Wed, September 16, 2026

شکستِ فاش: بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ خاک میں، دشمن کے قدم اکھڑ گئے

شکستِ فاش: بلوچستان میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ خاک میں، دشمن کے قدم اکھڑ گئے

کوئٹہ: بلوچستان میں بد امنی پھیلانے کی ایک اور مذموم سازش کو پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فولادی عزم کے ساتھ کچل دیا۔ کالعدم بی ایل اے (BLA) کی جانب سے نام نہاد "آپریشن ہیروف 2.0" کا آغاز کیا گیا تھا، جسے فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت جوابی کارروائی نے چند ہی گھنٹوں میں مکمل ناکامی سے دوچار کر دیا۔
 کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر پولیس اور ایف سی نے حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 4 دہشت گردوں کو موقع پر ہلاک کر دیا۔    ہیڈ کوارٹرز کا دفاع: نوشکی اور دالبندین میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملوں کی کوشش کو جوانوں نے دلیری سے ناکام بنایا۔ فورسز کی جوابی فائرنگ سے دہشت گرد پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گئے۔
 قلات میں ڈی سی آفس اور پولیس لائنز سمیت گوادر، پسنی اور مستونگ میں سیکیورٹی پوسٹوں پر ہونے والے حملے ناکام بنا دیے گئے، جس سے کسی بھی بڑے نقصان کا راستہ روک لیا گیا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بشیر زیب، اللہ نذر اور ہربت یار مری جیسے مفرور رہنما افغانستان اور دیگر بیرونی پناہ گاہوں میں بیٹھ کر بلوچستان کے نوجوانوں کو اپنی سیاسی دکان چمکانے کے لیے موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کو بی وائی سی (BYC) اور بی این ایم (BNM) جیسے پروپیگنڈا نیٹ ورکس بعد میں 'لاپتہ افراد' کے طور پر پیش کر کے عالمی برادری کو گمراہ کرتے ہیں۔
حالیہ کامیاب آپریشنز میں 50 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت نے بی ایل اے کے نیٹ ورک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حملے اسی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں، تاہم ریاست پاکستان کسی بھی قیمت پر اپنی سرزمین اور عوام کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

ٹیگز: