Wed, September 16, 2026

حماس نے امریکی امن منصوبے کو مشکوک قرار دے دیا، بیرونی کنٹرول مسترد

حماس نے امریکی امن منصوبے کو مشکوک قرار دے دیا، بیرونی کنٹرول مسترد

یروشلم :فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے غزہ امن منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے تاحال ایسا کوئی باضابطہ منصوبہ موصول نہیں ہوا جس کا ذکر واشنگٹن یا دیگر فریق کر رہے ہیں۔

حماس کے مطابق، "ہم نے منصوبہ صرف میڈیا کے ذریعے سنا ہے، کوئی سرکاری مسودہ موصول نہیں ہوا۔" تنظیم نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی ادارے کو غزہ پر حکمرانی یا نگرانی کا اختیار ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو حماس نے فلسطینی عوام کے لیے "ناقابل قبول" شخصیت قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی خود اپنے مستقبل کے فیصلے کریں گے، کسی بین الاقوامی ایجنسی یا طاقت کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا۔

حماس نے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے ہتھیار عوام کے تحفظ کے لیے ہیں، اور جیسے ہی فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے، یہ ہتھیار ریاستی نظام کا حصہ بن جائیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا تھا، جس میں فوری جنگ بندی، یرغمالیوں کا تبادلہ، مرحلہ وار انخلا، اور ایک عبوری بین الاقوامی حکومت کے قیام کی تجویز شامل تھی۔

ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر حماس نے یہ منصوبہ مسترد کیا، تو اسرائیل کو "امریکا کی مکمل حمایت حاصل ہوگی۔"

ٹیگز: