حالیہ ہفتوں میں عالمی سیاست نے ایک غیر متوقع رخ اختیار کیا ہے جہاں داخلی احتجاج اور بین الاقوامی معاملات آپس میں جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ امریکہ نے بلا جواز ایران پر حملہ کیا تو ایک مہینے میں ہی اس جنگ کی ہولناکی امریکیوں کی زندگیوں کو متاثر کرنے لگی۔ چنانچہ بیشتر امریکی ریاستوں میں 80 لاکھ سے زائد افراد اس جنگ اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے اور ایران اور فلسطین کے حق میں مضبوط آواز بلند کی۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو حکومت کی تبدیلی کیلئے ایرانیوں کو ایرانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر تو نہ نکال سکے البتہ امریکہ اور اسرائیل کی سڑکوں پر امریکی اور اسرائیلی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے خلاف موثر احتجاج کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ مظاہرے وقتی رد عمل نہیں بلکہ ایران اور فلسطین میں امریکی اور اسرائیلی بمباری سے ہونیوالی تباہی اور انسانی بحران اور امریکی خارجہ پالیسی کی غلط سمت پر بڑھتی ہوئی بے چینی کا مظہر ہیں۔ امریکہ میں ہونیوالے ان احتجاجی مظاہروں کی بازگشت پوری دنیا میں سنائی دی جس نے عالمی سیاسی منظرنامے میں نیا رخ اختیار کیا ہے۔
امریکہ, اسرائیل اور برطانیہ میں جنگ کے خلاف ہونیوالے یہ مظاہرے محض داخلی سیاسی بے چینی کا اظہار ہی نہیں بلکہ وسیع تر عالمی تبدیلی کی علامت ہیں۔ امریکی بالادستی کے خلاف مزاحمت اب صرف مشرق وسطیٰ یا ترقی پذیر ممالک تک محدود نہیں رہی بلکہ خود مغربی اور امریکی معاشروں کے اندر بھی اسکی مضبوط بازگشت سنائی دینے لگی ہے۔ اس تناظر میں امریکی سڑکوں پر ہونے والے احتجاج کو ایک نظریاتی محاذ کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے جس پر ایران 1979 کے انقلاب کے بعد سے کھڑا ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران نے خود کو فلسطینی کاز کا مضبوط حامی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی و اسرائیلی اثر و رسوخ کا سب سے بڑا ناقد قرار دیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں مختلف ملیشیاو¿ں، اور یمن میں حوثی تحریک جیسے عناصر کی حمایت ایران کی ایک جامع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جو روایتی عسکری طاقت سے کہیں آگے جاتی ہے۔ ایران نے براہِ راست فوجی تصادم کے بجائے ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا ہے جو نظریاتی ہم آہنگی اور مقامی اتحادیوں کے ذریعے اس کے اثر و رسوخ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس حکمت عملی کو عموماً محورِ مزاحمت کہا جاتا ہے، جو ایران کو بغیر براہِ راست جنگ میں اترے خطے کے مختلف حصوں میں اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
یہ حکمت عملی ایران کیلئے کئی حوالوں سے مو¿ثر ثابت ہوئی ہے۔ مشرقی بحیرہ روم سے لیکر خلیج فارس تک ایران نے ایک ایسا اثر و رسوخ قائم کیا ہے جو اسکے مخالفین کیلئے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔ لبنان، شام، عراق اور یمن میں اسکی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران نے 47 سالہ امریکی پابندیوں اور محدود وسائل کے باوجود خطے میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے۔ اس تناظر میں ایران کی طاقت کو ”نیٹ ورکڈ پاور“ کہا جا سکتا ہے جو براہِ راست کنٹرول کے بجائے تعلقات، نظریات اور مقامی شراکت داروں کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھتی ہے۔
ایرانی اثر و رسوخ علاقائی بالادستی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ بالادستی کا مطلب صرف اثر و رسوخ نہیں بلکہ ایسا تسلط ہے جسے دیگر ریاستیں تسلیم کریں اور جسکے تحت وہ اپنی پالیسیوں کو ہم آہنگ کریں۔ معاشی میدان میں ایران کو طویل عرصے سے پابندیوں، داخلی کمزوریوں اور عالمی منڈیوں سے محدود روابط جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ عوامل اسکی داخلی ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ عسکری طور پر ایران نے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی میں پیش رفت ضرور کی ہے لیکن اسکی روایتی فوجی طاقت اب بھی امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں کمزور سمجھی جاتی ہے۔ حالیہ جنگ نے ایران کی استقامت اور امریکی کمزوریوں کو ظاہر کیا ہے۔
سفارتی سطح پر ایران کے تعلقات خطے کے کئی اہم ممالک کے ساتھ پیچیدہ ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے میں ایران کی عسکری پوزیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، خاص طور پر ان غیر ریاستی گروہوں کی حمایت کو جو انکے نزدیک عدم استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ اگرچہ وقتاً فوقتاً تعلقات میں بہتری کے آثار بھی سامنے آتے ہیں لیکن مجموعی طور پر اعتماد کا فقدان امن کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اسکے باوجود ایران کی حکمت عملی میں لچک اور موافقت قابلِ ذکر ہے۔ اسکا غیر مرکزی اور غیر روایتی طریقہ کار دباو¿ کے باوجود اسے فعال رہنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ “محورِ مزاحمت” ایک ایسا ڈھانچہ ہے جو بیک وقت کئی محاذوں پر سرگرم رہ سکتا ہے اور مخالف قوتوں کیلئے اسے مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔
امریکہ بھر میں حالیہ زوردار مظاہرے جنگ میں ایران کی امریکہ اور اسرائیل پر واضح برتری کی کہانی سناتے ہیں۔ یہ مظاہرے اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادیں تیزی سے کمزور ہو رہی ہیں اور عالمی سطح پر اسکے خلاف شدید ردعمل بڑھ رہا ہے۔ ایرانی بیانیہ یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ مغربی مداخلت پسندی کے خلاف توانا آواز اب مغرب کے اندر سے بھی اٹھ رہی ہے۔
ان مظاہروں کو ایران کی مکمل کامیابی قرار دینا حقیقت کے انتہائی قریب ہوگا۔ فلسطینی کاز کو عالمی سطح پر وسیع ہمدردی حاصل ہے جو کسی ایک ملک یا نظریے تک محدود نہیں۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں مظاہرین کی بڑی تعداد انسانی حقوق اور انصاف کے اصولوں کے تحت احتجاج کرتی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ میں احتجاج کرنے والے ایران کی علاقائی پالیسیوں کی حمایت میں احتجاج کریں نہ کریں لیکن اس وقت وہ ایران کو حق پر سمجھتے ہیں۔ امریکہ کا سیاسی نظام ایسا ہے جہاں عوامی احتجاج فوری طور پر امریکی خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لا سکتا۔ وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ ایک نہایت پیچیدہ خطہ ہے جہاں مختلف عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے تحت سرگرم ہیں۔ امریکہ، روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ ساتھ ترکی اور اسرائیل جیسے علاقائی کھلاڑی بھی اس خطے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں کسی ایک ملک کا مکمل غلبہ قائم کرنا انتہائی مشکل ہے۔
ایران نے خود کو ایک ایسے اہم اور حوصلہ مند کھلاڑی کے طور پر منوایا ہے جو نہ صرف مزاحمت کی علامت ہے بلکہ خطے کے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کی بھر پور صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اسکے اتحادی اور اسکا نظریاتی بیانیہ اسے ایک خاص برتری فراہم کرتے ہیں۔ سعودی عرب, ترکی, ایران اور پاکستان امت مسلمہ کے رہنما ممالک ہیں۔
ایران کو مکمل علاقائی بالادست طاقت کے طور پر دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اس کا اثر و رسوخ اگرچہ نمایاں ہے، لیکن اسے مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔ معاشی دباو¿ اور عسکری محدودیت جیسے عوامل اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایران نے اپنی حکمت عملی کے ذریعے خطے میں ایک مضبوط اور بااثر مقام حاصل کیا ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے چینی اور احتجاجی رجحانات نے اس سے بیانیے کو تقویت دی ہے اسکی حقیقی بالادستی چند قدم ہی دور ہے۔ ایران ایک اہم، مضبوط اور باصلاحیت علاقائی طاقت ہے مگر اسے ایک غیر متنازع مسلم قائد کے طور پر تسلیم کیے جانے میں ابھی وقت درکار ہے۔ البتہ آبنائے ہرمز سے امریکی سڑکوں تک ایران کی بالادستی ایران کی فتح کی کہانی سنا رہی ہے۔