واشنگٹن : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کو دو ٹوک الفاظ میں 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران فوری طور پر نیا معاہدہ کرے اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرے، بصورتِ دیگر اسے بدترین فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والے پیغام میں کہا گیا ہے کہ اگر الٹی میٹم پر عمل نہ ہوا تو امریکہ ایران کے ان اہم شعبوں کو نشانہ بنائے گا جن پر ملک کا دارومدار ہے۔ تیل کے کنوؤں اور ریفائنریز کی مکمل تباہی۔ ملک کے بڑے بجلی گھروں پر بمباری۔ پانی کی سپلائی: صاف پانی کی فراہمی کے بڑے پلانٹس کو ناکارہ بنانا۔
ایک معروف امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اصل مقصد ایران کے ساتھ مکمل جنگ چھیڑنا نہیں، بلکہ اس قدر دباؤ ڈالنا ہے کہ تہران بغیر کسی مزاحمت کے گھٹنے ٹیک دے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ طاقت کا خوف دکھا کر آبنائے ہرمز کو واگزار کرایا جائے اور ایران کو ایک ایسے معاہدے پر مجبور کیا جائے جو امریکی مفادات کے عین مطابق ہو۔
اس الٹی میٹم کی خبر منظرِ عام پر آتے ہی عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور دفاعی ماہرین اسے خطے کے لیے ایک انتہائی خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے تاحال اس دھمکی پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم تمام نظریں اب اگلے 48 گھنٹوں پر ٹکی ہیں۔