خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل خان آفریدی پنجاب تشریف لائے، چند دن رہے، خوب ہلہ گلہ کیے اور چلے گئے۔ 36 سالہ سہیل آفریدی اور ان کے ساتھ آنے والے طوطا مینا خان جیسے لوگوں نے یہاں جو گند پھیلایا، لسانی گند ہی نہیں بلکہ عملاً بھی گندگی پھیلا کر گئے، ان کی حرکات کو سیاست کی ناپختگی اور ذہانت کی کمی کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ سوال کرنا صحافی کا حق ہے اور جواب دینا یا نہ دینا جس سے سوال کیا جاتا ہے اس کا استحقاق مانا جاتا ہے۔ آفریدی جب بڑے طنطنے سے آئے تھے، پنجاب میں سیاست کرنے، اپنے ہمنواﺅں کو تحریک چلانے کے لئے آمادہ کرنے، کہ وہ مرشد کی رہائی کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور نظم حکمرانی درہم برہم کر کے حکمرانوں کو جھکنے پر مجبور کر دیں، پنجاب میں تحریک انصاف حکمران جماعت کے بعد بڑی اکثریتی حزب اختلاف کی جماعت ہے۔ آفریدی صاحب پنجاب اسمبلی میں گئے وہاں ان کے ساتھی چوکیداروں سے لڑ پڑے، لوگ چھوٹوں کے منہ نہیں لگتے، چیف منسٹر کے ساتھ آنے والوں کی یہ شان نہیں کہ وہ گارڈوں سے لڑائی کریں لیکن انہوں نے کی، ڈٹ کر کی، کیمرے کی آنکھ سے کروڑوں لوگوں نے ان کی اس حرکت کا مشاہدہ کیا پھر اسمبلی کوریڈور کے اندر ایک صحافی کے سوال کے جواب میں آفریدی صاحب نے جس غلیظ زبان کا استعمال کیا اس پر کیا تبصرہ کیاجائے۔ صحافی صحافی ہوتا ہے وہ سوال نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔ آپ اس کے مہمان تو نہیں ہیں کہ وہ آپ سے آپ کے بیوی بچوں کا حال احوال دریافت کرتا اس نے ایک سوال کیا۔ تھوڑی دیر کے لئے انصافی موقف مان لیتے ہیں کہ وہ پلانٹڈ صحافی تھا حالانکہ لاہور پریس کلب کے معروف صدر (سابق) رئیس انصاری نے ٹیلی ویژن شو میں اس صحافی کے پریس کلب کے عہدیدار ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔ مان لیتے ہیں تھوڑی دیر کے لئے کہ اسے پلانٹ کیا گیا تھا اس لئے اس نے نامعقول سوال پوچھا تھا جواباً آفریدی صاحب نے جو واہی تباہی کہی اور وہ آﺅٹ ہو گئے یعنی پلانٹڈ صحافی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔ آفریدی صاحب کوئی چج کی بات کر ہی نہیں سکے۔ گالی گلوچ پر اتر آئے اس طرح یہاں پنجاب کے مرکز لاہور میں ان کا تاثر ایک عام درجے کے انصافی بھائی کا ابھرا۔ وہ اپنے آپ کو ایک چیف منسٹر کے طور پر منوا نہیں سکے، ان کا سارا دورہ بس ایسے ہی رہا۔ ناکامی کا تاثر دے کر وہ واپس لوٹ گئے۔ پنجاب میں آئے تھے اپنے انصافی بھائیوں کو جگانے، انہیں ہمت دینے بلکہ ان کی ہمت بندھانے کہ نکلو مرشد کے لئے، مرشد کی آزادی کے لئے لیکن وہ تو اپنے ممبران پنجاب اسمبلی کو ہی نہیں جگا سکے۔ آفریدی صاحب آئے تو بڑے طمطراق کے ساتھ تھے، پنجاب فتح کرنے لیکن انہیں منہ کی کھانا پڑی ہے۔ سیاست میں تو ان کی بوالعجبیاں تو ہمیں پہلے سے ہی معلوم تھیں، ان کی کج ادائیاں معروف ہیں، جھوٹ اور دروغ گوئی کے ذریعے سیاست میں زندہ رہنے کی کاوشیں کرتے رہے ہیں لیکن صحافت میں انہوں نے ایسا ہی کچھ کرنے کی کوشش کی جس میں انہیں صریحاً ناکامی ہوئی ہے، انہیں شاید احساس ہو گیا ہو گا کہ یہ لاہور ہے اور لاہور لاہور ہے، پشاور نہیں۔ یہاں زندہ دلان بستے ہیں، ان کے دل دھڑکتے ہیں اور وہ مسلم لیگ ن کی عوام دوست پالیسیوں کو سراہتے ہیں، یہاں اب مرشد کا جادو چلنے والا نہیں ہے صرف ایک صحافی نے ایک سوال کے ذریعے ہی سہیل آفریدی کو اپنی اصلیت دکھانے پر مجبور کر دیا صرف ایک سوال نے ہی آفریدی صاحب کو اپنے کپڑوں سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا اور اس طرح ان کا دورہ لاہور مکمل طور پر وڑ گیا، ناکام ہو گیا۔ اس بات کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ اس طرح دو صوبوں کے درمیان ہی نہیں بلکہ پنجاب اور پشتون کے درمیان بھی نفرت کی فضا ابھرے گی۔ ہم افغانوں سے،غیر قانونی طورپر یہاں بسنے والے افغانوں سے جان چھڑانے کے لئے کاوشیں کر رہے ہیں، انہیں ملک بدر کر رہے ہیں۔ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لئے کی جانے والی کاوشوں میں ایسے افغانوں کی ملک بدری بھی شامل ہے، اس سے بھی یہاں ہمارے ہاں پشتون زیادہ خوش نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی تو اس حوالے سے منفی سیاست بھی کر رہی ہے۔ سہیل آفریدی کے ساتھ یہاں لاہور میں جو کچھ ہوا، ان کی اپنی حرکات کے باعث ان کا دورہ ناکام ہوا، اس سے انہیں اپنی منفی سیاست چمکانے کا اور بھی موقع ملے گا۔ پنجاب کے حکمرانوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا موقع بھی ملے گا۔ ظاہر ہے یہ سب کچھ پاکستان کے لئے ، وحدت پاکستان کے لئے درست نہیں ہے۔ حکومت پنجاب نے انہیں تمام سہولیات بہم پہنچائیں جو انہیں درکار تھیں۔ آفریدی صاحب کو یہاں کھلے عام گھومنے پھرنے کی آزادی بھی میسر رہی۔ قانون کے مطابق، ان کے استحقاق کے مطابق انہیں پروٹوکول اور سکیورٹی بھی مہیا کی گئی، انہیں چیف منسٹر پنجاب کی طرف سے ظہرانے یا عشائیے پر بھی بلایا جا سکتا تھا لیکن وہ تو اس حکومت کو جائز ہی تسلیم نہیں کرتے ہیں اس لئے اس حکومت کی طرف سے دعوت دینا یا ان کا قبول کرنا بنتا ہی نہیں ، سو یہ نہیں ہو سکا مگر جو ہوا وہ درست نہیں ہوا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کا ڈی این اے ہی ایسا ہے ، لڑائی جھگڑا، گالم گلوچ، میں نہ مانوں جیسی حرکات ان کا طرئہ امتیاز ہے۔ سہیل آفریدی کا تو خاص طور پر ایسا ہی لیکن سردست انہیں کامیابی نہیں مل رہی ہے۔ 2025ءمیں انہیں کامیابی نہیں ملی، 2026ءبھی ایسا ہی رہے گا۔ جی ہاں ناکامی و نامرادی پی ٹی آئی کا مقدر ہے۔ مرشد جیل میں ہی رہے گا اور انصافی بھائی۔