ہمارے ہاں عوام الناس کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے کب سے یہ کھیل تماشہ چلا آ رہا ہے کہ کبھی کسی ایک بڑی غذائی شے کے ملک میں زیادہ یا کم پیداوار کے فرضی یا حقیقی اعداد و شمار پیش کر کے اُس کی برآمد یا درآمد کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو کبھی کسی دوسری شے کا اسی طرح کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اس دوران اس شے کی مصنوعی قلت کا ماحول بھی پید ا کردیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں اس شے کے نرخوں میں جہاں اضافہ ہو جاتا ہے وہاں اس شے سے متعلقہ کاروبار سے وابستہ افراد یا طبقات کو ناجائز منافع خوری اور اپنی تجوریاں بھرنے کا خوب موقع بھی مل جاتا ہے ۔ زیادہ دور نہیں جاتے پچھلے اور موجودہ سال چینی اور گندم جیسی دو اہم غذائی اشیاءکا ذکر کرتے ہیں جن کے ساتھ یہ کھیل تماشہ دہرایا گیا ہے۔ نگران دورِ حکومت میں بیرون ملک سے غیر ضروری طور پر گندم برآمد کر لی گئی۔ پھر اپریل مئی 2024 ءمیں گندم کی ریکارڈ پیدا وار ہوئی ۔ حکومت نے ایک طرف گندم کی امدادی قیمت مقرر نہ کی اور دوسری طرف برسوں بلکہ عشروں سے جاری گندم کی سرکاری سطح پر خریداری کو بھی بند کر دیا ۔ اس کی وجہ سے کسانوں اور گندم کے کاشتکاروں کا جو نقصان ہوا اور جس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا وہ اپنی جگہ لیکن اس کا نتیجہ یہ بھی سامنے آیا کہ وسط اکتوبر تا وسط دسمبر 2024 ءمیں گندم کی نئی فصل کی بوائی کا موقع آیا تو کسانوں نے گندم کے لیے مخصوص رقبے پر گندم کاشت کرنے کی بجائے کسی دوسری فصل کے کاشت کرنے کو ترجیح دی ۔ اس طرح گندم کے زیرِ کاشت رقبے میں جہاں کمی ہوئی وہاں اس کی وجہ سے اور کچھ بروقت بارشیں نہ ہونے کی بنا پر 2025 ءمیں گندم کی پیداوار 2024ءمیں گندم کی ایک کروڑ تیس لاکھ ٹن ریکارڈ پیداوار کے مقابلے میں کہیں کم ہوئی جسے موجودہ سال کے دوران ملکی ضروریات کے لیے ناکافی سمجھا جا رہا ہے۔
چینی کی پیداوار کے بارے میں نومبر 2024ءسے شروع ہونے والے گنے کے کرشنگ سیزن جسے پچھلا کرشنگ سیزن بھی کہا جاسکتا ہے، سے حکومتی سطح سمیت شوگر ملز مالکان کی سطح پر یہ دعوے سامنے آنا شروع ہو گئے تھے کہ اس سال چینی کی اتنی پیداوار متوقع ہے کہ یہ ملکی ضرورت سے زائد ہو گی اور اسے سنبھالنا اور محفوظ کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ اس کا حل شوگر ملز مالکان نے یہ پیش کیا کہ چینی کی فاضل پیداوار کو بیرون ملک برآمد کرنے کی اجازت ملنی چاہیے جس سے قیمتی زرِ مبادلہ بھی حاصل ہو گا۔ حکومت شروع میں شوگر ملز مالکان کو یہ اجازت دینے کے لئے تیار نہیں تھی لیکن بعد میں وہ اس کے لیے رضا مند ہو گئی اور طے پایا کہ مختلف مراحل میں پانچ لاکھ ٹن تک چینی بیرونِ ملک برآمد کی جاسکے گی۔ اس کے لیے یہ شرط بھی رکھی گئی کہ شوگر ملز مالکان یا شوگر ڈیلرز ملک میں چینی کی قلت نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی چینی کے نرخوں میں جو زیادہ سے زیادہ 150 روپے کلو تک تھے، اُن میں اضافہ کیا جائے گا۔ لیکن ہوا کیا، بالکل اس کے اُلٹ کے رمضان المبارک کے دوران اور اس کے بعد ملک کے کبھی ایک حصے میں اور کبھی دوسرے حصے میں چینی کی قلت کی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔ شوگر ملز مالکان ، شوگر ڈیلرز اور تاجروں نے مارکیٹوں میں ضرورت کے مطابق چینی سپلائی کرنے کی بجائے اس کی سپلائی کو محدود کر دیا جس سے چینی کی مصنوعی قلت ہی پیدا نہ ہوئی بلکہ اس کے نرخوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ بیرون ِ ملک چینی برآمد کرنے سے قبل چینی کے فی کلو نرخ جو زیادہ سے زیادہ 150 روپے فی کلو تک تھے وہ درمیان میں کئی شہروں اور دیہات و قصبات میں 200 روپے فی کلو تک جا پہنچے اور اب بھی 190 روپے فی کلو ہیں۔ اس دوران حکومت نے شوگر ملز مالکان اور شوگر ڈیلرز کے مطالبات کو سامنے رکھتے ہوئے سرکاری سطح پر بھی شوگر کے ایکس مل اور پرچون نرخوں میں کم از کم تین بار اضافہ کیا ۔ پہلے یہ نرخ 163 روپے فی کلو پھر 173 روپے فی کلو اور اب بڑھا کر 177 روپے فی کلو مقرر کیے گئے ہیں۔
چینی کے حوالے سے بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ پہلے اس کی اضافی پیداوار کے دعوے کیے گئے اور پھر آٹھ ، دس ماہ کے بعد ہی یہ کہا جانے لگا کہ ملک میں چینی کی قلت ہو سکتی ہے ، اس لیے پانچ لاکھ ٹن تک چینی برآمد کرنی چاہیے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان چینی کی درآمد کے ٹینڈر منظور کر چکی ہے اور درآمدی چینی کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچے والی ہے لیکن اس سوال کا جواب کون دے گا کہ چینی کی برآمد کے وقت یہ خدشات موجود تھے کہ اس کی قلت ہو سکتی ہے یا اگلے سیزن میں اس کی پیدا وار میں کمی ہو سکتی ہے تو اس کے باوجود اس کی برآمد کی اجازت کیوں دی گئی؟ اس کو یہیں پر چھوڑتے ہوئے گندم کی طرف آتے ہیں کہ موجودہ سال اس کی پیدا وار کیوں کم ہوئی اور اسے ملکی ضروریات کے مطابق ناکافی سمجھتے ہوئے حکومت اس کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کو دی گئی بریفنگ کو سامنے رکھتے ہوئے بات آگے بڑھاتے ہیں۔ رانا تنویر حسین نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس سال گندم کی پیدا وار کم رہی ہے ۔ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی گندم باہر سے منگوانا پڑے گی ۔ کوشش ہے کہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں گندم پالیسی کا اعلان کر دیں۔ دیکھنا ہے کہ گندم پالیسی میں امدادی قیمت رکھی جاتی ہے یا نہیں۔ میں نے تجویز دی ہے کہ گندم کی امدادی قیمت رکھیں ۔ وزیر اعظم بھی گندم سے متعلق مسلسل رابطے میں ہیں اور آئی ایم ایف سے بات کر رہے ہیں کہ گندم پر امدادی قیمت دے سکیں۔ جناب رانا تنویر حسین جومنجھے ہوئے اور سنجیدہ خو بزرگ سیاستدان ہیں۔ اُن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ مختلف قومی معاملات و مسائل کا بہتر ادراک ہی نہیں رکھتے بلکہ ان کے مناسب حل کے لیے تجاویز پیش کرنے کے ساتھ بہتر منصوبہ بندی بھی کر سکتے ہیں۔ اب وہ ملک میں گندم کی پیداوار میں کمی کا رونا رو رہے ہیں اور ساتھ ہی ڈیڑھ ارب ڈالر یعنی 150 کروڑ ڈالر یا 425 کروڑ روپے کی گندم باہر سے منگوانے کا مژدہ سنا رہے ہیں تو سمجھا جا سکتا ہے کہ انہیں سال 2024 ءمیں گندم کی ایک کروڑ تیس لاکھ ٹن کی ریکارڈ پیداوار کے بعد سال 2025 ءمیں گندم کی پیداوار میں ایک بڑی کمی جس کی بنا پر اب باہر سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی گندم منگوانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کی وجوہات کا بھی علم ہو گا۔ کیا یہ ضروری نہیں تھا کہ پچھلے سال وسط اکتوبر تا وسط دسمبر گندم کی بوائی کے موقع پر دیکھاجاتا کہ گندم کی کاشت کے رقبے میں تو کمی نہیں ہو رہی ہے۔ جناب والا ایسے ہوا بالکل ایسے ہوا کسان 2024 ءمیں گندم کی مناسب سرکاری
قیمت مقرر نہ کرنے اور حکومتی اقدامات کے تحت گندم کی خریداری نہ کرنے کی وجہ سے ناراض تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ حسبِ سابق گندم کی معقول امدادی قیمت کا اعلان کیا جائے تو اس کے ساتھ عشروں سے جاری معمول کے مطابق سرکاری سطح پر اُن سے گندم کی خریداری بھی کی جائے۔ لیکن حکومت اس کے لیے آمادہ نہ ہوئی اور طرح طرح کے عذر اور بہانے پیش کرتی رہی۔ معروضی صورتحال کا یہ رُخ انتہائی افسوسناک سمجھا جا سکتا ہے ۔ آئندہ کے لیے اس کا تدارک کیسے ہو اور گندم کی کاشت کے رقبے اور اُس کی پیدا وار میں کمی نہ آنے پائے اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت ابھی سے گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کرے ۔ اس ضمن میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل سید نیر حسین کی رائے بڑی صائب سمجھی جا سکتی کہ حکومت 4500 روپے فی من گندم کی امدادی قیمت مقرر کرے اور اس کا فوراً اعلان کیا جائے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کھادوں کی وافر اوربآسانی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے اور ساتھ کسانوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے کہ حکومت اُن کی فاضل گندم خریدنے کے لیے ضروری انتظامات کرے گی۔ اس سے آئندہ گندم کی پیداوار میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔