Wed, September 16, 2026

سیلاب کے باعث پنجاب کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں سکول بند

سیلاب کے باعث پنجاب کے مختلف اضلاع میں سینکڑوں سکول بند

لاہور : پنجاب میں حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث مختلف اضلاع میں کئی سرکاری و نجی سکول بند کر دیے گئے ہیں۔ حکومت نے طلبہ کی حفاظت کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا ہے، جبکہ کچھ سکولوں کو عارضی طور پر ریلیف کیمپس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

لاہور میں 45 سکول بند، باقی کھلیں گے
ڈی سی لاہور سید موسیٰ رضا کے مطابق شہر میں سیلاب سے متاثرہ 33 سرکاری اور 12 نجی سکول بدستور بند رہیں گے۔ ان سکولوں کو متاثرہ خاندانوں کے لیے ریلیف کیمپس میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جن علاقوں میں سکول بند رہیں گے ان میں مراکہ، مانگا، شاداب کالونی، شاہدرہ، سگیاں، بند روڈ، موہلنوال، اور دیگر شامل ہیں۔ لاہور کے باقی تمام سکول کھول دیے جائیں گے۔

قصور میں 107 سکول تاحکمِ ثانی بند
قصور کے متاثرہ علاقوں میں 107 سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ستلج دریا میں سیلاب کے باعث تحصیل قصور، چونیاں اور پتوکی کے سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے۔

نارووال، پاکپتن، شرقپور اور چنیوٹ بھی متاثر
نارووال میں تعلیمی ادارے یکم سے 5 ستمبر تک بند رہیں گے۔ پاکپتن میں دریائے ستلج کی وجہ سے 30 سکول بند کیے گئے ہیں، جن میں 18 پاکپتن شہر اور 12 عارفوالا کے سکول شامل ہیں۔ شیخوپورہ کی تحصیل شرقپور میں 10 سکول بند کیے گئے ہیں۔

چنیوٹ کی صورت حال خاصی سنگین ہے، جہاں 88 سکول سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ دریا کے پانی نے سکولوں کے کمروں تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ اس کے علاوہ 5 بڑے مراکز صحت بھی سیلاب کی زد میں آ چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکولوں کو بند کرنے کا مقصد بچوں اور عملے کی جانوں کا تحفظ ہے۔ متاثرہ سکولوں کی بحالی اور دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

ٹیگز: