Wed, September 16, 2026

نیتن یاہو کی غزہ پالیسی پر اسرائیلی حکومت میں پھوٹ، وزیر خزانہ کی حکومت گرانے کی دھمکی

نیتن یاہو کی غزہ پالیسی پر اسرائیلی حکومت میں پھوٹ، وزیر خزانہ کی حکومت گرانے کی دھمکی

یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر فوجی کنٹرول کی تجویز نے ان کی اپنی حکومت میں ہلچل مچا دی ہے۔ اسرائیل کے وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے اس پالیسی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے حکومت ختم کرنے اور نئے انتخابات کی دھمکی دے دی ہے۔

اسموٹرچ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت جنگ کے اصل مقاصد سے ہٹتی ہے، تو یہ اسرائیل کے لیے خطرناک ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب نیتن یاہو کی قیادت پر اعتماد نہیں رکھتے، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ وزیراعظم فوج کو حماس کے خلاف مکمل فتح کی طرف لے جانا ہی نہیں چاہتے۔

سکیورٹی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں اسموٹرچ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اب عوام کو فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر جنگ کا واضح نتیجہ سامنے نہیں آتا، تو حکومت کو ختم کر کے فوری انتخابات کرائے جائیں۔

اسی دوران دائیں بازو کی ریلیجیس صیہونیت پارٹی کے رکن زوی سوکوٹ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ کے اہداف ترک کیے گئے تو وہ بھی حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ان کے مطابق 6 اکتوبر 2023 سے پہلے والی صورتحال پر واپس جانا اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہوگا۔

یاد رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے وزیراعظم نیتن یاہو کی اس تجویز کو منظور کیا ہے جس کے مطابق غزہ سے حماس کے خاتمے کے بعد وہاں فوجی کنٹرول برقرار رکھا جائے گا، اور ایک نئی سول حکومت بنائی جائے گی جس میں نہ حماس شامل ہوگی، نہ فلسطینی اتھارٹی۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسی کا مقصد غزہ پر مکمل قبضہ نہیں بلکہ حماس سے نجات دلانا ہے۔ تاہم، ان کی اس پالیسی نے حکومت میں موجود دائیں بازو کی جماعتوں کو شدید ناراض کر دیا ہے، اور اب حکومت ٹوٹنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

ٹیگز: