Wed, September 16, 2026

جنوبی ایشیا کی نئی بساط

جنوبی ایشیا کی نئی بساط


جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست ہمیشہ سے تاریخی تنازعات، علاقائی رقابتوں اور بدلتے اتحادوں کا مرکز رہی ہے۔ انہی مباحث میں ایک نہایت دلچسپ خیال گریٹر بنگلہ دیش کا ہے .... ایک ایسا تصور جو بھارت کے سیلیگری کوریڈور اور سات شمال مشرقی ریاستوں آسام، اروناچل پردیش، میگھالیہ، منی پور، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ کو بنگلہ دیش کے ساتھ ضم کرنے کے امکانات پر مبنی ہے۔ بظاہر یہ منصوبہ خواب محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے اندر پاکستان کے سٹریٹیجک مفادات کے حوالے سے کئی معنی خیز امکانات چھپے ہوئے ہیں۔
پاکستانی نقطہ نظر سے گریٹر بنگلہ دیش کا تصور محض علاقائی توسیع نہیں بلکہ بھارت کی بالا دستی کے خلاف ایک جغرافیائی توازن کا بیانیہ ہے .... ایسا حربہ جو بھارت کی اندرونی سلامتی کو کمزور کر سکتا ہے اور پاکستان و بنگلہ دیش کو سفارتی و دفاعی سطح پر برتری دلوا سکتا ہے۔
سیلیگری کوریڈور جسے عموماً ”چکنزنیک“ کہا جاتا ہے، بھارت کا سب سے کمزور جغرافیائی حصہ ہے۔ صرف 22 کلومیٹر چوڑی یہ پٹی بھارت کے مرکزی علاقے کو اس کی شمال مشرقی سات ریاستوں سے جوڑتی ہے۔ اگر کسی طرح یہ علاقہ بھارت سے منقطع ہو جائے تو شمال مشرقی بھارت کا خطہ عملاً مرکزی بھارت سے الگ ہو جائے گا۔
پاکستانی نقطہ نظر سے یہ خطہ بھارت کے جغرافیائی وجود کی ” اکیلز ہیل“ ہے۔ اس علاقے میں سیاسی یا سماجی بے چینی پیدا ہو یا بنگلہ دیش وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھائے تو بھارت کے لیے یہ داخلی سلامتی کا ایک نیا محاذ بن سکتا ہے۔ پاکستان خود جغرافیائی طور پر وہاں مداخلت نہیں کر سکتا مگر سفارت کاری، معاشی روابط اور معلوماتی تعاون سے بنگلہ دیش کے ذریعے بالواسطہ اثرانداز ہونے کی حکمتِ عملی اختیار کر سکتا ہے.
بنگلہ دیش اب جنوبی ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت بن چکا ہے۔ صنعت، برآمدات اور سماجی ترقی کے میدان میں اس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں مگر ساتھ ہی ڈھاکہ میں ایک نئی فکری لہر جنم لے رہی ہے جو بھارت پر انحصار کے حق میں نہیں۔
بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کے بنگالی، مسلم اور نسلی گروہ بنگلہ دیش کے ساتھ لسانی اور ثقافتی تعلق رکھتے ہیں۔ آسام اور تریپورہ میں بنگالی نسل کی بڑی آبادی موجود ہے۔ یہی رشتہ مستقبل میں بنگلہ دیش کیلئے اس خطے پر اثر انداز ہونے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اگر ڈھاکہ چاہے تو لسانی و ثقافتی یکجہتی یا سرحد پار اقتصادی تعلقات کے نام سے اس خطے میں سیاسی اثر بڑھا سکتا ہے۔ یہ کوئی فوجی قبضہ نہیں بلکہ ایک بتدریج سیاسی و معاشی انضمام کی صورت ہو سکتی ہے جو بظاہر نرم، مگر بھارت کیلئے نہایت خطرناک ہوگا۔
پاکستان کے لیے گریٹر بنگلہ دیش کا تصور نظریاتی نہیں بلکہ خالصتاً عملی سیاست کا معاملہ ہے۔ بھارت کی مشرقی سرحد پر اگر بنگلہ دیش کسی بھی شکل میں اثر و رسوخ قائم کر لے تو یہ اسلام آباد کے دیرینہ سٹرٹیجک ہدف .... یعنی بھارت کی اندرونی تقسیم کے قریب تر قدم ہوگا۔
پاکستان اگر ڈھاکہ کو سیاسی، معاشی یا سفارتی سطح پر سہارا دے تو بنگلہ دیش ایک خودمختار علاقائی قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے جس سے بھارت کی خطے کی "اکیلی طاقت" ہونے کی حیثیت متاثر ہو گی۔
بھارت کیلئے مشرقی سرحد پر ممکنہ خطرہ پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی فوجی اور مالی توجہ وہاں مرکوز کرنا پڑے گی جس سے مغربی سرحد .... یعنی پاکستان کے خلاف محاذ ....پر دباو¿ خودبخود کم ہو گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان اپنے اندرونی معاملات ، خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں زیادہ استحکام حاصل کر سکتا ہے۔ یوں بھارت کی ان علاقوں میں مداخلت اور تخریبی سرگرمیوں میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
گریٹر بنگلہ دیش کا خواب حقیقت بننے کے لیے کئی عوامل درکار ہیں .... جیسے جغرافیائی وقت، علاقائی مفادات، عالمی سفارتی حمایت اور معاشی ہم آہنگی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش اگر مشترکہ پلیٹ فارمز پر تعاون بڑھائیں، مثلاً اقتصادی راہداریوں، اسلامی تنظیموں یا ایشیائی تجارتی اتحادوں میں، تو یہ بھارت کے لیے ایک نفسیاتی دباو¿ پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم عملی حقیقتیں اس کے برعکس ہیں۔ شیخ حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کی معیشت، توانائی اور تجارت بھارت کے ساتھ زیادہ منسلک تھی۔ حسینہ کے دور میں ہی دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی تعاون بھی گہرا رہا ہے۔ ڈھاکہ کی قیادت جانتی ہے کہ بھارت کے ساتھ براہِ راست تصادم اس کے اپنے استحکام کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے۔
پاکستان جغرافیائی طور پر بھارت کے شمال مشرق تک براہِ راست رسائی نہیں رکھتا۔ اس لیے اس کی حکمتِ عملی زیادہ تر بالواسطہ ہونی چاہئے .... سفارتی، معلوماتی، اور بیانیاتی۔ یعنی بھارت کو مشرق میں غیر محفوظ اور مغرب میں محتاط رکھنے کی پالیسی۔
بظاہر گریٹر بنگلہ دیش ایک نظریاتی یا خیالی منصوبہ دکھائی دیتا ہے لیکن اس کا صرف تذکرہ بھی بھارت کے لیے فکری دباو¿ پیدا کرتا ہے۔ اگر بھارت کو اپنے شمال مشرقی علاقوں میں علیحدگی پسند تحریکوں کے خطرات بڑھتے دکھائی دیں گے تو وہ مجبوراً اپنے فوجی وسائل وہاں منتقل کرے گا۔ بھارت نے بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے حوالے سے اسی فارمولے کے تحت اپنا پاکستان مخالف بیانیہ آگے بڑھایا ہے۔
یہ صورتحال بھارت کے دفاعی بجٹ اور اس کی علاقائی حکمتِ عملی دونوں پر اثر انداز ہوگی۔ نتیجتاً پاکستان کو اپنے مغربی سرحدی صوبوں میں زیادہ توجہ دینے، قانون و نظم بہتر کرنے اور بیرونی مداخلت کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
گریٹر بنگلہ دیش کا منصوبہ فی الوقت بظاہر ایک تصوراتی خواب معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کے سیاسی اثرات بہت حقیقی ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ محض جغرافیائی نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا ایک حربہ ہے .... ایسا بیانیہ جو بھارت کو اندرونی طور پر کشمکش میں رکھتا ہے اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئے انداز سے متعین کرتا ہے۔
 بنگلہ دیش اس وقت بھارت کے ساتھ مکمل علیحدگی کا خطرہ مول نہیں لے گا مگر وقت کے ساتھ ڈھاکہ کی خودمختاری، معاشی طاقت اور علاقائی اعتماد بڑھتا گیا تو وہ بھارت سے اپنی شرائط منوا سکتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی دانشمندانہ سفارت کاری، معاشی تعلقات اور نظریاتی ہم آہنگی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ ہوگی کہ وہ بھارت کے “ایک بھارت” کے تصور کو نفسیاتی اور نظریاتی طور پر چیلنج کرے۔ بھارت کو مغرب کے ساتھ ساتھ مشرق سے بھی غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے تو وہ خودبخود دفاعی اور دباو¿ زدہ ملک بن جائے گا۔
 یہ منصوبہ محض زمین کے ٹکڑوں کی جنگ نہیں بلکہ ذہنی و سیاسی برتری کی جدوجہد ہے۔ گریٹر بنگلہ دیش چاہے حقیقت بنے یا نہ بنے، اس کا تصور ہی بھارت کی طاقت کے توازن کو چیلنج کرتا ہے.... اور یہی پاکستان کیلئے ایک غیر روایتی مگر مو¿ثر کامیابی ہوگی۔

ٹیگز: