نئی دہلی : بھارت بھر میں عوام کی بڑی تعداد نریندر مودی حکومت کی نفرت انگیز سیاست کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ شہریوں نے "آپریشن سندور" جیسے اقدامات کو محض انتخابی ڈرامہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد ہمدردی سمیٹ کر ووٹ حاصل کرنا ہے۔
مودی سرکار پر الزام ہے کہ وہ ہر الیکشن سے پہلے ہندو مسلم تنازعہ کو ہوا دیتی ہے تاکہ اصل مسائل سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ عوام کا کہنا ہے کہ نفرت کا یہ کھیل اب پرانا ہو چکا ہے اور لوگ اب اصل سوالات کے جواب مانگ رہے ہیں۔
مودی حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے بڑے دعوے کیے گئے، مگر شہریوں نے ان کارروائیوں کے ثبوت مانگے ہیں، جو ابھی تک عوام کے سامنے نہیں لائے گئے۔
عوامی حلقوں نے میڈیا، خاص طور پر "گودی میڈیا" پر بھی کڑی تنقید کی، جو ان کے بقول حکومتی بیانیے کو بغیر تحقیق کے نشر کرتا رہا اور پاکستانی شہروں میں چائے پینے جیسے جھوٹے دعوے کرتا رہا۔
شہریوں نے مودی حکومت کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فنڈز مودی کی انتخابی مہمات پر خرچ ہوئے، جبکہ عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔
پہلگام حملے میں تمام مذاہب کے افراد شہید ہوئے، لیکن حکومت نے اسے بھی نفرت پھیلانے کا ذریعہ بنایا۔ عوام کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مودی حکومت کو اس کی کارکردگی پر جواب دہ بنایا جائے، نہ کہ مذہب کی بنیاد پر ووٹ دیا جائے۔