ریاض: ریاض میں سعودی وزارتِ دفاع کی میزبانی میں ایک اہم بین الاقوامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مجوزہ کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام اور عالمی سمندری سلامتی سے متعلق مختلف امور پر جامع مشاورت کی گئی۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اجلاس میں 43 ممالک کے عسکری سربراہان اور اعلیٰ سطح کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ سعودی عرب میں تعینات یورپی یونین کے وفد نے بھی اجلاس میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 51 ممالک اور بین الاقوامی ادارے بذریعہ ویڈیو لنک یا براہِ راست شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران سعودی عرب کی پیش کردہ بحری دفاعی اتحاد کی تجویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کا بنیادی مقصد عالمی سمندری گزرگاہوں کو محفوظ بنانا، بحری سلامتی کو مستحکم کرنا اور سمندری خطرات سے مشترکہ حکمتِ عملی کے ذریعے نمٹنا ہے۔
شرکا نے تجارتی بحری جہازوں، توانائی کی ترسیل کرنے والے ٹینکروں، بندرگاہوں اور دیگر بحری تنصیبات کو لاحق خطرات کے علاوہ عالمی تجارتی راستوں اور سپلائی چین کے تحفظ سے متعلق اہم نکات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں بحری سلامتی کے لیے مشترکہ دفاعی تعاون کو مزید مؤثر اور منظم بنانا ناگزیر ہے تاکہ بین الاقوامی تجارت اور سمندری نقل و حمل بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق اجلاس میں مجوزہ اتحاد کے تنظیمی ڈھانچے، کمانڈ سسٹم، انتظامی امور، حکمتِ عملی اور آئندہ کے عملی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بحری دفاعی اتحاد کے قیام سے متعلق ضروری انتظامات جلد مکمل کیے جائیں گے تاکہ اس منصوبے کو عملی شکل دی جا سکے۔
اجلاس کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ 14 ممالک نے باضابطہ طور پر اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں سعودی عرب، پاکستان، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، مصر، اردن، یمن، بنگلہ دیش، عمان، جبوتی اور صومالیہ شامل ہیں۔
سعودی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد عالمی اور علاقائی سطح پر سمندری سلامتی کو مضبوط بنانے، بحری تجارت کے تحفظ اور اہم آبی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گا۔
اجلاس کے اختتام پر شریک ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بحری خطرات سے نمٹنے، آزادانہ سمندری آمدورفت کو یقینی بنانے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔