حالیہ دنوں میں پنجاب میں لاک ڈاو¿ن کے نفاذ کے دوران جو طرزِ عمل دیکھنے میں آیا، وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ تشویشناک بھی۔ پولیس اور پیرا فورس کے ذریعے تاجروں کے ساتھ سختی، بدتمیزی اور بعض اوقات تضحیک آمیز رویہ ایف آئی ارز کا اندراج اختیار کیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف کاروبار متاثر ہو رہے ہیں بلکہ بے روزگاری میں اضافہ اور جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسے اقدامات سے حکومت کی نیک نامی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوامی مسائل کا حل عوامی مشاورت سے تلاش کرے۔ اگر لاک ڈاو¿ن واقعی ناگزیر ہے تو اس کے لیے سب سے پہلے عوام میں شعور اور آگاہی پیدا کی جانی چاہیے۔ تاجر برادری کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ایک متفقہ لائحہ عمل ترتیب دینا زیادہ مو¿ثر اور دیرپا حل ہو سکتا ہے۔ مگر یہاں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پرانے نوآبادیاتی دور کے اور کوڈ کے زمانے میں بنائے گئے قوانین اور طریقہ کار کو اپناتے ہوئے فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں، جن میں نہ عوام کی رائے شامل ہوتی ہے اور نہ ہی زمینی حقائق کا ادراک۔
ایس او پیز کا اندھا دھند نفاذ، بغیر کسی لچک اور سمجھ بوجھ کے، مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید بڑھا رہا ہے۔ حکومتی مشینری کی جانب سے قوانین کا بے رحمانہ استعمال عوام کے لیے اذیت کا باعث بن رہا ہے۔ تاجر برادری کی جانب سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی ہیں کہ انہیں بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے، دکانیں زبردستی بند کروائی جا رہی ہیں اور بعض اہلکاروں کے بارے اس صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے رشوت ستانی میں بھی ملوث پانے کی شکایات بڑھتی جا،رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف تاجروں کے لیے پریشانی کا باعث ہے بلکہ عام شہری بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں۔ جب کاروبار بند ہوں گے تو روزگار کے مواقع کم ہوں گے، جس کا براہِ راست اثر غربت اور جرائم میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے اور متعلقہ اداروں کے خلاف بڑھتی ہوئی شکایات پر شفاف احتساب کا عمل شروع کرے۔
ایک اہم پہلو دکانوں کے اوقات کار کا بھی ہے۔ موجودہ حالات میں دکانوں کو جلد بند کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے معاشرتی اور معاشی حالات دیگر ممالک سے مختلف ہیں۔ یہاں لوگوں کے کام کرنے کے اوقات کار بھی مختلف ہوتے ہیں، خاص طور پر گرمیوں میں کاروباری سرگرمیاں شام اور رات کے اوقات میں زیادہ ہوتی ہیں۔ اس لیے دکانیں رات دس بجے تک کھلی رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ کاروبار بھی چل سکے اور عوام کو بھی سہولت حاصل ہو۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دیگر صوبوں میں تاجروں سے مشاورت کے بعد دکانوں کے اوقات کار میں نرمی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟ کیا یہاں کے حالات مختلف ہیں یا پھر فیصلہ سازی میں سنجیدگی اور لچک کا فقدان ہے؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان سوالات کا جواب دے اور ایسے اقدامات کرے جو عوام کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ مزید مشکلات۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ لاک ڈاو¿ن کے پیچھے ایک بڑی وجہ بجلی اور پٹرول کی بچت بتائی جا رہی ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم وقتی اقدامات کے بجائے دیرپا حل تلاش کریں۔ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ خصوصاً سولر انرجی ایک ایسا ذریعہ ہے جو پاکستان جیسے ملک کے لیے انتہائی موزوں ہے، جہاں سال کے بیشتر حصے میں سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب رہتی ہے۔
پاکستان میں اوسطاً بارہ گھنٹے تک سورج کی روشنی میسر ہوتی ہے، جو ایک بڑی نعمت ہے۔ اگر اس قدرتی وسیلے کو مو¿ثر طریقے سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ پٹرول اور دیگر ایندھن پر انحصار بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ گھروں، دکانوں اور فیکٹریوں میں سولر سسٹمز کے فروغ سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ ماحول دوست توانائی کو بھی فروغ ملے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سولر انرجی کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے، عوام کو سبسڈی فراہم کرے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کو آسان بنائے۔ اگر آج اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کیے جائیں تو مستقبل میں پیدا ہونے والے توانائی کے مسائل کا حل بھی یہی ہو سکتا ہے۔ بصورت دیگر، ہم بار بار انہی وقتی اقدامات جیسے لاک ڈاو¿ن کا سہارا لیتے رہیں گے، جو مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
اگر حکومت واقعی بجلی کی بچت جیسے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے جامع اور منصفانہ حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ صرف کاروباری طبقے پر بوجھ ڈالنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ توانائی کے استعمال میں کمی کے لیے دیگر شعبوں میں بھی اقدامات کیے جائیں تاکہ ایک متوازن اور مو¿ثر پالیسی سامنے آ سکے۔ مزید برآں، سرکاری مشینری کی اصلاح بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایسے عناصر جو ان حالات کا فائدہ اٹھا کر اپنی جیبیں بھرنے میں مصروف ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کے اس طرزِ عمل سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ حکومت کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حکومت کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرتے ہوئے عوام دوست اقدامات کرنے ہوں گے۔ تاجر برادری کو اعتماد میں لے کر، ان کے مسائل سن کر اور ان کے ساتھ مل کر فیصلے کیے جائیں تو نہ صرف مسائل کم ہوں گے بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ بھی مضبوط ہوگا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ سختی کے بجائے حکمت، جبر کے بجائے مکالمہ اور یکطرفہ فیصلوں کے بجائے اجتماعی سوچ کو فروغ دیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف معیشت کو سنبھال سکتا ہے بلکہ معاشرتی استحکام کو بھی یقینی بنا سکتا ہے۔