Wed, September 16, 2026

اسلام آباد: آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی حکومت پر کڑی تنقید، عام انتخابات 2024 کو مسترد کر دیا گیا

اسلام آباد: آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی حکومت پر کڑی تنقید، عام انتخابات 2024 کو مسترد کر دیا گیا

اسلام آباد: تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت، انتظامیہ اور موجودہ نظام پر شدید تنقید کرتے ہوئے 2024 کے عام انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

کانفرنس کے منتظم اور سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے الزام لگایا کہ اسلام آباد انتظامیہ نے مقامی ہوٹل میں ہونے والی کانفرنس کو منسوخ کرایا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو منظم طریقے سے دبایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے جگہ فراہم نہ کرنا جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ "ملک میں ایک ایسا ہائبرڈ نظام نافذ کیا جا رہا ہے جو اپوزیشن کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے،" مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا۔

پریس کانفرنس کے دوران مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جس میں آئینی، سیاسی اور معاشی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیے میں درج ذیل نکات پر زور دیا گیا:

    عام انتخابات 2024 کو مسترد کیا گیا۔

    عدلیہ کی آزادی اور شفاف انتخابات کے لیے آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

    بانی تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ کی قید کی مذمت کرتے ہوئے فوری رہائی پر زور دیا گیا۔

    ٹرتھ اینڈ ری کنسلیشن کمیشن کے قیام کی تجویز دی گئی تاکہ ماضی کی سیاسی زیادتیوں کا ازالہ ممکن ہو۔

    ملک کو نئے میثاقِ جمہوریت کی طرف لے جانے پر اتفاق کیا گیا۔

مصطفیٰ نواز کھوکھر نے مزید کہا کہ 45 فیصد سے زائد پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، مہنگائی کے باعث تنخواہ دار طبقہ مشکلات کا شکار ہے اور کاروباری طبقہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔

انہوں نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق کیا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے ایک متحدہ اور دیرپا حکمتِ عملی اپنانا ہو گی، تاکہ جمہوریت، انسانی حقوق اور آئین کی بالادستی کو بحال کیا جا سکے۔

ٹیگز: