اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تیل کی سپلائی کے پورے نظام کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مدد سے مؤثر نگرانی کے دائرے میں لایا جائے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور بے ضابطگیوں کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔
انہوں نے اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد کار سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ایندھن کی ترسیل کی نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جدید ٹریکنگ نظام سے رہنمائی لیتے ہوئے ایک مؤثر اور جامع مانیٹرنگ میکنزم تیار کیا جائے۔
وزیراعظم نے اوگرا کو مزید فعال اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے اس کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نجی شعبے سے باصلاحیت اور تجربہ کار ماہرین کو مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر شامل کیا جائے تاکہ ادارے کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ ہو۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اوگرا کی تنظیمِ نو اور اصلاحاتی عمل کے لیے ہر ممکن تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعاون فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال یا نظام میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے تمام ریگولیٹری اداروں اور ان سے متعلق وزارتوں کے درمیان مربوط اور مؤثر رابطے کا نظام قائم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔
وزیراعظم نے منظور شدہ پالیسی کے تحت ملک کی آئل ریفائنریوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عمل میں تیزی لانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اصلاحاتی پروگرام پر ہر ادارے میں بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ اوگرا نے بندرگاہ سے لے کر پٹرول پمپ تک تیل کی سپلائی کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل نظام کے نفاذ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
حکام نے آگاہ کیا کہ نیشنل مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، ٹینکر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ڈپو ٹینک ٹیلی میٹری، "راہگزر" موبائل ایپ اور سینٹرل مانیٹرنگ سیل جیسے جدید نظام مکمل طور پر فعال ہیں، جن کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، نقل و حمل اور فروخت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2026 میں ڈیٹا پر مبنی نگرانی کے دوران ذخیرہ اندوزی اور سپلائی میں غیر ضروری رکاوٹوں کے متعدد واقعات سامنے آئے، جس پر متعلقہ عناصر کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی۔
وزیراعظم نے اوگرا کے اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کو جلد از جلد مکمل طور پر نافذ کیا جائے تاکہ تیل و گیس کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو اور نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کو ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور مناسب نرخوں پر دستیابی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے، لہٰذا اس ضمن میں کسی قسم کی غفلت، بدعنوانی یا بے قاعدگی برداشت نہیں کی جائے گی۔