واشنگٹن : امریکہ نے بھارت میں قائم سات کمپنیوں پر پابندیاں لگا دی ہیں، جس کی وجہ ان کمپنیوں کا ایران سے تیل خریدنا بتایا جا رہا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کی تیل کی تجارت مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے اور ایران اپنے عوام کا استحصال بھی کر رہا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید اعلان کیا ہے کہ 20 ایسی کمپنیوں پر بھی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں جو ایرانی تیل کی تجارت میں ملوث ہیں، جبکہ 10 بحری جہازوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی جو ایرانی تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی نقل و حمل کر رہے ہیں۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد درآمدی ٹیرف اور اضافی مالیاتی جرمانے عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر بھارت کے تجارتی رویے پر سخت تنقید کی اور کہا کہ بھارت امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ تجارت کر رہا ہے، جس کے ٹیرف اور غیر مالیاتی رکاوٹیں غیر قابلِ قبول ہیں۔
امریکہ کی طرف سے بھارت پر یہ دباؤ عالمی تعلقات اور بھارتی معیشت پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے تعلقات میں پہلے ہی کئی مسائل موجود ہیں۔