میرے ایک کولیگ نے اپنا کیرئیر بنانے کیلئے بیرون ملک منتقل ہونے کا خواب دیکھا۔ اپنے خواب کی تکمیل کیلئے اس نے ایک ملک کا انتخاب کیا۔ ایک ایجنٹ کے ساتھ معاملات طے ہوئے۔ ادائیگی بھی ہو گئی۔ اس کا خیال تھا کہ وہاں اپنا مستقبل بہتر بنا کر زندگی آسان کر لے گا۔ روانگی سے ایک ہفتہ قبل اس کا ایجنٹ کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا۔ یعنی ایجنٹ غائب ہو گیا اور اس کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں اب وہ ایجنٹ کی تلاش میں اِدھر ادھر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہے۔ بظاہر یہ کولیگ قانونی طریقے سے ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کا ایجنٹ غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرنے والا انسانی سمگلر ہے۔ یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، ایسی ہزاروں داستانیں ہمارے ارد گرد بکھری پڑی ہیں۔ لاکھوں نوجوان اچھے مستقبل کا خواب سجائے بیرون ملک جانے کیلئے قانونی اور غیر قانونی طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ گذشتہ چند ماہ میں ایسے کتنے ہی تلخ واقعات ہمارے سامنے آ چکے ہیں، جن میں اپنی جمع پونجی لگا کر جانے کی کوشش کرنے والے بیشمار چراغ راستے میں گل ہو گئے۔ رونگٹے کھڑے کر دینے والے کشتی حادثات اور سرحدی سانحات نے کتنے ہی ایجنٹوں کے چہرے سے نقاب اتارا جو ہر عمر کے افراد کی سمگلنگ میں ملوث تھے۔ یوں بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ نوجوان بہتر مستقبل کی خاطر سمگل ہونے پر خود مجبور ہوئے۔ ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کر راستوں کے ظلم کا شکار ہو کر جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ غیر قانونی طور پر ملک سے باہر جانے والوں کا المیہ یہ ہے کہ انہیں اس حوالے سے راہنمائی اور معلومات کا فقدان ہے۔ لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے تو کتنے ہی خاندان اپنے پیاروں کے جانی نقصان سے محفوظ رہ جائیں۔ ان حالات میں جو چند افراد یا ادارے انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے معاشرے میں شعور اجاگر کرنے میں مصروف ہیں، ان کا کردار قابل تحسین ہے تاہم اس سرگرمی کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او) نے بہت کام کیا ہے۔ ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس ایک متحرک نوجوان ہیں جن کی قیادت میں سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن نے چاروں صوبوں میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹیرینز کو بھی انگیج کیا ہے۔ آگاہی کیلئے سیمینارز اور خصوصی نشستوں کے اہتمام کے ذریعے ایس ایس ڈی او کوشش کرتی ہے کہ قانون ساز پارلیمنٹیرینز بالخصوص اس ضمن میں اپنے اپنے علاقوں اور سوشل سیکٹر میں فعال کردار ادا کریں۔ اندرون کے ساتھ ساتھ بیرون ملک میں بھی ایس ایس ڈی او ہیومن ٹریفکنگ کے خلاف بے تحاشا کردار ادا کر رہی ہے۔ پاکستان میں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کیلئے ایس ایس ڈی او کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جس نے پارلیمنٹرینز کو اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔ یہی نہیں، بلکہ ایس ایس ڈی او نے دوسرے ممالک کے سفارتخانوں کو بھی اپنی مہم میں شامل کر رکھا ہے اور انہیں اپنا مؤثر کردار ادا کرنے پر آمادہ کیا ہے۔یہ اٹل حقیقت ہے کہ غیر قانونی امیگریشن سے ملکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کئی ممالک میں پاکستانیوں کیلئے قوانین اور پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے جائز طریقے سے جانے والوں کیلئے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ پاکستانی حکومت نے انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے مربوط حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ اکثر علاقوں میں کریک ڈاؤن بھی کیا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایف آئی اے بھی سرگرم عمل ہو چکی ہے، اس کے باوجود تاحال انسانی سمگلروں کا پلڑہ بھاری ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایف آئی اے کو اس مکروہ دھندے میں ملوث مافیا کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ برین ڈرین اگر قانونی طریقے سے ہو تو غلط نہیں، تاہم نوجوانوں کو بیرون ملک قسمت آزمانے کیلئے قانونی راستے اختیار کرنے کا اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔ غیر قانونی مائیگریشن کی روک تھام ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج سے نبٹنے کیلئے سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)کی کوشش ہے کہ پارلیمنٹیرینز اس ضمن میں چینج ایجنٹ بنیں اور کمیونٹی میں شعور پیدا کریں ایس ایس ڈی او چاہتی ہے کہ ایک لانگ ٹرم ایکشن پلان تشکیل دیا جائے جو معاشرے میں آگاہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو مائیگریشن کیلئے قانونی ذرائع کے استعمال کی جانب راغب کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی پر مشتمل ہو۔ اس ضمن میں ڈسٹرکٹ یوتھ ڈائیلاگ کے انعقاد سمیت غیر قانونی ہیومن ٹریفکنگ کے حوالے سے ابلاغ کے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر آگاہی، معلومات اور راہنمائی پھیلانی چاہئے قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ ایس ایس ڈی او کی کاوشوں کی بدولت پنجاب یونیورسٹی میں اس حوالے سے کورس پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر سمسٹر میں شامل کیا جا چکا ہے جس سے یقینی طور پر نوجوانوں میں شعور اجاگر ہوگا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (ایس ایس ڈی او)او سید کوثر عباس یہ کورس دیگر یونیورسٹیوں کے نصاب میں بھی شامل کرانے کیلئے پرعزم ہیں جبکہ پارلیمنٹیرینز کی مدد سے اس پیغام کو گراس روٹ لیول تک پہنچانے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا مضبوط اور محفوظ نظام قائم کیا جائے، جو انسانی سمگلروں کے سامنے چٹان بن کر کھڑا ہو اور نوجوانوں کے لیے محفوظ، روشن اور قانونی مستقبل کی ضمانت بنے تاکہ خاندانوں کے قیمتی افراد لاعلمی سے المیے تک کا سفر طے کرنے سے بچ سکیں۔