کراچی: ملک کے مختلف شہروں میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر نئی بلندیاں چھو لیں، جس سے قیمتی دھات خریدنے والوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 30 ہزار 436 روپے تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2 ہزار 572 روپے بڑھ گئی، جس کے بعد اس کا نرخ 3 لاکھ 69 ہزار 29 روپے مقرر کیا گیا۔
صرافہ مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں جاری تیزی اور کمی کے رجحان کا براہِ راست اثر پاکستان کی مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں معاشی بے یقینی، مرکزی بینکوں کی شرح سود اور مالیاتی حکمتِ عملی، مہنگائی میں اضافہ اور محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب سونے کی قیمتوں کو اوپر لے جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب عالمی مالیاتی ماحول غیر مستحکم ہوتا ہے تو سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں، جس سے اس کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں مزید بلند ہو جاتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر عالمی حالات میں بہتری نہ آئی تو آنے والے دنوں میں سونے کے نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ادھر صرافہ بازار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث زیورات کی فروخت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے۔ خریدار اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ سوچ سمجھ کر خریداری کر رہے ہیں، جبکہ شادیوں کے موسم میں بھی زیورات کی طلب محدود دیکھی جا رہی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان میں سونے کی آئندہ قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ کے رجحان، امریکی ڈالر کی قدر اور بین الاقوامی اقتصادی حالات پر ہوگا۔ اگر عالمی سطح پر قیمتوں میں کمی یا استحکام نہ آیا تو مقامی مارکیٹ میں بھی سونا مزید مہنگا ہونے کا امکان برقرار رہے گا۔