Wed, September 16, 2026

وزیراعظم کا اعلان: دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک اور فیصلہ کن قدم

وزیراعظم کا اعلان: دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ایک اور فیصلہ کن قدم

 اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے بعد اب اس ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور ایسا اقدام اٹھایا جائے گا جس سے یہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔

اسلام آباد میں رمضان پیکیج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے دہشتگردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ کر ایسا قدم اٹھائے گی کہ اس کا دوبارہ وجود ممکن نہ ہو۔ "ہم ایسی قبر کھو دیں گے جس سے دہشتگردی کا یہ ناسور دوبارہ سر نہ اٹھا سکے۔" وزیراعظم نے اس بات کا بھی عہد کیا کہ حکومت تب تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک دہشتگردی کا مکمل خاتمہ نہ کر دے۔

وزیراعلیٰ نے اکوڑہ خٹک میں خودکش حملے میں مولانا حامد الحق اور دیگر پاکستانیوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ انتہائی افسوسناک ہے اور وہ خیبرپختونخوا حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان قاتلوں کو جلد گرفتار کر کے سزا دے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2018 میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا جس میں 80 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ تاہم، اب دوبارہ دہشتگردی نے سر اٹھا لیا ہے، جس کی وجوہات ہمیں بخوبی معلوم ہیں، مگر اس وقت میں ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ 2022 اور 2023 میں ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا اور بینکوں نے اربوں روپے کا منافع کمایا۔ اس منافع پر ونڈ فال ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بینکوں نے سٹے آرڈرز لے کر اس عمل کو روکا۔ تاہم، گورنر سٹیٹ بینک نے ایک فیصلے کے بعد 23 ارب روپے بینکوں سے نکال کر خزانے میں جمع کروا دیے۔

وزیراعظم نے رمضان پیکیج کے حوالے سے بتایا کہ اس سال اس پیکیج کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے 40 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان پیکیج میں اس سال 200 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اور یہ پیکیج پورے پاکستان کے مستحق خاندانوں کو فراہم کیا جائے گا، جس میں تمام صوبوں اور آزاد جموں و کشمیر کے خاندان شامل ہوں گے

ٹیگز: