Wed, September 16, 2026

گدھے کے گوشت کا انکشاف ۔۔ حقیقت کچھ اور 

گدھے کے گوشت کا انکشاف ۔۔ حقیقت کچھ اور 

صاحبو ، مہنگائی کے اضافے کو روکنا ہے او ر سچ بھی ہے حکومت کے روزانہ کے بیان کے مطابق نہ جانے کتنے سال کے بعد پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہوگئی ہے ، یہ بیان دیکر وزراءنہ جانے اپنے لئے کیوں گناہ کما رہے ہیں چونکہ عام آدمی کی تو مہنگائی سے چیخیں نکل رہی ہیں، نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میںملک سے باہر جانے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ایک اوورسیز میں رہنے والے کے حوالے سے یہاں ان نوجوانوں کویہ ہی کہہ سکتا ہوںکے کہ ملک کی معیشت کی درستی کی دعا کریں، کوشش کریں ، ملک سے باہر جاکر اپنے وطن کی مٹی کے خوشبو سے محروم ہوجائینگے ، اس بات کو اپنا نعرہ بنائیں ” گھر تو آخر اپنا ہے “ صرف مہنگائی ہی عوام کی مایوسی کا سبب نہیں وہ جب اشرافیہ کو دیکھتے ہیں ، اشرافیہ کو قانون سے بالا تر دیکھتے ہیں تو مایوسی میں مزید اضافہ ہوتا ہے، حکومتی رٹ نظر نہیںآتی اسکا اظہار وزراءبھی کرتے ہیں کہ ہم اصلاح کی کوشش کرتے ہیں دیانتداری سے مگر احکامات پر عمل نہیں ہوتا ، یا عام آدمی اس سے مستفید نہیں ہوتا۔ اگر وزیر اعظم یا وزراءکے عوام دوست اعلانات پر عمل نہیں ہوگا تو پھر کونسا ملک سنبھل سکتا ہے یا ترقی کرسکتا ہے قارئین چھوڑیں ان دکھ بھری باتوں کو ، اسی ملک میں اپنی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے اب عوام کو گدھے کا گوشت کھلا رہے ہیں، گدھے ، کتے ، گھوڑے ، خچر کے گوشت کے استعمال کی خبریںکوئی نئی نہیں کراچی ، لاہور ، اسلام آباد کے شہری اس سے مستفید ہوتے رہے ہیں ۔ سعودی عرب ، پاکستان یہاں تک کہ یہودیوں کیلئے بھی گدھے کا گوشت حرام ہے ، مگر ہمارے ہاںپیسہ کمانے کے خواہش مند اپنے آپ کو اسلام کے دائرہ کار سے باہر سمجھتے ہیں ، ڈھکے چھپے گدھے کا گوشت پاکستان میں استعمال ہوتا ہے انہیں محکمہ فوڈ اتھارٹی کاآشیر باد ہوتا ہے جو اپنی ذاتی معیشت کی بہتری کیلئے حرام گوشت کے سلسلے میں اپنی آنکھیں بند رکھتے ہیں ، گدھا، گھوڑے ، کتے ، خچر کے گوشت کے علاوہ بڑے پیمانے پر مردہ مرغیوںکا استعمال اکثر ہوٹل کرتے ہیں بس محکمہ فوڈ سے ” علیک سلیک “ ہونا ضروری ہے ، حال میں اسلام آباد میںبڑے پیمانے پر گدھے کے گوشت کی خبرپر عوام نے مذاق بنا لیا اور وزراءسیاست دانوں پر گدھے کے گوشت کے حوالے سے سیاست دانوںکی کارکردگی پر سوال اٹھانے لگے ، ایک خاتون نوشین وسیم نے کہا کہ گدھے کا گوشت اہل اسلام آباد اسلئے کھا رہے ہیں تاکہ گدھے کی طرح محنت کرسکیں مگر وہ بھی نہیں کررہے شائد صحت مند گدھے نہ ہوں۔ خبروں میں ان مشہور ہوٹلوں کا بھی ذکر آیا جہاںایک طویل عرصے سے گدھے کا گوشت فراہم کیا جارہا تھا ، میڈیا کے مطابق محکمہ فوڈسے کئے گئے وعدوں میں تاخیر ہوگئی جس وجہ سے یہ مسئلہ سامنے آ گیا۔ کچھ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود حرام گوشت شوق سے کھاتے ہیں مجھے یاد ہے کہ میںایک مرتبہ چین میں تھا ،ہم سیاحتی ادارہ ہمیں دیوار چین دکھانے لے گیا ،میرے ہمراہ ایک امریکہ پائلٹ بمعہ اپنی بیگم کے تھا ، ایک مصری نوجوان بھی تھا ،ایک ریسٹورانٹ میں ہم نے کھانا کھایا ، میرے سامنے بیٹھے ایک مسلمان مصری نے ایک حرام جانور جسکا نام لینا بھی مسلمانوں میں گناہ ہے کا گوشت منگایا ، میںنے امریکن جوڑے سے پوچھا کہ تم لوگ بھی تو یہ کھاتے ہو ، اس نے کہاکہ ہم کھاتے ہیں مگر اس احترام میں نہیںکھارہے کہ تم ہمارے ساتھ ہو اور تم اسے حرام سمجھتے ہیں مجھے شرمندگی ہوئی چونکہ میرے سامنے بیٹھا مسلمان اسی حرام گوشت کی ڈش کو ”پھوڑ “رہا تھا ۔ اسکے باوجود کہ گدھے ، گھوڑے ، خچر کے گوشت کی کیمیا کو دیکھا جائے تو گدھے کا گوشت صحت کے لیے اچھا ہو سکتا ہے اگر اسے صحیح طریقے سے حاصل کیا جائے، تیار کیا جائے اور پکایا جائے۔ کچھ ثقافتوں میں، اسے ایک لذت سمجھا جاتا ہے اور اس کے غذائی فوائد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خرابی ہے ، سائنس بیان کرتی ہے کہ گدھے کے گوشت میں پروٹین کی اچھی مقدار ہوتی ہے جو کہ پٹھوں کی مرمت اور مدافعتی کام کے لیے ضروری ہے۔گائے یا بھیڑ کے مقابلے میں اس میں چکنائی کی مقدار کم ہوتی ہے ۔ آئرن اور وٹامینز سے بھر پور ہوتا ہے جو توانائی اور دماغی صحت کیلئے بہتر ہے، جوڑوں کے درد میں اس کی کھال مفید ہوتی ہے ، مگر ہمارے عظیم مذہب میںجن معاملات پر منع کیا ہے تو اسکے بہت سے نقصانات ہیںآج دنیا بھر میں لوگ جو خنزیر کا گوشت کھارہے تھے سائنس نے اس کے شدید نقصانات بیان کئے ہیں جس 
وجہ سے وہ بھی اسے کھانا چھوڑ چکے ہیں ۔ پاکستانی فوڈ سیفٹی قوانین گدھے کا گوشت پیش کرنے پر سختی سے پابندی لگاتے ہیں، جسے اسلام میں حرام سمجھا جاتا ہے، محکمہ فوڈ پاکستان کہتا ہے کہ ریستورانوں استعمال ہونے والے کھانے خاص طور پرمناسب معائنہ سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے تو پھر یہ پاکستان کے مختلف شہروںمیں کتے، گدھے کی کہانیاں کیوں جنم لیتی ہیں جس پر مسلمان ممالک ہم پر ہنستے ہیں یہ معاملہ ہے حکومتی رٹ اور متعلقہ محکموںکی نااہلی جو یقینی رشوت ہوتی ہے۔ حکومت پاکستان گدھے کا گوشت برآمد کر رہی ہے ۔ چین کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے گدھے کا گوشت اورضمنی مصنوعات برآمد کررہا ہے گزشتہ سال جولائی 2024 میں، پاکستان نے چین کو گدھے کی کھال اور گوشت برآمد کرنے کی اجازت دینے والے برآمدی پروٹوکول کو حتمی شکل دی فروری 2025 میں، پاکستان کے پہلے قانونی گدھے کے ذبح خانے نے گوادر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں تجارتی کارروائیاں شروع کیں، گدھے کے گوشت، ہڈیوں اور کھالوں کو برآمد کرنے کے لیے تیار کیا گیا۔اسلام آباد میں بھی دراصل ایک ذبح خانہ تھا جہاں گدھے کا گوشت اور زندہ گدھوں کو دھر لیا گیا گدھے کی کھالیں (جیلیٹن خاص طور پر ای جیا¶ بنانے میں استعمال ہوتی ہیں) اور گوادر میں پروسیس ہونے والا گوشت چین بھیج دیا جاتا ہے۔پاکستان کا چین کے ساتھ سالانہ تقریباً 200,000 سے زیادہ گدھوں کی لاشوں کے ساتھ کھالوں کو برآمد کرنے کے معاہدے موجود ہیں، جس وجہ سے گدھوںکی قیمتوں میں دیگر اشیاءکی طرح ڈرامائی اضافہ ہوگیا ہے ، چھاپوںکا تعلق غیر قانونی ذبح خانوں سے ہے ، اسلام آباد میںہوٹلوں میں سپلائی اللہ اعلم مگر یہ محکمہ فوڈ اور میڈیا کی نااہلی ہے جس نے یہ بتایا کہ یہ ہوٹلوں میں سپلائی ہورہا تھا دراصل گوادر کے قانونی ذبح خانوں تک گدھوںکو ذبح کرنے کی تلقین ہے چین بڑی مقدار میں گدھے کا گوشت اور کھالیں درآمد کر رہا ہے چین میں کھانوں میںحلال و حرام کا تصور نہیں ہے چین درآمد شدہ گدھوں ، خچروںکو غذ ا کے علاوہ اسکی کھال اور گوشت سے خون کی گردش کو بہتر بنانے ، بے خوابی یا خشکی کا علاج و جلد کو بہتر کرنے والی ادویات بناتا ہے جسے خاص طور خواتین اپنے چہروں پر لگاتی ہیںچین ہر سال 4سے 6ملین کھالیںدرآمد کرتا ہے چین کی ہوٹلوں میں ہر چیز کی ڈش ہوتی ہے میرے سوال پر چینی دوست کا کہنا تھا ” جنت میں ڈریگن کا گوشت ہے، زمین پر گدھے کا گوشت ہے“۔'چین میں گدھے کا گوشت بہترین سٹریٹ فوڈ کہلاتا ہے۔ 

ٹیگز: