Wed, September 16, 2026

کون آئے گا پاکستان میں سرمایہ لگانے ؟

کون آئے گا پاکستان میں سرمایہ لگانے ؟

یہ حقیقت ہے کہ دنیا کی معیشت ایک دوڑ بن چکی ہے جو ملک تیز بھاگتا ہے، وہ ترقی کر لیتا ہے، اور جو گھسے پٹے فرسودہ نظام میں پھنسا رہ جاتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ جہاں تک وطن عزیز کا سوال ہے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان، جس کے پاس سب کچھ ہے: وسائل، محنتی لوگ، جغرافیائی اہمیت، سستی لیبر اور بڑھتی ہوئی مارکیٹ۔ وہ آج بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مشکل منزل بنا ہوا ہے آخر کیوں؟۔
دنیا کے کئی ممالک میں مقیم کامیاب بزنس مین جن میں غیر ملکی و پاکستانی سرمایہ کار شامل ہیں پاکستان میں آنا چاہتے ہیں کام کرنا چاہتے ہیں۔ خصوصاً عرب دنیا کے لوگ، ترکی کے بزنس مین، یورپی کمپنیاں ،چینی کمپنیاں، حتیٰ کہ ہمارے اپنے اوورسیز پاکستانی سب یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں ان کے لئے وسیع مواقع موجود ہیں۔ لیکن جب وہ عملی طور پر قدم بڑھاتے ہیں، تو انہیں راہ میں ایک ایسی دیوار چین نظر آتی ہے جس کا نام ہے حکومتی نظام۔
سرمایہ کار آنا چاہتے ہیں، حکمران طبقے سے ملاقات کا وقت مانگتے ہیں، منصوبے پیش کرنا چاہتے ہیں، لیکن افسوس کہ ا±ن کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ صوبائی حکومتوں میں الگ دروازے، وفاق میں الگ میزیں اور ہر میز کے پیچھے ایک نیا "پراسس"۔ جب سرمایہ کار کی ملاقات ہی اربابِ اختیار سے نہ ہو سکے تو پھر وہ کیا کرے گا؟ جب اسے اس کی سرمایہ کاری کے محفوظ اور منافع بخش ہونے کی کوئی گارنٹی ہی نا ہو تو وہ یقینا مایوس ہو کر کسی دوسرے ملک کا رخ کر لے گا، کیونکہ وہاں نا صرف اس کا خصوصی استقبال کیا جاتا ہے بلکہ وہاں اسے ملنے کے لئے ارباب اقتدار خود رابطے کرتے ہیں تاکہ اس کے جائز تحفظات کو خود دور کریں اور اسے سرمایہ کاری کے لئے راضی کریں۔ 
سب سے زیادہ افسوسناک صورتحال ا±ن پاکستانیوں کی ہے جو برسوں سے بیرونِ ممالک محنت کر رہے ہیں۔ وہ اپنی کمائی اور تجربے کو پاکستان میں لگانا چاہتے ہیں، اپنے وطن میں صنعت، تعلیم، صحت یا ٹیکنالوجی کا کوئی منصوبہ، بزنس یا فیکٹری شروع کرنا چاہتے ہیں۔ مگر جب وہ حکومت یا کسی صوبائی ادارے سے رابطہ کرتے ہیں تو ریڈ ٹیپس اور کبھی وقوع پذیر نہ ہونے والی ملاقاتوں کے وعدے ا±ن کا دل توڑ دیتے ہیں۔
کئی اوورسیز پاکستانیوں نے راقم سے خود یہ کہا کہ "ہم صوبائی یا وفاقی حکومت کے ساتھ پارٹنرشپ میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعلیٰ و وزیر اعظم چھوڑ، متعلقہ وزیر یا سیکرٹری سے ہی ملاقات ممکن نہیں۔" جب کسی ملک کا نظام اپنے 
ہی شہریوں کو سننے کے لیے تیار نہ ہو، انہیں مواقع دینے کے لئے تیار نا ہو تو غیر ملکی کیا سوچیں گے؟ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں اور شائد یہی وجہ ہے کہ پچھلی دو دہائیوں میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان آئیں اور پھر جلد ہی اپنا نظام لپیٹ کر کسی اور ملک کی طرف روانہ ہو گئیں۔ کیا کبھی کسی حکومت نے اس بارے میں سوچا؟ کہ ایسا کیوں ہوا؟ کسی نے ان وجوہات پہ توجہ دی؟ جواب ڈھونڈنے نکلیں تو نہیں ملے گا۔ 
پاکستان میں بیوروکریسی کا رویہ اب بھی نوآبادیاتی دور جیسا ہے۔ فائل ایک میز سے دوسری میز پر جاتی رہتی ہے، غیر ملکی سرمایہ کار کو ہر قدم پر ایک نئی شرط، نیا این او سی اور نئی فیس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے ماحول میں کون اپنا پیسہ لگائے گا؟ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں سرمایہ کاروں کے لیے "ون ونڈو آپریشن" موجود ہیں۔ مگر پاکستان میں آج بھی سرمایہ کاری کا مطلب ہے "دفتری چکر در چکر"۔
یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ سرمایہ کار مختصر مدت کے نہیں بلکہ طویل منصوبے سوچ کر آتا ہے۔ مگر یہاں پالیسیوں میں تسلسل ہی نہیں۔ ایک حکومت آتی ہے تو سرمایہ کاروں کو مراعات دیتی ہے، دوسری آ کر سب منسوخ کر دیتی ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال نے غیر ملکی انویسٹرز اور بڑی کمپنیوں کو ہم سے دور کر دیا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ”ہم کیسے سرمایہ لگائیں جب کل پالیسی ہی بدل جائے گی؟“۔ اوپر لکھا ہے پھر لکھ رہا ہوں کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو صرف اجازت نامہ نہیں چاہیے ا±نہیں اعتماد چاہیے، حکومتی گارنٹی چاہئے اور ارباب اختیار کے کھلے دروازے چاہئیں کیونکہ وہ سننا چاہتے ہیں، جاننا چاہتے ہیں کہ ا±ن کا سرمایہ محفوظ ہے، فیصلے میرٹ پر ہوں گے، اور کسی کو رشوت یا سفارش کی ضرورت نہیں ہوگی۔
بدقسمتی سے، پاکستان میں سرطان کی طرح پھیلی بدعنوانی اور غیر شفاف عمل نے سرمایہ کاری کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ کئی سرمایہ کاروں نے یہی کہا کہ "یہاں منصوبے تعلقات سے چلتے ہیں، قانون سے نہیں۔" امن و امان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے، مگر بیرون ملک پاکستان کا تاثر اب بھی ماضی میں اٹکا ہوا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک نیا چہرہ پیش کرے: ایک محفوظ، جدید اور پ±رامن پاکستان۔ اسی کے ساتھ، تجارتی تنازعات کے لیے کمرشل عدالتوں کا قیام نہایت ضروری ہے۔ کوئی بھی کمپنی تب تک مطمئن نہیں ہو سکتی جب تک ا±سے یہ یقین نہ ہو کہ کسی نا انصافی کی صورت میں اسے جلد انصاف ملے گا۔ اور اس کی سرمایہ کاری محفوظ ہو گی۔ پاکستانی سفارت خانے دنیا بھر میں موجود ہیں، مگر ان کی اکثریت صرف سفارتی پروٹوکول تک محدود ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ بقیہ دنیا کی طرح ہمارے سفارت خانے معاشی سفارت کاری (Economic Diplomacy) کے مراکز بنیں۔ وہاں سرمایہ کاروں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے جائیں جو انہیں مکمل رہنمائی فراہم کریں انہیں قائل کریں اور ان کی حکمرانوں تک رسائی ممکن بنائیں۔
اب جب دنیا جدید خطوط پہ استوار آن لائن اجازت نامے اور ڈیجیٹل دستخطوں سے کاروبار چلا رہی ہے، پاکستان میں اب بھی ”صاحب دفتر میں نہیں ہیں“ کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں صوبائی و وفاقی حکومت کو دیر کئے بغیر ڈیجیٹیلائزیشن کی طرف جانا ہو گا۔ پاکستان کو اب صرف وعدوں سے نہیں، عمل سے ترقی چاہیے۔ اگر حکومت درج ذیل کچھ اقدامات کرے تو سرمایہ کاری کے دروازے بڑی تیزی سے کھل سکتے ہیں:
 ایک خودمختار انویسٹر فسیلیٹیشن اتھارٹی قائم کی جائے جو وفاق اور صوبوں کے درمیان پل کا کام کرے۔ پورے ملک میں یکساں طور پہ ون ونڈو آپریشن کا آغاز ہو تاکہ سرمایہ کار کو ایک ہی جگہ سے تمام سہولتیں ملیں۔ تجارتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ سرمایہ کار کا اعتماد بحال اور سرمایہ محفوظ رہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنائے جائیں تاکہ سارا عمل آن لائن ہو اور کسی دفتر کے چکر نہ لگانا پڑیں۔ سفارتی سطح پر انویسٹمنٹ سیل قائم کئے جائیں تاکہ دنیا بھر کے سفارت خانوں میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولت مراکز کو عمل میں لایا جائے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی پروگرام شروع کریں تاکہ وہ حکومتی و پرائیویٹ شراکت سے محفوظ سرمایہ کاری کر سکیں۔ اور سب سے بڑھ کر حکمران پوری دنیا کی بزنس کمیونٹی کے لئے دروازے کھولیں، سرمایہ کاروں کو عزت دیں اور انہیں مل کر قائل کریں کہ وہ پاکستان کا رخ کریں۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان کے دروازے بند نہیں، لیکن کھلے بھی نہیں ہیں۔ وہ نیم وا دروازے ہیں جن پر دستک دینے والا تھک جاتا ہے۔ دنیا ہم سے بہت آگے نکل گئی ہے، اور اگر ہم نے اپنے نظام کو یکسر نہ بدلا، تو آنے والے دنوں میں کوئی بھی سرمایہ کار یہاں قدم رکھنے سے پہلے دس بار سوچے گا۔ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ سرمایہ کاری مانگنے سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد کی فضا پیدا کرنے سے آتی ہے۔ جب ایک سرمایہ کار دیکھے گا کہ پاکستان میں سننے والے ہمہ وقت موجود ہیں، پالیسی واضح ہے، اور نظام شفاف ہے، تب وہ خود بخود یہاں آئے گا۔ لیکن جب ارباب اختیار سے ملاقات ہی ممکن نہ ہو گی، جب دروازے بند ہوں گے تو پھر سوال یہی رہ جاتا ہے:
کون آئے گا پاکستان میں سرمایہ لگانے؟ لہٰذا سوچئے۔ دروازے اور دل کشادہ کرتے ہوئے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے آئیڈیل بنائیے۔

ٹیگز: