اسلام آباد : پاکستان کی سیاست میں جمی برف پگھلنا شروع ہوگئی۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان نے حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گرین سگنل دے دیا۔ اپوزیشن اتحاد کی اہم بیٹھک میں سلمان اکرم راجہ اور شاہد خاقان عباسی نے حکومت سے رابطوں کا مشورہ دے دیا، جس کے بعد محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کی اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں طے پاگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، 25 فروری کی شب اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کی ایک اہم مشاورتی نشست ہوئی جس میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ کے بیانات کو بھی باریک بینی سے پرکھا گیا۔
محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس: دونوں رہنما اپوزیشن اتحاد کے فیصلوں کی روشنی میں جلد اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔ سلمان اکرم راجہ اور شاہد خاقان عباسی نے اپوزیشن قیادت کو باور کرایا ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات ہی میں پنہاں ہے۔پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے واضح کیا ہے کہ وہ مشروط مذاکرات کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا ہم مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، حکومت کو بھی اپنا رویہ درست کرنا ہوگا۔
دوسری جانب عاطف خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مذاکراتی ٹیم بانی پی ٹی آئی کے دیے گئے مینڈیٹ سے انحراف نہیں کرے گی اور تمام گفتگو اسی دائرہ کار میں ہوگی۔سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ ملاقاتیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں تو ملک میں جاری آئینی اور سیاسی بحران کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ اپوزیشن اتحاد اب اپنے حتمی فیصلوں کے بعد باقاعدہ مذاکراتی عمل کا آغاز کرے گا۔