کبھی حادثات میں لوگ مر جاتے تھے ہم وہ لوگ ہیں جو حادثاتی طور پر زندہ ہیں۔ اس کی وجہ یقینا یہی ہے کہ جب حادثہ ہوا تو ہم وہاں موجود نہیں تھے یا پھر جہاں ہم تھے وہاں حادثہ نہیں ہوا۔ اپنے دیس میں مرنا تو آسان سی بات ہے حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں زندہ رہنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ انسانی کامیابیوں کی ساری تاریخ حقیقت میں قدرتی آفات پر قابو پانے کی تاریخ ہے۔ حادثات ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہو جاتے ہیں لیکن وہاں اتنی دیر تک دوسرا حادثہ نہیں ہوتا جب تک پہلے حادثے کے اسباب جان کر اُن پر قابو نہ پا لیا جائے مگر اپنے دیس کا باوا آدم ہی نرالا ہے کہ ہم لوگ حادثات کے منتظر رہتے ہیں اور حادثات نے بھی ہمیں کبھی مایوس نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ 78 سال میں صرف حادثات میں خود کفیل ہوئے ہیں۔ نت نئے حادثات جو روح کی رو ح کو بھی موت سے آشنا کر دیتے ہیں۔ سوات میں ڈسکہ کی ایک ہی فیملی کے 18 افراد دریائے سوات میں بہہ گئے لیکن وہ کہتے ہیں نہ کہ دریا تو اپنی طغیانیوں کی موج مستی میں ہوتا ہے اُسے کسی کشتی کے ڈوبنے یا پار اترنے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ کبھی بیدل حیدری نے کہا تھا کہ
بارش اتری تو میں سیلاب کی آغوش میں تھا
پانی اترا تو درختوں سے اتارے بچے
یہ ضروری ہے انہیں کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے
لیکن جنہوں نے ضمانت دینی ہے یا تو اُن کی اپنی کوئی ضمانت نہیں دے رہا یا پھر وہ خود ضمانت کے منتظر ہیں لیکن ضمانت کے منتظر لوگوں کو تو شاید ضمانت نہ ملے بالکل اُسی طرح جیسے ہمارے بچوں کو مستقبل کی کوئی ضمانت نہیں دے رہا۔ کتنا ہولناک اور تکلیف دہ ہے کہ اپنے خاندان کے افراد کو ایک ایک کر کے دریا کی نذر ہوتے دیکھنا۔ وہ بچے جنہیں راتیں جاگ کر، چلچلاتی دھوپ اور قہر خدا کی ٹھنڈ میں سکول چھوڑ کر آنے والے ماں باپ، ایک ایک کر کے اُنہیں دریا کے سپرد ہوتا دیکھ رہے تھے۔ وہ بے بسی اللہ کسی کو نہ دکھائے۔ بچ جانے والے گھر کے چھوٹے سربراہ کو عمر بھر یہ دکھ ستاتا رہے گا کہ وہ اس سانحہ میں کیوں بچ گیا؟ ہم بطور مسلمان اللہ کے فیصلوں کے پابند ہیں لیکن کیا روز قیامت ہم سے ہمارے اختیار اور عقل بارے سوال نہیں ہو گا؟ کیا ریاست مدینے بنانے کا دعویدار اللہ رب العزت کو بھی یہی جواب دے گا کہ ’’کیا وہ وہاں جا کر تنبو لگا لیتا۔‘‘ وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا مسٹر علی امین گنڈا پور ایک انتہائی بے رحم، گھٹیا، بدبخت اور حرام خور شخص ہے جس نے ملک بھر میں بلا امتیاز سیاسی وابستگی سب کے دل حادثے کے بعد دکھائے ہیں۔ اُس سے بھی نیچ حرکت یہ کی گئی کہ جن ڈمپرز میں شہر بھر کی غلاظت ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاتی ہیں اُن میں ’’مقتولین‘‘ کے معصوم جسم رکھے گئے۔ یہ گنڈا پور اینڈ کمپنی کی پنجاب سے نفرت تھی یا پنجاب کے لوگوںکو پیغام، کیوں کہ وہ بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ صرف ایک بندے کو جوابدہ ہے اور اُس کا نام عمران خان نیازی ہے۔ اب آپ سوچ لیں کہ عمران نیازی کو جوابدہ لوگ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کو بھی جوابدہ نہیں۔ وہ قران، سنت یا اسلامی تاریخ کے حکمرانوں کی مثالیں صرف سیاسی جلسوں کی حد تک رکھتے ہیں اور اس سے زیادہ اُن کا تعلق کسی شے سے نہیں سو اِن حالات میں ہم اُن سے توقع کریں کہ وہ کسی آئین یا قانون کے پابند ہوں گے تو یہ خود ہماری حماقت ہو گی۔ جو چلے گئے وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے اور ایک دن سب نے چلے جانا ہے لیکن یہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے جو کچھ یہاں بویا ہو گا وہی آخرت میں کاٹنا پڑے گا۔ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نے بھی جھوٹ بول کر اپنی عاقبت خراب کی ہے اور کسی بھی انتظامی نااہلی کو قبول نہیں کیا۔ اب کوئی اس کلرک سے یہ پوچھے کہ میاں اگر کسی کی غلطی نہیں تھی تو ڈپٹی کمشنر سوات شہزاد محبوب کو کس جرم میں ہٹایا گیا ہے؟ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے پی کے کہاں تھا؟ پاکستان میں انتشار اور بدامنی کی سیاست کرنے والے عمران نیازی کی بہن اور اُس کی بھانجی کو جو کسی حکومتی یا ریاستی عہدہ پر نہیں اُسے لینے ڈیزاسٹر مینجمٹ کا ہیلی کاپٹر چترال کیسے پہنچا؟ جہاں سیاحت ہو وہاں کسی بھی حادثے سے نمٹنے کیلئے ہر چیز میسر ہوتی ہے؟ لیکن جس ملک میں سزا یافتہ لوگوں کو جیلوں میں ’’شہزادوں‘‘ کی طرح ریاستی خرچے پر رکھا جائے وہاں یہ کہنے میں کیا ہرج ہے کہ ’’پاکستان کے اندر دو پاکستان ہیں‘‘؟ جہاں ہزاروں انسانوں کے سامنے ایک خاندان بے رحم دریا کی موجوں کی نذر ہو جائے اورکوئی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہو وہاں عمران نیازی کے بقول ’’حکمران کو سزا دینی چاہیے۔‘‘ مسٹر عمران نیازی آپ کا چیلا وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا گنڈا پور پاکستانی قوم کا مجرم ہے، پنجاب کے عوام کا مجرم ہے، شاید آپ کے ضمیر کا بھی مجرم ہوتا اگر وہ آپ کے وجود میں موجود ہوتا۔ آپ ساڑھے تین سال تک بنی گالہ سے وزیر اعظم ہائوس ہیلی کاپٹر پر جاتے رہے ہیں، آپ کی بہن اور بھانجی کیلئے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا ہیلی کاپٹر دستیاب تھا، بدامنی پھیلانے، سرکاری عمارتوں کو آگ لگانے، رینجرز کے جوانوں کو شہید کرنے کیلئے سارے کے پی کے کی مشینری حاضر ہوتی ہے لیکن پاکستانیوں اور پنجابیوں کے تابوت بھیجنے کیلئے آپ کے پاس کوڑا اٹھانے والے ڈمپرز ہی بچے تھے۔ یہ لوگ یقینا اس قابل نہیں رہے کہ انہیں مزید برداشت کیا
جائے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے، وزیر سیاحت، وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، چیف سیکرٹری کے پی کے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر لازمی درج ہونی چاہیے۔ اس کیس کو مثال بنانا چاہیے کہ ریاست مدینہ بنانے والے تو کھلے بندوں اعلان کرتے تھے ’’اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوکا مر گیا تو میں اُس کیلئے خدا کو جوابدہ ہوں‘‘۔ یہ کیسی ریاست مدینہ بنانے جا رہے تھے جس میں یہ انسانوں کو ہی جواب دہ نہیں ہیں اور الٹا مر جانے والے انسانوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ یہ حادثہ نہیں قتل عام ہے، غفلت اور نااہلی ہے جس نے پاکستان کے ہر دل کو دکھی کیا ہے اگر ملزمان کو سزا نہ دی گئی تو کچھ بعید نہیں کہ یہ بے رحم اسے بھی ریاست کی کمزوری سمجھیں اور پھر ریاست پر حملے کی نئی منصوبہ بندی کیلئے صفیں باندھنا شروع کر دیں۔ جلدی کیجیے اس سے پہلے کہ عوامی سیلاب سب کچھ بہا کر لے جائے اور ہم کچھ بھی بچانے کی پوزیشن میں نہ ہوں۔ کے پی کے گورنر راج کا مطالبہ کر رہا ہے اور اُسے نافذ نہ کرنا صوبے کے عوام سے دشمنی ہو گی۔