تحریک انصاف کی حکومت مخالف تحریک نے 5 اگست کو اپنے بام عروج پر پہنچنا تھا لیکن حالات و واقعات کا کچھ ایسا سلسلہ یعنی سزاﺅں کا دور چل پڑا کہ جو حالت امن میں بھی کسی تحریک کے شروع ہونے اور پھر اسے بام عروج پر پہنچنے کے لوازمات کو پورا کرتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی اگر پورے ملک میں راوی چین ہی چین لکھ رہا ہے تو یہ بات یقینا تحریک انصاف کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہو گی۔ سرگودھا کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے بعد فیصل آباد کی عدالت نے بھی 9 مئی کے سو سے زیادہ ملزمان کو سزا سنا دی۔ 185 میں سے 108 کو سزا سنائی گئی جبکہ 88 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ 9 مئی کے حوالے سے سول لائن تھانے میں درج 4 میں سے 3 مقدمات کا ہے۔ اس میں تحریک انصاف کی عمران خان کے بعد جو قیادت ہے اس میں سے بیشتر کو سزا سنائی گئی۔ ان میںشبلی فراز، زرتاج گل، کنول شوزب، راشد شفیق، اشرف سوہنا اور دیگر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا بھی شامل ہیں۔ ان سب کو دس دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سابق وفاقی وزیر فواد چودھری اور زین قریشی سمیت 88 ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ 24 جولائی کو شائع ہونے والے کالم ”9 مئی کے کچھ حقائق“ میں عرض کیا تھا کہ ”اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد سے پہلے سے لے کر اب تک تحریک انصاف کی جانب سے جو ماحول بنایا گیا وہ کچھ اس طرح تھا۔ ہمت ہے تو خان کے خلاف عدم اعتماد لے کر آﺅ۔ عدم اعتماد آ گئی۔ ہمت ہے تو خان کے خلاف مقدمات بنا کر دکھاﺅ۔ مقدمات بھی بن گئے۔ ہمت ہے تو بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات بنا کر دکھاﺅ۔ ان کے خلاف بھی مقدمات بن گئے۔ ہمت ہے تو خان کو گرفتار کر کے دکھاﺅ۔ خان صاحب گرفتار بھی ہو گئے۔ ہمت ہے تو بشریٰ بی بی کو گرفتار کر کے دکھاﺅ۔ وہ بھی گرفتار ہو گئیں۔ ہمت ہے تو خان پر کیس چلا کر دکھاﺅ۔ کیس بھی چلنا شروع ہو گئے۔ ہمت ہے تو خان کو سزا دے کر دکھاﺅ۔ 190 ملین پاﺅنڈ کیس میں سزا بھی ہو گئی۔ اسی طرح 9 مئی کے کیسز میں بار بار ہر ٹاک شو میں ڈھٹائی کی حد تک کہا گیا کہ ثبوت ہیں تو لا کر دکھاﺅ اور ملٹری کورٹ سے جن کو سزائیں ہوئیں ان سب کی ہر ایک کی الگ الگ وڈیوز الیکٹرانک میڈیا پر دکھائی گئی لیکن اس کے باوجود بھی کہا گیا کہ ثبوت ہوتے تو اب تک سزا ہو چکی ہوتی یعنی ہمت ہے تو سزا دے کر دکھاﺅ تو اب سزائیں بھی ہو گئیں۔ ہم نے اپنی انہی تحریروں میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے لیے کئی بُری خبریں ہیں اور ان میں سے ایک نو مئی کے کسیز کے فیصلوں کے حوالے سے بھی خبریں ہیں کیونکہ سپریم کورٹ نے 8 اپریل کو ماتحت عدلیہ کو 9 مئی کے کیسز کا چار ماہ میں فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا جو 7 اگست کو پورے ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں پر رکے گا نہیں بلکہ سات اگست سے پہلے عین ممکن ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو بھی 9 مئی کے مقدمات میں سزا سنا دی جائے۔“
سیاست دانوںکو سزائیں ہوں یا ان پر مقدمات بنیں یا کسی کے جمہوری حقوق سلب کیے جائیں تو اس پر کسی جمہوریت پسند کو خوشی نہیں ہو گی لیکن 9 مئی کے حوالے سے یقینا کچھ سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا 9 مئی کو احتجاج کیا گیا تھا اور اگر یہ احتجاج تھا تو قیام پاکستان سے پہلے سے پورے ملک میں احتجاج کے لیے جو مروجہ مقامات ہیں وہاں احتجاج کیوں نہیں کیا اور سب سے بڑا سوال کہ آخر آپ احتجاج کس وجہ سے کر رہے تھے اس لیے کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جس طرح آپ 2018 میں حکومت میں آئے ویسے ہی 2024 میں موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو اس میں سیخ پا ہونے والی کون سی بات تھی اور پھر وقت نے ثابت کیا کہ جو امر آپ اپنے لیے جائز سمجھتے ہیں وہ دوسروں کے لیے ناجائز ہو جاتا ہے۔ جو کام آپ کے لیے حلال ہوتا ہے وہ دوسروں کے لیے حرام ہو جاتا ہے۔ جس طرح قاسم سوری نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کیا تھا وہ آپ کے نزدیک عین آئینی تھا لیکن حزب اختلاف اگر آپ کے کسی رکن کو توڑے بغیر بنا کسی ہارس ٹریڈنگ کے آپ کے خلاف آئین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک لائے تو وہ غیر آئینی ہو جاتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ جس طریقے، جس انداز اور جس طرح 2022 میں اس وقت کے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے عدم اعتماد کی تحریک کو مسترد کیا تھا تو تمام پڑھنے والوں سے سوال ہے کہ پھر وہ کون سا آئینی طریقہ تھا کہ جسے اختیار کرتے ہوئے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹایا جاتا لیکن اس کے باوجود بھی اگر انہیں آئینی طریقے سے ہی ہٹایا گیا تھا تو اس کے بعد 180 دنوں میں سو جلسے اور پھر 9 مئی کرنے کا کیا جواز بنتا تھا اور اس کے بعد پھر بار بار خیبر پختون خوا کی سرکاری مشینری کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی۔ یہ کون سی جمہوری کتاب میں لکھا ہے کہ آپ جمہوریت کی بجائے انقلابی طرز عمل اختیار کریں اور جب ناکام ہو جائیں تو پھر جمہوری لبادہ اوڑھ کر اس میں چھپنے کی کوشش کریں۔ ایسا کبھی ہوا ہے اور نہ کوئی ریاست ایسے ہتھکنڈوں کو برداشت کرتی ہے۔