بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے چلنے والی بولان ایکسپریس دہشت گردوں کے ہاتھوں لہولہان ہونے کے سترہ دن بعد مرہم پٹی کے بعد دوبارہ پٹڑی پر آگئی ہے۔ کئی سو مسافر منتظر تھے جنہیں عید کی چھٹیوں میں پنجاب اور خیبرپختونخوا کی طرف سفر کرنا تھا۔ اسے دعائوں کے ساتھ رخصت کیا گیا کہ بخیریت اپنی منزل تک پہنچے۔ مسافروں نے بتایا وہ دوران سفر ایک لمحہ کے لئے بھی آنکھ بند نہ کر سکے۔ دھڑکا لگا رہا کسی بھی لمحے کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر خیر ہی گزری۔
بلوچستان کے حوالے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ذمہ داران اور ارباب اختیار کے بارے میں شکوہ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے فرائض سے غفلت برتی جو کام کرنے والے تھے وہ نہ کئے جو نہ کرنے چاہئے تھے ان پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہی کچھ مشرقی پاکستان میں دیکھنے میں آیا، وہاں بندوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ یہ لوگ تدریس کے شعبے میں ایک منصوبے کے تحت آئے انہیں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی مدد حاصل تھی۔ یہ مشرقی پاکستان میں مسلمان بچوں کو پاکستان اور بالخصوص مغربی پاکستان سے محبت نہیں نفرت پڑھاتے تھے۔ یوں جن بچوں نے پندرہ برس سے بیس برس تک نفرت کا سبق پڑھا اور انہیں یہ ازبر کرا دیا گیا، پاکستان کے خلاف اٹھنے والی ’’بنگلہ دیش‘‘ تحریک میں انہوں نے پاکستان سے محبت کرنے والوں، اس کے لئے آواز بلند کرنے والوں کے بے دریغ گلے کاٹے۔
ستر کی دہائی کے وسط تک پاکستان کے ہر شہر سے تعلق رکھنے والا استاد، وکیل اور ڈاکٹر بلوچستان کے ہر شہر میں موجود تھا۔ بلوچ ان میدانوں میں نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک منصوبے کے تحت غیر بلوچی اساتذہ، وکلاء اور ڈاکٹروں کا قتل شروع ہوا۔ لوگ قربانیاں دیتے رہے اور حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کرتے رہے۔ جب پانی سر سے گزرتا دیکھا تو نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ ان لوگوں کی نقل مکانی سے پیدا ہونے والا خلاء پر کرنے کیلئے زندگی کے ہر شعبے میں کوالیفائیڈ بلوچ نہ تھے۔ ایک منصوبے کے تحت بندوں کی بہت بڑی تعداد ہر اہم جگہ نظر آنے لگی۔ یہ لوگ اسی خفیہ انداز میں ایک منصوبہ کے تحت آگے بڑھتے گئے جس طرح کبھی قادیانی سرنگیں لگا رہے تھے پھر یہ تعلیم کے شعبے میں آئے پھر انہوں نے مشرقی پاکستان کی طرح بلوچ بچوں کو پاکستان سے نفرت کا سبق پڑھایا جو اب ان کے ذہنوں میں
جگہ بنا چکا ہے۔ اسے کھوجنے میں وقت لگے گا وہ بھی اس صورت اگر کوشش شروع ہو گی۔ پاکستان آرمی اور بعض دوسرے اداروں کی کاوشوں سے اس منصوبے کو بھانپتے ہوئے سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو وظائف دے کر پنجاب کے اعلیٰ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے لئے سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں۔ بلوچستان میں گھر سے روانہ ہونے سے لے کر اعلیٰ تعلیم کے تمام مراحل طے کر کے واپس بلوچستان پہنچنے تک ان کے اخراجات حکومت پاکستان برداشت کر رہی ہے جو ایک بہت اچھا منصوبہ ہے۔ کیڈٹ کالج قائم کئے گئے ہیں۔ بلوچ نوجوانوں کو مسلح افواج میں شامل ہونے کیلئے نسبتاً کچھ رعایتیں بھی حاصل ہیں۔ اسی طرح پنجاب یونیوسٹی اس کے تمام ڈیپارٹمنٹس کے علاوہ لاء کالج لاہور اور انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں سینکڑوں بلوچ طلباء و طالبات ماسٹر اور اس سے آگے کی تعلیم حاصل کرتے نظر آتے ہیں لیکن اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے جسے ترجیح اول ہونا چاہئے۔ اگلے مرحلے میں فارغ التحصیل بلوچ طلباء اور طالبات کو روزگار مہیا کرنا ہو گا۔ بلوچستان میں جس ملک دشمن پراپیگنڈے نے نوجوان نسل کو پاکستان سے دور کرنے کی کوششیں کی ہیں اسی پراپیگنڈے نے اہل پاکستان کو بلوچوں سے کرنے کی کوششیں بھی کی ہیں جن میں ایک منفی تاثر یہ دینے کی کوششیں کی گئی ہیں کہ بلوچستان کا ہر سردار اور ہر نواب ظالم ہے، اس کی جیلیں موجود ہیں، وہ حقوق غصب کرتا ہے اور پاکستان کا مخالف ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔بلوچستان کے نواب اور سرداروں کی اکثریت محب وطن پاکستانی ہے۔ وہ پاکستان اور اہل پاکستان کیلئے مثبت ترین سوچ رکھتے ہیں۔ وہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی انہیں ایک غیر ملکی سازشی ایجنڈے کے تحت قومی سیاسی دھارے سے دور رکھا جا رہا ہے۔ یہ المیہ ہے، ان نواب صاحبان اور سردار صاحبان نے جب بھی اسلام آباد، لاہور میں اپنے قیام کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندہ شخصیات سے ملاقاتیں کیں تو ایک مثبت تاثر ہی سامنے آیا۔ ان آوازوں کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو ان کا حق تھا۔
پاکستان میں ایک طبقہ موجود ہے جو بلوچستان کو جب بھی دیگر صوبوں اور مرکز کے قریب آتا دیکھتا ہے وہ بدگمانی بڑھانے کے لئے اپنی کوششیں تیز کر دیتا ہے۔ ایسا ہی منظر 23مارچ یوم پاکستان کودیکھنے میں آیا۔ ایوان صدر میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو مختلف اعزازات سے نوازا گیا۔ یہاں پورا پاکستان تو موجود تھا لیکن بلوچستان نظر نہیں آیا۔ اڑھائی سو سے زائد سول ایوارڈ دیئے گئے۔ اتنے ہی فوجی اعزازات تھے جو شہیدوں کے اہل خانہ اور غازیوں نے وصول پائے، جن کا تعلق بلوچستان سمیت ملک کے ہر صوبے سے تھا لیکن سول ایوارڈ کے معاملے میں انصاف نہیں ہوا۔ پورے بلوچستان سے کوئی ایک کھلاڑی، فنکار، اداکار، موسیقار، شاعر، ادیب، ماہر تعلیم، سماجی رہنما، ملک کا نام روشن کرنے والا اپنے ساتھ بلوچستان کے ساتھ پاکستان کی پہچان بنانے والا دستیاب نہ ہوا جسے ایوان صدر بلا کر اس کی عزت افزائی کی جاتی۔ میڈیا کو خصوصی ہدایات جاری کی جاتیں کہ ان کے انٹرویو اہتمام کے ساتھ نشر کئے جائیں۔ ان کے تاثرات حاصل کئے جائیں اور ملک کے کونے کونے تک پہنچائے جائیں۔ یہ سب کچھ بہت آسانی سے ہو سکتا تھا مگر نہیں کیا گیا۔ صوبائی دارالحکومت میں ایسی تقریبات چھوٹے پیمانے پر منعقد ہوئی ہیں۔ لوگوں کو اعزازات بھی ملے ہیں لیکن ’’جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا‘‘۔
کرکٹ کے بین الاقوامی مقابلے پاکستان کے ہر شہر میں ہو سکتے ہیں تو کچھ میچ کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں کیوں نہیں رکھے جا سکتے پھر بلوچستان کے ایک شہر صرف کوئٹہ میں ہی ایک سٹیڈیم کیوں دیگر شہروں میں اس کے بعد پچھتر برس میں اور کوئی سٹیڈیم کیوں نہ بن سکا۔ اب تو جشن سبی بھی ایک خواب ہو کر رہ گیا ہے۔ نیشنل میڈیا میں بلوچستان نظر کیوں نہیں آتا صرف اسی روز دکھایا جا تا ہے۔ جب وہاں کوئی خودکش دھماکہ ہو جائے یا سکیورٹی اداروں کے کانوائے پر حملہ ہو جائے، مجرمانہ طرزعمل کب ختم ہو گا؟ ایسے سلسلہ ختم کر کے بلوچستان کو گلے لگائیں، دہشت گرد مٹھی بھر ہیں وہ ختم ہو جائیں گے۔