Wed, September 16, 2026

غلط فہمیوں کے مُضر اثرات

غلط فہمیوں کے مُضر اثرات

حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ افسوسناک حدتک کمی آئی ہے اِس کی ایک تو وجہ یہ ہے کہ ملک روئی کی پیداوار میں خود کفیل نہیں رہا اور درآمدکرنے پر مجبورہوناہے جبکہ مہنگی توانائی ایسامسئلہ ہے جس نے کپڑے کی صنعت کوبندہونے کے مقام پر لاکھڑاکیا ہے حالانکہ ماضی میں یہ شعبہ زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا اہم ذریعہ رہا ہے علاوہ ازیں پاکستان خوراک میں بھی خود کفیل نہیں رہا اِس کی وجوہات بھی مہنگی بجلی سے منسلک ہےں جب فصلوں پراِس حدتک بھاری اخراجات آئیں گے کہ کسانوں کوپوری لاگت بھی واپس نہیں ملے گی تو کاشتکاری سے گریز ہی ہوگا اورانجام کارملک کو درآمدپر انحصار کرنا پڑتاہے۔ زرعی ملک ہونے کے باوجود گندم،خوردنی تیل، فروٹ سمیت روزمرہ کی اشیا درآمد کی جارہی ہےں اِس حوالے سے حکومت کو فوری طورپر منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ درآمدی اخراجات میں کمی آئے۔
پاکستان اِس وقت ایسے دوراہے پر ہے جہاں زرعی ملک کی شناخت کامنصب تو چِھن چکامگر صنعتی بھی نہیں بن سکا اِس وقت اگر ملک میں کوئی نفع بخش کاروبار ہے تو وہ رہائشی منصوبے ہیں کاشتکار بھی اراضی بیچ کر یا تو خاندان کے افرادکو بیرونِ ملک بھیجنے کی تگ ودو میں ہیں یا پھرحاصل ہونے والی رقوم دیگر کاروباروں میں لگا رہے ہیں اِس رجحان سے ملک کا زرعی رقبہ خطرناک حد تک کم ہو رہا ہے۔
 مزیدیہ کہ ملک آبی قلت کابھی شکارہے موسمیاتی تغیرالگ بڑامسئلہ ہے زرعی رقبے کا مسلسل کم ہونا تشویشناک ہے حکومت کو چاہیے کہ زرعی اراضی پر رہائشی منصوبوں کی حوصلہ شکنی کرے اورصرف بے آباد زمینوں پررہائشی منصوبے بنانے کی اجازت دے کسانوں کو معیاری بیج ،کھاداور سستی بجلی دے تاکہ فصلوں کی لاگت پوری ہو اور کاشتکاری منافع بخش ہو اگر زرعی رقبہ موجودہ رفتار سے کم ہوتا رہا تو رہاتوزراعت کے لیے رقبہ خطرناک حدتک کم ہو سکتا ہے جس سے بڑی آبادی کے لیے ملک خوراک کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت ہمیشہ کے لیے کھودے گا۔
 علاوہ ازیں ایسی فصلوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جوکم پانی سے پرورش پائیں بلکہ موسمی تغیرکاسامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اب اِس میں کوئی شبہ نہیں رہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر آبی جارحیت شروع کررکھی ہے وہ ایک طرف تو برسات میں سیلاب کے پانی سے نقصان پہنچاتا ہے تو بقیہ عرصے میں پانی روک کر قحط جیسی صورتحال کوجنم دینے کی کوشش میں ہے اگر حکومت دیگر مصروفیات کم کرکے زرعی منصوبہ بندی پر دھیان دے تو صورتحال کسی حدتک بہتر ہو سکتی ہے۔
درآمدات بڑھنے اور برآمدات کم ہونے سے زرِ مبادلہ کے ذخائرشدید دباﺅ میں ہیں اگر سعودی عرب مددنہ کرے تو معاشی صورتحال مزید عدم توازن کا شکار ہو سکتی ہے۔ حالات کاتقاضا ہے کہ پاکستان برآمدات بڑھائے کم ازکم خوراک میں خود کفالت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تاکہ درآمدی اخراجات کم ہوں اورمزید قرضے حاصل کرنے کی ضرورت نہ رہے۔
 بجٹ کابڑا حصہ آٹھ ہزار ارب روپے قرضوں کے سود کی صورت میں ادا کرنا ہے ضرورت اِس امر کی ہے کہ حکومت اپنے اخراجات کم کرے اور سادگی کاعوام سے مطالبہ کرنے کے ساتھ خود بھی ایسا کرے ۔
ملک میں توانائی کاشعبہ ایک ایسے پیچیدہ بحران میں ڈھل چکا ہے جس نے نہ صرف صنعتی اورزرعی ترقی کوروک رکھا ہے بلکہ ملک میں مہنگائی کی بدترین لہرکاموجب ہے نجی بجلی گھروں کو استعدادی صلاحیت کے مطابق ادائیگی کرنے کے عمل نے معیشت کو لاغر کردیاہے ایک محتاط اندازے کے مطابق 2022سے لیکر 2026تک بجلی کی پیداواری کمپنیوں کوتیرہ ہزار تین سو ستانوے ارب روپے کی ادائیگی کی گئی جس میں سے صرف 6121ارب روپے بجلی کی لاگت تھی جبکہ 7275 ارب بجلی کی ایک یونٹ لیے بغیر ہی تھما دئیے گئے ایک ایسا ملک جسے قرضوں کی ادائیگیوں میں مشکلات کاسامنا ہے اتنی بڑی رقم ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ستم ظریفی تو یہ ہے کہ چاہے جس جماعت کی بھی حکومت ہو ایسی ادائیگیاں مسلسل جاری ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ نجی بجلی گھروں کے مالکان کا تعلق بااثر خاندانوں سے ہے اسی لیے عوامی اور ریاستی مفاد قربان کیاجارہاہے اور اُن کے مفاد کے منافی فیصلہ کرنے سے حکومت گریزاں ہے اگر حکومت استعدادی صلاحیت کے مطابق ادائیگی کرنے جیسے عوام اور ریاست مخالف معاہدوں پر نظرثانی کرے تو اتنی رقم کی بچت ہو سکتی ہے جس سے ملک عالمی مالیاتی اِداروں کے چنگل سے نکل سکتاہے۔
اگر حکومت عوامی ہونے کی دعویدار ہے تو اُسے اپنے فیصلوں سے ثابت بھی کرنا چاہیے کہ وہ عوام دوست ہے دنیا بھر میں کسی ملک میں ایساطریقہ کار نہیں کہ روزانہ کی بنیادپر تیل کی قیمتوں کا تعین کیا جائے۔

ٹیگز: