دو دن قبل سوشل میڈیا پر ایک سرکلر گردش میں آیا جس میں ہفتے کے آخری دو دن کورونا طرز کا لاک ڈا¶ن تجویز کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت سے منسوب اس سرکلر میں بظاہر یہ سوچ کارفرما تھی کہ چونکہ ویک اینڈ عام تعطیلات کے دن ہوتے ہیں، اس لیے ان دو دنوں میں مکمل بندش سے شاید کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ مگر یہ اندازِ فکر خالصتاً بیوروکریٹک تھا۔ ایک ایسی سوچ جس میں ہفتے کے آخری دن آرام اور عملی سرگرمیوں سے لاتعلقی کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جمعہ خود ایک ہاف ڈے ہوتا ہے، بلکہ دیہی علاقوں میں تو اکثر مارکیٹیں تقریباً بند رہتی ہیں، جبکہ بڑے شہروں میں بھی کاروبار محدود ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر ہفتے اور اتوار کو بھی مکمل بندش کر دی جائے تو یہ عملاً تین دن کے معاشی تعطل کے مترادف ہے یعنی آدھا ہفتہ بند۔ یہ سرکلر ایسے وقت میں سامنے آیا جب کاروباری طبقہ اور عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں، کاروباری لاگت میں اضافے اور کھپت میں کمی جیسے شدید دبا¶ کا شکار ہے۔ اس خبر نے نہ صرف تاجروں بلکہ دیہاڑی دار مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے دکانداروں سمیت لاکھوں افراد کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ کورونا کے اثرات سے ابھی مکمل طور پر نہ سنبھل پانے والے کاروبار ایک بار پھر خوف کی کیفیت میں چلے گئے۔ خوش قسمتی سے، اسی روز درونِ خانہ رابطوں، فیصلہ ساز حلقوں تک رسائی اور صورتحال کی بروقت آگاہی کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اس سرکلر کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ تاہم اس مختصر وقفے میں پیدا ہونے والی بے یقینی نے یہ واضح کر دیا کہ کاروباری برادری کسی بھی ایسے ممکنہ فیصلے کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اسی تناظر میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے فوری طور پر ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جہاں مختلف کاروباری تنظیموں کے نمائندگان اکٹھے ہوئے۔ مجھے بھی اس پریس کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جہاں سابق وزیر تجارت پنجاب ایس ایم تنویر، چین اسٹور ایسوسی ایشن کے پیٹرن انچیف رانا طارق محبوب، سینئر رہنما کیپ واصف بٹ، ایپٹما کے چیئرمین کامران ارشد اور چیئرمین نارتھ اسد شفیع اور وائس پریزیڈنٹ ایف پی سی سی آئی زکی اعجاز سمیت دیگر اہم رہنما¶ں کی گفتگو سننے اور ان سے براہ راست تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا۔ ان ملاقاتوں سے اندازہ ہوا کہ صورتحال کس قدر سنگین رخ اختیار کر سکتی تھی۔
پاکستان کی معیشت کا حجم تقریباً 400 ارب ڈالر ہے، جس میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ تقریباً 18 فیصد یعنی 80 ارب ڈالر (تقریباً 21 ٹریلین روپے) بنتا ہے۔ اگر صرف مارکیٹوں کو شام کو جلد بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے تو اندازاً 25 سے 30 فیصد کاروبار متاثر ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے تقریباً 1.5 ارب ڈالر (420 ارب روپے) ماہانہ نقصان۔ ایک طرف حکومت کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے حصول کے لیے سخت شرائط اور طویل مذاکرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے غیر دانشمندانہ اقدامات سے اس سے کہیں زیادہ نقصان مول لینے کی بات کی جاتی ہے۔ یہ نقصان صرف کاروباری نہیں بلکہ قومی خزانے کے لیے بھی شدید دھچکا ہے۔ ایف بی آر کو ٹیکس ریونیو میں تقریباً 100 ارب روپے ماہانہ کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر ہفتے میں دو دن مکمل بندش نافذ کی جائے، جو حقیقت میں جمعہ کو ملا کر تین دن بنتی ہے، تو صرف ریٹیل سیکٹر میں ایک دن کا نقصان تقریباً 56 ارب روپے، دو دن کا 115 ارب روپے، اور جمعہ کے اضافے کے ساتھ یہ تقریباً 150 ارب روپے فی ویک اینڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ اگر اس میں انڈسٹری اور دیگر شعبوں کو شامل کر لیا جائے تو یہ نقصان معیشت کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کے مترادف ہے۔ اسی دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کا ایک بیان بھی سامنے آیا جس میں انہوں نے یورپ کی طرز پر جلد مارکیٹیں بند کرنے کی تجویز دی۔ ایک ذمہ دار اور تجربہ کار سیاسی شخصیت کی جانب سے بغیر مکمل حقائق و اعداد و شمار کو مدنظر رکھے ایسا بیان دینا کسی طور بھی ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے یورپ جیسی سہولیات، انفراسٹرکچر اور سماجی نظام بھی نافذ کر لیا ہے؟ مزید یہ کہ ہر خطے کا اپنا طرز زندگی، موسم اور معاشی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ ایشیا کے ٹاپ معاشی ممالک میں مارکیٹیں رات دیر تک کھلی رہتی ہیں، کیونکہ یہی ان کی معاشی سرگرمی کا تقاضا ہے۔
ہم پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں، اور جو تھوڑا بہت کاروبار چل رہا ہے، اسے بھی محدود کرنے کے لیے ایسے غیر سنجیدہ مشورے کافی ہیں۔ تاہم، ہر بحران اپنے اندر ایک موقع بھی چھپائے ہوتا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی معیشتیں، جو سرمایہ کاری اور استحکام کی علامت سمجھی جاتی تھیں، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ سرمایہ تیزی سے محفوظ مقامات کی تلاش میں ہے۔ پاکستان اس وقت سیاسی، سفارتی اور دفاعی سطح پر ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی اعتماد حاصل کر رہا ہے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس اعتماد کو معاشی مواقع میں بدل سکتے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں، خصوصاً وہ جو دبئی جیسے ممالک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں، کو اعتماد دیا جائے۔ سرمایہ واپس لانے والوں کو نہ صرف کلین چٹ بلکہ ایک واضح اور پرکشش معاشی روڈمیپ فراہم کیا جائے۔ ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اور انڈسٹری کے شعبوں میں اصلاحات، طویل المدتی مراعات، ٹیکس میں سہولت، ایکسپورٹ زونز کی بہتری، اور ایف بی آر و کسٹمز کے نظام میں شفافیت اور آسانی لائی جائے۔ یہی وہ وقت ہے جب ہم اپنی معیشت کو حقیقی معنوں میں اپنے پا¶ں پر کھڑا کر سکتے ہیں۔ قدرت ہمیں بار بار مواقع دیتی ہے، مگر ہم اکثر انہیں ضائع کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی معیشت کے گرد بیوروکریسی کی نااہلی کا ایک غیر اعلانیہ لاک ڈا¶ن لگا رکھا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ اسٹیک ہولڈرز سے م¶ثر مشاورت کرے، اعتماد سازی کو عملی اقدامات میں بدلے، اور جس طرح پاکستان ایک مضبوط فوجی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے، اسی طرح اسے معاشی میدان میں بھی ایک ایشین ٹائیگر بننے کی سمت قدم بڑھانا ہوگا،ورنہ ہماری ترقی ہمیشہ ادھوری اور کمپرومائزڈ ہی رہے گی۔