دنیا میں موجود ہرشے اپنے اندر ایک ٹیلنٹ رکھتی ہے جسے اس کا حسن، خوبصورتی یا فطرت کہتے ہیں۔ مثلاً پھول کا ٹیلنٹ اس کی نازکی، خوبصورتی اور خوشبو ہے۔ پتھر کا ٹیلنٹ سختی اور دوسروں کو چوٹ لگانا ہے۔ بچھو کا ٹلنٹ دوست اور دشمن دونوں کو ڈنک مارنا ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کی خوبصورتی ہے۔ اظہار رائے کی آزادی میڈیا کا حسن ہے۔ بالکل ایسے ہی انسانوں میں علیحدہ علیحدہ ٹیلنٹ موجود ہوتے ہیں۔ کوئی اچھی گفتگو کرلیتا ہے تو کوئی اچھا لکھ لیتا ہے۔ کوئی چاند چہرہ ہوتا ہے تو کسی کی گڈگورننس بے شمار لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ کوئی علم و دانش میں لاثانی ہے تو کوئی بےوقوفی میں اپنی مثال آپ ہوتا ہے۔ جدید معاشرے کی ابتدا سے اب تک انسانوں اور ان کے اردگرد پائی جانے والی ہرشے کو انہی ٹیلنٹ کی بنا پر برتری یا کمتری حاصل ہوتی تھی۔ ٹیلنٹ کا ہونا کسی کو نمایاں کرتا تھا اور نہ ہونا گمنامی میں لے جاتا تھا۔ یعنی پہلے ٹیلنٹ کی حکمرانی تھی مگر ماڈرن دنیا میں ٹیلنٹ کی بجائے تعلقات کا استعمال شروع ہوگیا ہے۔ اس نئی ایجاد کو لابنگ کا نام دیا گیا ہے جس میں بااختیار لوگوں سے تعلقات پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان تعلقات کی بنےاد پر فےصلہ اپنی مرضی کے مطابق کراےا جاتا ہے یا حالات کا رخ اپنے حق میں موڑا جاتا ہے اور اس کو درست ثابت کرنے کے لےے پراپیگنڈا کےا جاتا ہے۔ لابنگ کی اصطلاح تحرےری طور پرپہلی مرتبہ 1820ءمےں امرےکہ سے ظاہر ہوئی لےکن دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ ہرشعبے مےں تےزی سے اپنے پرپرزے نکالنے لگی۔ لابنگ کے فلسفے مےں انتہائی شدت اس وقت آئی جب انٹرنےٹ، موبائل فون، الےکٹرانک و ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا نے پوری دنےا کو اپنے پنجوں مےں جکڑ لےا۔ اب تمام کام، سب خواہشےں اور ےہاں تک کہ اپنے حقوق بھی لابنگ کے ذرےعے ہی حاصل کےے جاتے ہےں اور دوسروں کے حقوق سلب بھی کیے جاسکتے ہیں۔ گھر ہو دفتر ہو قومی سطح ہو یا بےن الاقوامی سطح ہو کسی اےشو کو صحےح کہنا ےا غلط سمجھنا مشکل ہے۔ ہراےشو لابنگ کا مرہون منت ہوگےا ہے۔ اگر لابنگ کرنے والے مضبوط ہےں تو فےصلہ وہی ہوگا جو وہ چاہتے ہےں، خواہ کروڑوں لوگ اس کے مخالف ہی کےوں نہ ہوں۔ بھارت کے زیرتسلط مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ہاتھوں کشمیریوں کی آزادی سلب ہونا بھارت کی بین الاقوامی لابنگ کی واضح مثال ہے۔ پہلے ہرملک کی وزارت خارجہ اپنا کام خود کرتی تھی اب وزارت خارجہ کو بھی اپنے خارجہ امور چلانے کے لےے بڑی بڑی لابنگ فرموں کا سہارا لےنا پڑتا ہے۔ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے امداد لینا ہویا امریکی کانگریس میں امدادی بل کی شرائط نرم ےا سخت کرانا ہوں، میرٹ کی بجائے بہتر ےا کمزور لابنگ کی بنےاد پر فےصلہ ہوتا ہے۔ انٹرنےشنل خرےدو فروخت مےں فےصلہ ساز افراد کو بڑی بڑی رشوتےں کک بےکس کے نام پر دی جاتی ہےں۔ ےہ کک بےکس لابنگ کے ذرےعے ہی لےے اور دئےے جاتے ہےں۔ کسی ملک مےں باہر سے آنے والے وفود ےا کسی ملک سے باہر جانے والے وفود لابنگ کے لےے ہی آتے جاتے ہےں۔ ملکی سطح پر پارلےمنٹ مےں کوئی قرارداد منظور کرانا ہو، کوئی الےکشن جےتنا ہو، کسی نے وزےر مشےر ےا سفےر بننا ہو ےا کسی کی چھٹی کرانا ہو، میرٹ ےا پارٹی کی بجائے لابنگ کا فارمولا بہت کامےاب ہے۔ اےک سےاسی پارٹی کے اندر بھی مختلف لابےاں ہوتی ہےں۔ پہلے سرکاری کام رشوت ےا سفارش سے ہو جاےا کرتے تھے اب رشوت اور سفارش کے لےے بھی لابی کا سہارا لےنا پڑتا ہے۔ پہلے اچھے لکھاری اپنی تحرےر کے بل بوتے پر ادبی حلقوں اور مشاعروں مےں جگہ پاتے تھے مگر اب ادےبوں اور شاعروں مےں بھی لابی سراےت کرگئی ہے۔ وہی ادےب اور شاعر صف اول کا رائٹر ہے جس کی لابی مضبوط ہے۔ پہلے سکالر تحقےق اور محنت کی بنےاد پر پی اےچ ڈی کرتے تھے اب اکثر پی ایچ ڈی کرنے والوں کو لابی کا سامنا ہوتا ہے۔ اسی طرح پہلے صحافی اپنی خبر یا تجزیئے کی بنےاد پر پہچانے اور پڑھے جاتے تھے جبکہ اب اکثر مےڈےا پرسنز کی سےاسی جماعتوں مےں لابی موجود ہے اور بےشتر لےڈران صرف اپنی اپنی لابی کے صحافےوں کی بات سنتے اور انہی سے بات کرتے ہےں۔ دفاتر مےں ترقی پانے ےا دوسروں کو سبق سکھانے کے لےے بھی لابی بڑی کارآمد چےز ہے۔ کاروباری دنےا مےں بھی بہت سے لابی باز اپنا اپنا کاروبار چلا رہے ہےں۔ لابنگ کا زہر اجتماعی سطح سے نکل کر انفرادی سطح پر بھی اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ مثلاً خاندانوں کے اندر بھی کچھ افراد غےرمحسوس انداز سے لابی کے طور پر کام کررہے ہوتے ہےں اور اپنے ناپسندےدہ رشتے داروں اور اختلاف کرنے والے عزےزو اقارب کو بدنام کرنے ےا تنہا کرنے مےں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ پہلے بڑے بوڑھے اپنے بچوں کی رشتے دارےاں قائم کرنے کے لےے اپنے اپنے خاندانی طرےقے اور رکھ رکھاﺅ کا استعمال کرتے تھے مگر اب شادی بےاہ کے لےے ہدف مقرر کےا جاتا ہے پھر اُس کے لےے خاندانی لابنگ کی جاتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے ےہ ہدف حاصل نہ ہوتو کوشش ےہ ہوتی ہے کہ اسے کوئی بھی حاصل نہ کرسکے۔ پہلے لڑکے لڑکےاں اےک دوسرے کی محبت مےں مبتلا ہوتے تھے۔ کسی کو کسی کی کوئی بے ساختہ ادا پسند آجاتی تھی ےا کوئی بات دل لے جاتی تھی مگر اب اکثر لڑکے لڑکےاں بے ساختہ اداﺅں اور دل لبھانے والی باتوں کی باقاعدہ منصوبہ بندی کرتے ہےں جسے لَولابنگ کہا جاسکتا ہے۔ اگرچہ انسانی فطرت کے لےے لابنگ اےک ناپسندےدہ عمل ہے اور اس مےں کرپشن، جارحانہ پن اور قبضہ مافیا والی فطرت کی بہت گنجائش ہوتی ہے مگر پھر بھی ےہ انسانوں اور معاشروں پر حاوی ہوتا جارہا ہے۔ لابنگ کرنے والے بھاری معاوضے اور انعام کی توقع رکھتے ہےں۔ ےہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ مثلاً جب فرعون نے بہت سے چھوٹے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے کہا کہ وہ حضرت موسیٰ ؑکے سامنے اپنا جادو دکھائےں تو جادوگروں نے فرعون سے پوچھا کہ اگر وہ کامےاب ہوگئے تو انہیں کےا معاوضہ ملے گا؟ فرعون نے کہا کہ وہ تمام جادوگر میرے دربار میں جگہ پائےں گے۔ لابنگ میں صرف اپنی مرضی، خواہش اور مفاد کو اہمیت دی جاتی ہے خواہ اس مےں حقےقت اور سچائی کو قتل ہی کےوں نہ کرنا پڑے۔ اگر موجودہ حالات کا تجزیہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ میرٹ اور سچائی کو نظرانداز کرنے والے جادوگر اِس وقت موجودہ فرعونوں کے درباروں میں جابجا موجود ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ لابنگ نےو ورلڈ آرڈر کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسی لےے ہرطرف میرٹ کے بجائے لابی کی حکومت ہے۔