Wed, September 16, 2026

روزانہ تھوڑی تھوڑی تکلیف

روزانہ تھوڑی تھوڑی تکلیف


جس روز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت روزانہ بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا، اس وقت سے اب تک تقریبا دو ہفتے گزر چکے ہیں اور پٹرول کی قیمت میں 36روپے کے قریب اضافہ ہو چکا ہے۔ یعنی تقریباً18 روپے فی ہفتہ کے حساب سے اضافہ ہو ا ہے۔ اس سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر تبدیل ہوتی تھیں جبکہ اس سے بھی پہلے پندرہ روزہ بنیادوں پر بھی ہوتی رہی ہیں۔ 
جن دنوں حکومتیں ماہانہ یا پندرہ روزہ بنیاد وں پر پٹرول کی قیمتیں تبدیل کرتی تھیں ، ان دنوں میں پٹرول کی قیمت ایک یا دو روپے بھی بڑھتی تو عوامی رد عمل بہت شدید ہوتا تھا۔اب اتنا ہی رد و بدل روز ہوتا ہے اور کسی کو پتا بھی نہیں چلتا۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا ہے کہ گزشتہ تقریباً دو ہفتے کے دوران پٹرول کی قیمت میں 36 روپے کے قریب اضافہ ہوا ہے۔ 
یہ کم و بیش پندرہ دن ہی کا عرصہ بنتا ہے۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ 36 روپے کا اضافہ اس دور میں ہوا ہوتا جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل پندرہ روز کے بعد ہوتا تھا، یا پھر 18 روپے فی ہفتہ کے حساب سے اضافہ اس دور میں ہوا ہوتا جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر ہفتے ہوا کرتا تھا تو عوام کی چیخ پکار کا کیا عالم ہوتا۔
سو حالیہ صورت حال میں جس کسی نے بھی حکومت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں روزانہ کی بنیادوں پر بڑھانے کا مشورہ دیا ہے، وہ نہایت ہی عقلمند اور دانا شخص ہے، جو انسانی نفسیات سے بہت اچھی طرح واقف ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ کسی کو ایک ہی بار تکلیف دینے کی بجائے تھوڑی تھوڑی تکلیف دینا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس کا رد عمل زیادہ نہیں آتا۔ پندرہ دن یا ہفتے بعد قیمتیں بڑھنے سے لوگ ایک ہی بار سخت رد عمل کا اظہار کر دیتے ہیں لیکن اب روزانہ کون روئے دھوئے اور ردعمل ظاہر کرے، لوگوں کو زندگی گزارنے کے لیے اور بھی بہت کچھ کرنا ہوتا ہے۔ ایک یہی کام تھوڑی ہے ان کے پاس۔
روزانہ بڑھنے والی قیمتوں پر تبصرہ کرنا ہم ایسے لکھاریوں کے لیے بھی مشکل ہوتا ہے کہ وہ کس پر لکھیں کیونکہ ان کے لکھنے کی باری تو ہفتے میں ایک آدھ بار آتی ہے اور قیمتوں میں ردو بدل ان کے ”قابو“ میں نہیں رہتا۔ انہیں عام طور پر گزشتہ روز کے واقعے پر لکھنا ہوتا ہے جبکہ وہ شائع اگلے روز ہوتا ہے، یوں وہ جس دن کی قیمت میں اضافے پر غور کر رہے ہوتے ہیں، لکھتے وقت اس اضافے میں معمولی کمی ہو چکی ہوتی ہے اور اشاعت کے روز مزید اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ ایسے میں پڑھنے والے مختلف طبقات خود کو یہ سوچنے پر مجبور پاتے ہیں کہ کالم نگار نہ جانے کس دنیا میں رہ رہا ہے۔
اس کی مثال یوں لے لیجیے کہ جب یہ سطور تحریر کی جا رہی ہیں تو گزشتہ روز پٹرول کی قیمت میں ایک روپے 9 پیسے کا اضافے کے بعد نئی قیمت 336 روپے 15 پیسے لٹر مقرر ہو چکی ہے۔ یہ قیمت صرف آج کا دن چلے گی لیکن یہ تحریر آپ تک کل پہنچے گی اور جس وقت آپ یہ سطور پڑھ رہے ہوں گے، اس وقت نہ جانے اس قیمت کی کیا صورت حال ہو گی۔ 
ممکن ہے اس قیمت میں کمی ہو چکی ہو جس کا کہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ قیمت مزید بڑھ جائے، جس کا کہ امکان بہت زیادہ ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ قیمت میں کوئی تبدیلی نہ ہو۔ اگر قیمت میں تبدیلی نہ ہوئی تو آپ کو لگے گا کہ یہ تازہ کالم ہے کیونکہ اس میں پٹرول کی وہی قیمت درج ہے جو اس وقت چل رہی ہے لیکن اگر یہ کالم اشاعت کے لیے بھیجنے کے بعد قیمت میں مزید اضافہ ہو گیا اور نئی قیمت 337 یا 338 سے بھی تجاوز کر گئی تو آپ کو لگے گا کہ جان بوجھ کر قیمت کم لکھ کر اس کالم کے ذریعے آپ کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے اور اگر بالفرض محال پٹرول کی قیمت کچھ پیسے کم ہو گئی اور 336 روپے پندرہ پیسے کی بجائے 335 روپے 90 پیسے کے قریب آ گئی تو قیمتیں بڑھانے والوں کو لگے گا کہ کالم نگار نے مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے ۔
خیر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام کو روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی کا جو ٹیکا لگایا جا رہا ہے ، عوام اس پر سخت رد عمل کا اظہار کریں یا نرم رد عمل کا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ اس سے شدید پریشان ہیں۔ شان کا کہنا ہے کہ روز پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ 
پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے۔ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، اشیا کی نقل و حمل پر زیادہ خرچ آتا ہے اور نتیجے کے طور پر ہر چیز کی لاگت بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی قیمت بڑھانا مجبوری بن جاتا ہے۔ اس کابوجھ دکاندار اور خریدار دونوں پر پڑتا ہے۔ لوگ خریداری کم کرتے ہیں جس کے باعث دکانداروں کا مال کم بکتا ہے اور یوں معیشت کا پہیہ سست ہو جاتا ہے۔
یہ درست ہے کہ امریکہ ایران جنگ کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل مہنگا ہوا ہے اور امریکہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی مہنگائی عروج پر ہے لیکن جس رفتار سے وطن عزیز میں مہنگائی دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہے ،اس سے اچھے بھلے لوگوں کی کمریں بھی ٹوٹتی چلی جا رہی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت جس تناسب سے کم ہوتی ہے، کبھی اس تناسب سے ملک میں قیمتیں کم نہیں کی جاتیں لیکن جیسے ہی قیمتوں کے عالمی سطح پر بڑھنے کا اعلان ہوتا ہے۔
 فوری طور پر اسی تناسب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ اس بات پر بھی خفا ہیں کہ حکومت نے جب قیمت کم کرنا ہوتی ہے تو چند پیسوں میں کرتی ہے لیکن جب بڑھانا ہوتی ہیں تو کئی کئی روپوں کی اکٹھی چھلانگ لگا دیتی ہے جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا ہوش ربا طوفان آ چکا ہے۔ حکومت عوام کو روزانہ تھوڑی تھوڑی تکلیف ضرور دے لیکن ان پر اتنا بوجھ ڈالے جسے ان کی ناتواں کمر اٹھا سکے ۔

ٹیگز: