Wed, September 16, 2026

دی ہندو کا سچ اور بھارتی سرکار…

دی ہندو کا سچ اور بھارتی سرکار…

بھارت وہ ملک ہے جس کی کسی ہمسائے سے نہیں بنتی کیوں کہ امریکہ کی طرح چودھراہٹ کے نشے میں ہر ملک میں ٹانگ اڑا کر دہشت گردی کی پشت پناہی کرکے وہاں انتشار پیدا کرنا دونوں ملکوں کا وتیرہ ہے امریکہ میلوں دور بیٹھ کر افغانستان اور ایران میں پنگا بازی کرتا چلا آ رہا ہے اسی طرح بھارت بھی ہر وہ اقدام کرتا ہے جو اسلام اور پاکستان کے خلاف ہو بھارت اس وقت امریکی آنکھ کا تارا تھا جب وہ روس سے دور تھا جب امریکہ نے دیکھا کہ میرے دبکے کے باوجود مودی روس سے تیل خرید کر ہمیں اور ہمارے مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے تو امریکہ نے بھی آنکھیں پھیر لیں مئی 2025 میں پہلگام ڈرامے سے بھارت کو لگتا تھا کہ امریکہ اس کا ساتھ دے گا لیکن ٹرمپ نے اپنے مفادات کو ٹھیس پہنچانے کی وجہ سے مودی کو نو لفٹ کرادی کیونکہ مودی سمجھتا تھا کہ پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگائے گا تو امریکہ میرا ساتھ دے گا امریکہ بے وقوف ہے نہ گھاٹے کا سودا کر تا ہے روس سے دوستی کرنا ٹرمپ کو گوارا نہیں اسی لئے ٹرمپ نے بھارت کو زیرو اور پاکستان کو ہیرو بنا دیا بھارت آج دنیا میں کہیں بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا بلکہ مودی کو دنیا بھر کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کا واضح ثبوت بھارتی اخبار دی ہندوہے جس نے مودی کے کرتوں کو بے نقاب کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت کیلئے دو ہزار پچیس سفارتی ناکامیوں اور عالمی سبکی کا سال ثابت ہوا، نریندر مودی سے وابستہ بلند بانگ توقعات حقیقت نہ بن سکیں، طیاروں کے نقصانات ہوں یا سرمایہ کاری کی راہیں،ہر محاذ پر ناکامی نے دستک دی، اب یہ اعتراف خود بھارت کے اندر سے بھی سامنے آ رہا ہے ،ادھرپاکستان سے زیادہ ٹرمپ کے بیانات آ رہے ہیں جو کہتے ہیں پاکستان نے آٹھ انڈین جدید ترین اور مہنگے ترین فائٹر مار گرائے اس کے باوجود عقل کے اندھے چند نام نہادسیاسی افرادملک اور ملکی سالمیت کیخلاف زبان 
درازی کرتے ہیں تو وہ حقیقت سے منہ موڑ رہے ہیں دوسری طرف ترجمان رندھیر جیسوال نے اعتراف کیا کہ اپائنٹمنٹس کے بحران نے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ امریکی حکام کی طرف سے سخت سکریننگ، سوشل میڈیا پروفائل پبلک کرنے کی شرط، بھاری فیس اور نئے معیار نے مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے ماہرین کے مطابق بھارتی ہنرمند طبقہ مستقبل کے بہتر مواقع کے لیے بیرونِ ملک کو ترجیح دے رہا ہے اور بھارت میں معاشی و سماجی اعتماد کے بحران کے باعث بیرون ملک مقیم بھارتی اپنے ملک کو اپنا گھر نہیں سمجھتے بات یہاں تک ہی ختم نہیں ہوتی بھارتی ناکامی کا اعتراف ہر جگہ کیا جا رہا ہے جس کے مطابق دنیا بھر سے ریکارڈ تعداد میں بھارتی شہری ڈی پورٹ ہونے کا انکشاف ہوا ہے کہا جا رہا ہے کہ امریکہ میں نیشنلٹی رکھنے والے اپنے کارڈ دوسرے بھارتیوں کو فروخت کرکے اپنے ملک کیلئے بدنامی کا باعث بن رہے تھے جس پر ٹرمپ نے اس بارے میں سخت ایکشن لیا جبکہ جہاں بھارت دنیا بھر میں رسوا ہوا وہاں اللہ کی مدد سے پاکستان کا مقام عالمی سطح پر بلند ہوا ایک جریدے کے مطابق 2025 میں پاکستان نے عالمی سیاست میں دوبارہ اہم مقام حاصل کیا، مئی میں پاک بھارت کشیدگی نے پاکستانی دفاعی صلاحیت اور ساکھ کو مضبوط کیا، پاکستان نے کشیدگی کے دوران موثر سفارت کاری کے ذریعے واشنگٹن کا اعتماد بحال کر کے تعلقات کو نئی سمت دی،ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں حالیہ تبدیلی نے دنیا بھر کے میڈیا کی سرخیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا،کیرولائنا پولیٹیکل ریویو کے مطابق بھارت پاکستان کشیدگی میں شدت بڑھنے پر امریکا کو ڈی ایسکلیشن کے لیے فعال کردار اختیار کرنا پڑا جبکہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کشمیر پر بات چیت کی گنجائش کا بیان پاکستان کی سفارتی پوزیشن اور موقف کی تائید ہے۔عالمی جریدے کے مطابق پاکستان نے سفارتی محاذ پر نفسیاتی برتری حاصل کر کے واشنگٹن میں مثبت فضا قائم کی جبکہ بھارت پیچھے رہ گیا جبکہ بھارتی فوج میں بڑھتی بے چینی، حکومتی پالیسیوں پر اندرونی اختلافات اور فوج کو نظریاتی طور پر ہندوتوا اثر میں لانے کے خدشات اس فیصلے کی بڑی وجوہات سمجھی جا رہی ہیں، سوشل میڈیا پر بھارتی آرمی چیف کی مذہبی سرگرمیوں کی تشہیر پر بھی کڑی تنقید سامنے آئی تھی۔ حالیہ دنوں ایک عیسائی فوجی اہلکار سیموئیل کمالیسن کے کورٹ مارشل کا معاملہ بھی سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہا، جس سے فوج میں مذہبی آزادی سے متعلق سوالات اٹھے، اس کے علاوہ بہار میں فوجی وردیاں پہن کر حکومت مخالف نعروں کی ویڈیوز بھی وائرل ہوئیں، سوشل میڈیا پر بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں، کمزور مورال، مبینہ ہراسانی کے واقعات اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر عوامی ردعمل نے بھی عسکری قیادت کو دبا ئو میں رکھا جس سے بھی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ بھارت کسی قدر پستی میں جا چکا ہے کیونکہ مودی کی پالیسیاں بھارت کو مزید دلدل میں پھنسا رہی ہیں جہاں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مسلمان ہوں یا عیسائی کوئی بھی ہندو بربریت سے محفوظ نہیں آئے روز بھارت میں اقلیتوں پرتشدد کے واقعات ہو رہے ہیں جن پر ملکی اور غیر ملکی این جی اوزنے بھی لب سی رکھے ہیں؟ بھارت میں مسیحی برادری پر انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف سربراہ سکھ فار جسٹس گرپتونت سنگھ پنوں نے آواز اٹھائی گرپتونت سنگھ پنوں نے حملوں کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے شمال مشرقی بھارت میں ٹرمپ لینڈ کے نام سے مسیحی وطن بنانے کی تجویز دی،مسلمانوں سے نفرت اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی ہندو مہاسبھا بجرنگ راشٹریہ سیوک سنگھ کی مکروہ پالیسیاں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں، وہ مسلمانوں کو تنگ کرنے کیلئے مساجد مزارات اور اسلامی شناخت والی ہر چیز کود فنانے کے درپے ہیں جو ان کی بھول ہے کیونکہ مسلمان دین کیلئے کٹ مرنے کو تیار ہے اور وہ اپنی شناخت ختم کرنے والے کو ختم کرکے دم لیں گے دوسری طرف بھارتی میڈیا بھی بی جے پی کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے لیکن داد دیتے ہیں اخبار دی ہندو کو جس نے سچ بول ہی دیا۔

ٹیگز: