اداروں کے خلاف مسلح مزاحمت، جاسوسی یا براہِ راست حملوں میں ملوث پائے گئے ہوں۔
یہاں یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ عام شہریوںکا فوجی عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور اس طرح انہیں شفاف ٹرائل کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس نکتہ پر سپریم کورٹ نے اپنی دانست میں ایک متوازن مؤقف اپنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ فوجی عدالتیں بھی آئینی دائرے میں ہی کام کرتی ہیں، اور ان کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے حقوق بھی موجود ہیں۔ علاوہ ازیں، عدالت عظمیٰ کے فیصلے نے اس امر کو بھی یقینی بنایا ہے کہ فوجی عدالتوں میں ہونے والی کارروائیوں پر اعلیٰ عدلیہ کی نظرثانی کا اختیار برقرار رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شفافیت اور انصاف کے بنیادی تقاضے متاثر نہیں ہوں گے۔جہاں تک جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان کے اختلافی نوٹس کا تعلق ہے، یہ عدلیہ کے آزادیِ فکر کی علامت ہے، جسے سراہا جانا چاہیے۔
جسٹس مندوخیل نے اپنے نوٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر فوجی عدالتوں کو عام شہریوں کے خلاف استعمال کیا گیا تو یہ ایک خطرناک نظیر قائم ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سویلین افراد کا مقدمہ ہمیشہ سول عدالتوں میں چلایا جانا چاہیے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے بھی اسی نوعیت کی تشویش ظاہر کی کہ اس سے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں اور انصاف کا تصور دھندلا سکتا ہے۔ یہ اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں، کیونکہ عدالتِ عظمیٰ کی ساخت ہی ایسی ہے کہ اختلافی آرا کو ادارہ جاتی حدود میں سنا جاتا ہے اور ان سے حتمی فیصلے کی معنویت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ موجودہ حالات میں ملک کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں داخلی سلامتی، دہشت گردی، شدت پسندی اور بیرونی مداخلت شامل ہیں۔ ان تمام خطرات کا ہدف صرف ریاستی ادارے ہی نہیں بلکہ ریاست کا وجود اور عام شہری بھی ہیں۔ لہٰذا، اگر ایسے عناصر کو روایتی نظامِ انصاف میں سزا نہ ملے، یا ان کی سماعت برسوں کھنچتی چلی جائے، تو اس سے نہ صرف انصاف کا عمل سست ہو گا بلکہ مجرموں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔ فوجی عدالتوں کا مقصد یہی ہے کہ ان مخصوص جرائم کو، جن کی نوعیت سنگین اور ریاست دشمن ہو، مؤثر، فوری اور جامع عدالتی عمل سے گزارا جا سکے۔یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فوجی عدالتوں کے دائرہ اختیار میں لائے گئے شہری عام جرائم کے مرتکب نہیں، بلکہ وہ ایسے اقدامات میں ملوث ہیں جو براہِ راست ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے لیے کیے گئے۔ یہ فرق بہت اہم ہے، اور اسی فرق کو عدالت عظمیٰ نے بھی اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 10-A میں دیے گئے ’فئیر ٹرائل‘ کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے، یہ اطمینان بخش امر ہے کہ فوجی عدالتیں بھی اس آئینی تقاضے کی پابند ہوں گی۔
مزید برآں، قومی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی غیر معمولی حالات میں غیر معمولی فیصلے نہیں کیے گئے، تو اس کا نقصان ریاست کو اٹھانا پڑاہے۔ سانحہ اے پی ایس ہو ، 9 مئی کے واقعات یا پھر جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ، یہ سب اس امر کی دلیل ہیں کہ دشمن صرف باہر نہیں بلکہ اندر بھی موجود ہے، اور وہ ہماری ریاستی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔ اگر ایسے عناصر کو مخصوص اور سخت عدالتی نظام کا سامنا نہ ہو، تو وہ ریاست کے خلاف کارروائیوں میں مزید دلیر ہو جائیں گے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی عدلیہ وقت کے تقاضوں کو سمجھتی ہے اور قومی سلامتی کے معاملات میں محتاط، سنجیدہ اور بالغ نظری کا مظاہرہ کر سکتی ہے۔ یہ فیصلہ اس تاثر کی بھی نفی کرتا ہے کہ عدالتیں محض نظریاتی بحثوں میں الجھی رہتی ہیں۔ عدالت نے قومی مفاد اور آئینی تقاضوں کے درمیان ایک سنجیدہ توازن قائم کر کے یہ باور کروایا ہے کہ عدلیہ صرف قانون کی تشریح ہی نہیں، بلکہ قومی بقا کی ضامن بھی بن سکتی ہے۔ یقینا سپریم کورٹ کے اس فیصلہ میں وہ فہم و فراست جھلکتی ہے جو ایک ذمہ دار عدالتِ عظمیٰ کے شایانِ شان ہے۔ اختلافی آرا کو احترام کے ساتھ قبول کرتے ہوئے، بحیثیت قوم ہمیں اکثریتی فیصلے کے پیچھے موجود قومی مفاد، داخلی استحکام اور ریاستی خودمختاری کے پہلو کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہی طرزِ فکر ہمیں ایک مضبوط، محفوظ اور خودمختار پاکستان کی طرف لے جا سکتا ہے۔