Wed, September 16, 2026

امن و امان کے نام پر ایک نئے امتحان کی دستک

امن و امان کے نام پر ایک نئے امتحان کی دستک

ریاست کا پہلا فرض شہری کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہے، لیکن ریاست کی اصل عظمت صرف اس کی طاقت میں نہیں بلکہ اس انصاف میں ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اس طاقت کو استعمال کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی حکومت نے امن و امان کے نام پر قانون سے زیادہ اختیار حاصل کیا، ابتدا میں اسے عوامی تحفظ کا نام دیا گیا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہی اختیارات اختلافِ رائے، سیاسی مخالفت اور عام شہریوں کی آزادی کے لیے آزمائش بن گئے۔پنجاب حکومت کا مجوزہ ”عادی مجرمین اور سماج دشمن رویوں پر قابو پانے کا بل 2026“ اسی تناظر میں قومی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ حکومت کا مو¿قف ہے کہ منظم جرائم، قبضہ مافیا، بھتہ خوری، منشیات، ہوائی فائرنگ اور پیشہ ور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف موجودہ قوانین ناکافی ہیں، اس لیے جدید ٹیکنالوجی اور مو¿ثر نگرانی کے ذریعے جرائم پر قابو پانا ضروری ہے۔ بلاشبہ پاکستان کو جرائم کے خلاف سخت اور مو¿ثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ عوام برسوں سے یہ شکوہ کرتے آئے ہیں کہ خطرناک ملزمان قانونی پیچیدگیوں، کمزور تفتیش یا گواہوں کے منحرف ہونے کی وجہ سے سزا سے بچ نکلتے ہیں۔ اگر کوئی قانون واقعی پیشہ ور مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لا سکتا ہے تو اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔لیکن سوال یہ نہیں کہ جرائم کا خاتمہ ہونا چاہیے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا جرائم کے خاتمے کی کوشش میں بے گناہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر تو نہیں ہوں گے؟ آئینِ پاکستان اس حوالے سے بڑی واضح رہنمائی دیتا ہے۔ آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاو¿ کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ آرٹیکل۔10 اے ہر فرد کو منصفانہ سماعت اور شفاف عدالتی کارروائی کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار اور نجی زندگی کے احترام کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ اگر کسی شخص کو صرف پولیس رپورٹ، متعدد گرفتاریوں یا انتظامی رائے کی بنیاد پر ”عادی مجرم“ قرار دے کر اس کے بینک اکاو¿نٹس منجمد کیے جائیں، شناختی دستاویزات محدود کی جائیں، جائیداد ضبط کی جائے یا ہر وقت الیکٹرانک نگرانی میں رکھا جائے، تو یہ سوال ضرور پیدا ہو گا کہ کیا یہ اقدامات عدالتی فیصلے سے پہلے آئینی تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہیں؟ دنیا کے کئی ممالک میں خطرناک مجرموں کی نگرانی کے لیے الیکٹرانک نظام موجود ہے۔ برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بعض قیدی سزا کے بعد الیکٹرانک بریسلٹ پہنتے ہیں یا عدالت کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ مگر وہاں ایک بنیادی فرق موجود ہے: ایسے اقدامات عموماً عدالت کے حکم اور واضح قانونی معیار کے تحت کیے جاتے ہیں، نہ کہ صرف انتظامی فیصلے کی بنیاد پر۔ تاریخ بھی ہمیں خبردار کرتی ہے۔ برطانوی دور کا کریمنل ٹرائبز ایکٹ 1871 مخصوص طبقات کو پیدائشی مجرم سمجھنے کی سوچ پر مبنی تھا، جسے بعد میں انسانی حقوق کے منافی قرار دیا گیا۔ ایوب خان کے دور میں کنٹرول آف غنڈہ آرڈیننس 1959 بھی انتظامیہ کو غیر معمولی اختیارات دیتا تھا، جس پر وقتاً فوقتاً تنقید ہوتی رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب کوئی نیا قانون غیر معمولی اختیارات کی بات کرتا ہے تو ماضی کی یہ مثالیں ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نوعیت کا جامع قانون اس وقت دیگر صوبوں میں اس شکل میں نافذ نہیں ہے۔ اگر پنجاب اس سمت میں پیش رفت کرتا ہے تو اس کی کامیابی یا ناکامی مستقبل میں دوسرے صوبوں کی قانون سازی پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس قانون کے فوائد سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر اس کا استعمال صرف منظم جرائم، دہشت گردی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قبضہ مافیا اور خطرناک جرائم پیشہ گروہوں تک محدود رہے، عدالتی نگرانی مضبوط ہو، اور شفاف اپیل کا نظام موجود ہو تو یہ امن و امان کے لیے ایک مو¿ثر ذریعہ بن سکتا ہے۔لیکن اگر اس کے الفاظ مبہم رہے، اختیارات بے لگام ہوئے، اور احتساب کمزور رہا تو پھر یہی قانون سیاسی مخالفین، سماجی کارکنوں، صحافیوں یا عام شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ قانون کی اصل خوبصورتی اس کی سختی میں نہیں بلکہ اس کے منصفانہ استعمال میں ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس بل پر جلد بازی کے بجائے وکلا، آئینی ماہرین، انسانی حقوق کی تنظیموں، پارلیمانی کمیٹیوں اور سول سوسائٹی سے کھلی مشاورت کرے۔ اگر قانون واقعی عوام کے تحفظ کے لیے ہے تو عوام کی رائے سے اسے مزید بہتر بنانے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ ریاست اور شہری کا تعلق خوف پر نہیں بلکہ اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ جہاں اعتماد کمزور پڑ جائے، وہاں قانون بھی اپنا اخلاقی جواز کھونے لگتا ہے۔ حرف آخر قانون ضرور مضبوط ہونا چاہیے، مگر اس سے بھی زیادہ مضبوط انصاف ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب ریاست طاقت کو انصاف پر ترجیح دیتی ہے تو وقتی طور پر خاموشی ضرور پیدا ہو سکتی ہے، مگر پائیدار امن کبھی جنم نہیں لیتا۔ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ حکومتیں طاقت سے قائم رہ سکتی ہیں، لیکن ریاستیں صرف انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں۔

ٹیگز: