تہران: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہونے کے ساتھ ہی ایران نے امریکہ کے 15 نکاتی منصوبے کے جواب میں اپنی 6 بڑی شرائط پیش کر دی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب ان سٹریٹجک مطالبات کو تسلیم کیا جائے، جس میں امریکی فوجی اڈوں کی بندش اور ہرجانے کی ادائیگی سرفہرست ہے۔
ایرانی اعلامیے کے مطابق، جنگ بندی کے لیے درج ذیل شرائط پر عملدرآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔ایران نے پہلی شرط کے طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اسے ٹھوس بین الاقوامی ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں اس کے خلاف دوبارہ کوئی جنگی کارروائی نہیں ہوگی۔ دوسری بڑی شرط خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں کو بند کرنے کی ہے، جسے ایران اپنی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔
ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جارح قوتیں فوری طور پر پیچھے ہٹیں اور ایران کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے۔ چوتھی شرط کے تحت تمام علاقائی محاذوں (Regional Fronts) پر جنگ کا فوری اور مکمل خاتمہ ضروری ہے۔ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک نئے قانونی رجیم (Legal Regime) پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ آخری شرط میں تہران مخالف میڈیا ہاؤسز کے خلاف کارروائی اور ملک دشمن عناصر کی ملک بدری کا مطالبہ شامل ہے۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی ان شرائط نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ ایران کے جوہری پلانٹس کی بندش کا مطالبہ کر رہا ہے، وہیں ایران نے امریکی فوجی موجودگی کو نشانہ بنایا ہے۔ ان دو متضاد بیانیوں کے بعد خطے میں سفارتی تعطل پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے جنگ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔