Wed, September 16, 2026

تحریک کی ناکامی کی وجوہات

تحریک کی ناکامی کی وجوہات

جس تحریک نے 5اگست کو بام عروج پر پہنچنا تھا وہ شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو گئی ۔ یہ بات ہم نہیںکہہ رہے بلکہ خود بانی پی ٹی آئی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہی ہے کہ پارٹی میں تحریک کے حوالے سے دلچسپی نہیں ہے ۔ آج کی گفتگو میں اسی بات کا جائزہ لیںگے کہ آخر تحریک انصاف کی جانب سے دی گئی حکومت مخالف ہر تحریک ناکامی سے دو چار کیوں ہوتی ہے لیکن اس سے پہلے تحریک ہی کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کی امریکہ یاترا ناکام کیوں ہوئی چند گذارشات اس پر کرنا از حد ضروری ہے کیونکہ احتجاجی تحریک اور دونوں بیٹوں کا امریکہ کا دورہ دونوں کا ایک ہی مقصد تھا یعنی عمران خان کی رہائی ۔ خان صاحب کے بیٹے سلمان خان اور قاسم خان جب امریکہ گئے تو ان کے دورے کو بہت اہمیت دی گئی اور میڈیا خاص طور پر سوشل میڈیا پر اس دورے کو جس قدر اہم بنا دیا گیا تھا اس سے لگتا تھا کہ اس دورے کے کچھ نہ کچھ نتائج تو بہرحال نکلیں گے اور ٹرمپ انتظامیہ کے کسی اہم فرد سے نہ صرف یہ کہ ملاقات ہو گی بلکہ اس ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خان صاحب کی رہائی کے لئے بھی حکومت پاکستان کو کوئی پیغام بھی دیا جائے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور امریکہ میں کسی سرکاری اہل کار سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ رچرڈ گارنیل ، جو ولسن اور ایک دو اور لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی جو پہلے بھی خان صاحب کے حق میں ٹویٹ کرتے رہے ہیں اور پھر ایک دعوت کی تصاویر اور پھر لندن واپسی ۔ یہ ہے اس دورہ امریکہ کی مکمل داستان کہ جس کا بڑا چرچا تھا ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب دونوں صاحبزادے امریکہ گئے تو امریکہ میں تحریک انصاف کی پوری تنظیم کہاں تھی ۔ وہاں تو حکومت کی جانب سے ان کے استقبال کے لئے کوئی پابندی یا رکاوٹیں نہیں تھیں اور نہ ہی کسی لاٹھی گولی اور آنسو گیس اور پکڑ دھکڑ کا خطرہ تھا تو ان کا استقبال کیوں نہیں کیا گیا ۔ چلیں اگر استقبال نہیں کیا گیا تو وہ طرم خان وی لاگر جو پی ٹی آئی اور خان صاحب کی رہائی کا چورن بیچ کر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں پتی ہو چکے ہیں وہ لندن سے ان کے ساتھ کیوں نہیں گئے یا انھیں کیوںنہیں بھیجا گیا لیکن اسے بھی رہنے دیںتو امریکہ میں قاسم سوری ، معید پیرزادہ اور شہباز گل جیسے بندے جو امریکہ میں بیٹھ کر امریکہ سے آزادی کی جنگ لڑ کر بانی پی ٹی آئی کو آزادی دلوانے کی جنگ لڑ رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کا نام بیچ کر کروڑوں ڈالر کما رہے ہیں انھوں نے ان سے ملاقات تک کرنا گوارہ کیوں نہیں کیا ۔ اس کے علاوہ سب سے اہم کہ وہاں پر ان کی امریکن میڈیا سے ملاقات کا تو اہتمام کیا جاتا ۔ کسی واشنگٹن پوسٹ یا سی این این سے انٹرویو کیوں نہیں ہوا اور کم از کم پاکستانی کمیونٹی سے ان کا ایک خطاب تو لازمی ہونا چاہئے تھا لیکن کچھ نہیں ہوا اور اس سے بہتر تو زلفی بخاری کا دورہ رہا کہ انھوں نے کچھ اور نہیں تو کم از کم انسانی حقوق کی کمیٹی سے ملاقات تو کی ۔
اب بات کرتے ہیں ان غنچوں پہ کہ جو بن کھلے مرجھا گئے یعنی اس تحریک پر کہ جو شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی سے دو چار ہو چکی ہے ۔ پہلی بات کہ خان صاحب کے بیٹوں کے حوالے سے علیمہ خان صاحبہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 5اگست کی تحریک میں شامل ہونے کے لئے پاکستان آ رہے ہیں لیکن اب میڈیا کی خبروں کے مطابق امریکہ میں تحریک انصاف کی تنظیم نے دونوں بیٹوں سے جس سرد مہری کا سلوک کیا ہے تو اس کے بعد ان کی والدہ جمائما نے انھیں پاکستان آنے سے روک دیا ہے ۔ تا دم تحریر یہی خبریں ہیں ۔ اب اس ایک خبر کے اس تحریک پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اس لئے کہ خان صاحب کے بیٹوں کی پاکستان آمد تحریک انصاف کے ہاتھ میں ایک ٹرمپ کارڈ تھا اور ان کی آمد کی خبر سے یقینا تحریک انصاف کے کارکنوں کو متحرک ہونے کے لئے ایک وجہ ملی تھی ۔ اس پر خان صاحب کا یہ بیان کہ تحریک کے لئے پارٹی میں سستی نظر آ رہی ہے ۔ یہ بیان بھی منفی اثرات کا باعث بنا ہے ۔ اس کے علاوہ بیٹوں کے نہ آنے سے وسیع سطح پر ایک یہ سوچ بھی کارکنوں میں سرایت کرتی ہے کہ اگر جمائما خان اپنے بچوں کو پاکستان بھیج کر رسک میں نہیں ڈالنا چاہتی کہ جن کے والد کا مسئلہ ہے تو دوسروں کو اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ یہ بات طے ہے کہ اگر وہ پاکستان آتے ہیں تو حکومت ان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن اقدام کرتی لیکن یہ بات اب تحریک انصاف والوں کو کون سمجھائے ۔
پھر اگر تحریک چلانا ہوتی ہے تو اس کے لئے ہر سطح پر وفاق سے لے کر صوبائی اور ضلع اور تحصیل تک ہر جگہ کارکنوں کے اجلاس بلائے جاتے ہیں پوری ملک میں تنظیم کو متحرک کیا جاتا ہے لیکن پہاں حالت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اپنے گھر خیبر پختون خوا کے شہر مالاکنڈ میں اجلاس ہوتا ہے اور اس میں 7ارکان صوبائی اسمبلی شرکت ہی نہیں کرتے اور پھر انھیں شو کاز نوٹس دیئے جاتے ہیں ۔ اب کہا گیا ہے کہ یکم اگست کو تحریک کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس ” وڈی ساری تحریک “ کے لئے خود تحریک انصاف کی جانب سے اتنے بیک فائر کر دیئے گئے ہوں تو اس کے بعد کسی بھی قسم کا لائحہ عمل کیا تیر مار لے گا ۔

ٹیگز: