اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی کی طبی سہولیات اور صحت کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہوگئی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کو قانونی راستہ دکھا دیا جبکہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نے اپنی ہی اتحادی جماعت کے دعوؤں کی ہوا نکال دی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کو سرکاری ہسپتال پمز (PIMS) کے ڈاکٹروں پر بھروسہ نہیں، تو وہ عدالت میں درخواست دائر کریں۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ وہ 'ضدی بچے' کی طرح نہیں بلکہ ایک ذمہ دار سیاسی جماعت کی طرح برتاؤ کرے۔ طبی معائنے جیسے حساس معاملے کو سڑکوں پر احتجاج کے بجائے قانونی فورم پر حل کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن اتحاد کے اہم رہنما اور محمود خان اچکزئی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے جاری تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے بارے میں کیا جانے والا پروپیگنڈا حقیقت سے دور ہے۔ ان کی صحت اتنی خراب نہیں ہے جتنا پی ٹی آئی کی قیادت اسے سوشل میڈیا اور بیانات میں پیش کر رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کا یہ بیان پی ٹی آئی کے لیے کسی "سرپرائز" سے کم نہیں، کیونکہ وہ خود اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر تحریک چلا رہے ہیں۔ اس بیان سے اپوزیشن اتحاد کے اندر پیدا ہونے والے ممکنہ دراڑوں کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔